نئے سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے عدالت اہم سوالات اٹھادیے 
04 دسمبر 2020 (14:44) 2020-12-04

اسلام آباد  ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے بنائے گئے نئے سوشل میڈیا قواعد کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی   ( پی ٹی اے ) پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر مطمئن کرے کہ قواعد آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم نہیں ہے ۔ 

نئے سوشل میڈیا قواعد کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ  نے  پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  کو سوشل میڈیا رولز پر پاکستان بار کونسل کے اعتراضات کو مد نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ اگر سوشل میڈٰیا قواعد سے تنقید کی حوصلہ شکنی ہوئی تو یہ احتساب کی حوصلہ شکنی ہوگئی ۔ واضح رہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پچھلے ماہ سوشل میڈیا قواعد کا ترمیم شدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ تاہم پاکستان بار کونسل ، انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور سول سوسائیٹی  کے نمائندوں نے نئے قواعد کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اظہار رائے کی آزادی اور شخصی آزادیوں کے خلاف قرار دیا تھا۔ 

آج دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے اتھارٹی کے وکیل کو آزادی اظہار کے حوالے سے  انڈیا کی مثال دینے سے روک دیا ، انہوں نے وکیل کو ہدایت کی کہ یہاں انڈیا کا ذکر نہ کریں ۔ ہم بڑۓ کلئیر ہیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو، اگر انڈیا غلط کررہا ہے تو ہم بھی غلط کرنا شروع کردیں ؟

عدالت نے استفسار کیا کہ ایسے قواعد بنانے کی تجویز کس نے دی اور کس اتھارٹی نے انہیں منظورکیا ہے ؟چیف جسٹس نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن  اتھاڑی سے کاہ کہ تنقید کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کیونکہ یہ اظہار رائے کا اہم ترین جزو ہے ۔ کوئی بھی قانون اور تنقید سے بالاتر نہیں ۔ 


ای پیپر