ارشد ملک کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ، بیٹے کی وضاحت 
04 دسمبر 2020 (13:43) 2020-12-04

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج ارشد ملک آج صبح اسلام آباد کے نجی ہستپال میں انتقال کرگئے  جہاں گزشتہ  3 ہفتوں سے ان کا نمونیہ کا علاج ہورہاتھا .

میڈیا  رپورٹس میں بتایا گیا تھاکہ ان کا انتقال کورونا کی وجہ سے ہوا ہے تاہم اب ان کے بیٹے نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ والد کی موت کورونا سے نہیں بلکہ دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے ۔ ارشد ملک  کے بیٹے نے کہا ہے کہ ان کے والد کا کورونا ٹیسٹ کروایا گیا تھا  جس کا نتیجہ منفی آیا تھا ۔

واضح رہے کہ جج ارشد ملک نے مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا تھا ۔

عدالتی فیصلے کے بعد 6 جولائی 2019 کو مریم نواز ایک مبینہ آڈیو ویڈیو ٹیپ سامنے لائیں جس کے مطابق جج  راشد ملک نے دباؤ میں آکریہ سزا سنائی تاہم جج ارشد ملک نے اس کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا ۔

اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ چونکہ جج نے ویڈیو میں اعتراف کرلیا ہے لہذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے ۔ 

بعد ازاں سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا کر اوایس ڈی بنایاگیا تھا جب کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا ۔

اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے سات رکنی انتظامی کمیٹی بنائی تھی جس نے انکوائری رپورٹ میں مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر ارشد ملک کو ملازمت سے برطرف کر دیاتھا۔

 دیا تھا ۔ 


ای پیپر