Occupied West Bank ghettos are, of course, a clear violation of international law
04 دسمبر 2020 (11:49) 2020-12-04

مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیاں بلاشبہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد چوتھے جنیوا کنونشن میں یہ اصول طے پایا تھا کہ قابض طاقت مقامی آبادی کو علاقہ بدر نہیں کرے گی، نہ اپنی سول آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرے گی۔ Roman Statute جس کے تحت 1998ءمیں عالمی فوج داری عدالت کا قیام عمل میں آیا، مقبوضہ علاقے میں آبادی کی منتقلی کو جنگی جرم قرار دیتی ہے۔

1967ءمیں جب اسرائیل نے فلسطینی اور عرب علاقوں پر قبضے شروع کئے، سکیورٹی کونسل نے قرارداد 242 کے تحت اس کے اقدامات کی مذمت کی۔ 2016ءمیں سکیورٹی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں قرار دیا گیا کہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی اور عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے علاوہ مسئلہ فلسطین کے 2 ریاستی حل میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ روایت کے برعکس اس قرارداد کو امریکا نے ویٹو نہ کیا، البتہ اوباما انتظامیہ نے حمایت میں ووٹ دینے سے گریز کیا۔ پومپیو کے اعلان سے چند روز پہلے یورپی عدالت انصاف نے اسی اصول کی تائید کرتے ہوئے رولنگ جاری کی کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار ہونیوالی اشیا پر واضح لیبل ہونا چاہیے کہ ان کی تیاری کہاں ہوتی ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا ”بستیاں اسرائیل کی طرف سے سرحدی حدود سے باہر آبادی منتقل کرنے کا ٹھوس تاثر پیدا کرتی ہےں“ جو کہ عالمی قوانین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

امریکا ایک عرصہ سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے۔ صرف ایک امریکی صدر جمی کارٹر نے یہودی بستیوں کی پالیسی کو واضح الفاظ میں غیر قانونی قرار دیا تھا، امریکی دفتر خارجہ نے1978ءمیں اس حوالے سے ایک قانونی رائے بھی جاری کی تھی۔ کارٹر کے جانشین رونالڈ ریگن نے ان بستیوں کی مخالفت کی۔ دیگر امریکی صدور نے بھی بستیوں کو حتمی تصفیہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ یہ سلسلہ بند کرے، مگر انہیں غیر قانونی قرار دینے سے گریز کیا۔ اسرائیلی حکام کا پومپیو کے بیان کا خیرمقدم کرنا حیران کن نہیں۔ انتہاپسند اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جس نے حالیہ انتخابات میں اسرائیل کا دائرہ اختیار مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں تک پھیلانے کا وعدہ کیا تھا، اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک تاریخی غلطی کی اصلاح کر دی ہے۔ نیتن یاہو کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے: وہ نا صرف حکومت بنانے میں ناکام ہیں، بلکہ کرپشن کے سنگین الزامات کی فرد جرم ان پر عائد کی جا چکی ہے۔ ان کے حریف بنی گانٹس نے امریکی پالیسی میں تبدیلی کی یہ کہہ کر تعریف کی ”بستیوں کے مستقبل کا تعین معاہدوں کے ذریعے ہونا چاہیے جو کہ سکیورٹی کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ امن کو فروغ دے سکیں“۔ اس وقت جبکہ اسرائیلی سیاست کا مستقبل واضح نہیں، یہودی بستیوں کا جو معاملہ پومپیو نے چھیڑ دیا ہے، اس کے مضمرات سے ہمیں بچنے کی ضرورت ہے۔ ایسی صورتحال جس میں امریکا اسرائیلی انتہاپسندوں کے ساتھ کھڑا ہے، اس کے ممکنہ نتائج کا توڑ کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، جس میں یورپی یونین کو قائد کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پومپیو کے بیان پر ردعمل میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف فریڈریکا موغرینی نے واضح کیا کہ یہودی بستیوں سے متعلق بلاک کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ بستیاںعالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہونے کے علاوہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل اور خطے کے پائیدار امن میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

یورپی یونین کی اسرائیلی رویے پر تنقید میں نیا کچھ نہیں ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مقامی ڈائریکٹر کی ملک بدری سمیت کئی مواقع پر یورپی یونین اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے، حالانکہ اس کے اسرائیل کے ساتھ انتہائی قریبی سفارتی، معاشی اور سیاسی تعلقات ہیں۔ محض زبانی جمع خرچ کافی نہیں ہے۔ اگر یورپی رہنما خودمختار فلسطینی ریاست کے ویژن کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو پھر ان کے پاس دو آپشن رہ جاتے ہیں: فلسطینی کو باضابطہ خودمختار ریاست تسلیم کریں اور جب تک اسرائیل مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتا، اس سے فاصلے قائم کرے۔ مختلف یورپی ممالک کی پارلیمانز 1967ءکی سرحدی حدود پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، اسے تسلیم کر چکی ہیں۔ سویڈن کی تجویز پر وہ تاحال مناسب وقت کے منتظر ہیں۔

فلسطینیوں کو اسرائیلی قابضین کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے صرف تشدد کا سلسلہ بڑھے گا، جسے یورپی یونین جیسے طاقت ور اتحادی ہی توڑ سکتے ہیں۔ تاہم کیلئے انہیں اپنے بیانات کو عملی اقدامات کی شکل دینا ہو گی۔ اس میں موثر ترین عملی اقدام فلسطین کو خود مختار مگر مقبوضہ ریاست تسلیم کر کے اس کیلئے رابطے میں رہنا ہے۔ یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے نتیجے میں اسرائیلی رویے میں اچانک تبدیلی آ جائے گی، البتہ اس کے رہنمائوں کی حوصلہ شکنی ضرور ہو گی، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی عاقبت نااندیشی سے شہ پا کر یہودی بستیوں میں توسیع کے علاوہ کئی مقبوضہ علاقوں کا الحاق شروع کر دیا ہے۔

(بشکریہ: جارڈن ٹائمز۔ 29-11-2020)


ای پیپر