Disagreeing with the government and its policies does not mean that you ignore the requirements of national security.
04 دسمبر 2020 (11:42) 2020-12-04

پاکستان کی تاریخ میں حکومت اور اپوزیشن اقتدار کےلئے ایک دوسرے پر تو الزامات عائد کرتی رہتی ہیں مگر ایک دوسرے کی مخالفت میں مقدس ریاستی اداروں کو گھسیٹنا انتہائی افسوسناک ہے اور بدقسمتی سے موجودہ اپوزیشن حکومت مخالف تحریک کی آڑ میں بالخصوص عساکر پاکستان کو متنازع بنانے کی کوشش کررہی ہے جس سے ملکی سلامتی کے معاملات اور قومی مفادات پر زد پڑ سکتی ہے۔ 

حکومت اور اس کی پالیسیوں سے اختلاف کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ملکی سلامتی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھیں۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف بول کر آپ پاکستان نہیں دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت کو ہماری اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں جو شروع دن سے ہماری سلامتی کے درپے ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور سابق سپیکر نیشنل اسمبلی ایاز صادق نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے بارے میں قومی اسمبلی میں دعویٰ کیا تھا پاکستان کو بھارتی حملے کا ڈر تھا اور اسی لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کر دیا۔ گو کہ بعد میں اپنے ایک وضاحتی پیغام میں ایاز صادق نے کہا کہ بھارت طیارہ گرانا پاکستان کی فتح تھی لیکن ابھی نندن کو واپس کرنے کی کوئی جلدی نہیں تھی اور یہ ذرا سا انتظار کر لیتے۔

ایاز صادق کے ایوان میں دیئے گئے بیان پر شروع ہونے والا تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔اس معاملے پر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایک ایسا بیان دیا گیا جس کے ذریعے قومی سلامتی سے منسلک ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جس کے افسروں اور جوانوں نے مورچوں میں ساتھ جنگ لڑی ہے۔ یہ جنگ سے کندن بن کر نکلی ہوئی فوج ہے جس کی صفوں میں رخنہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ مسلح افواج کی قیادت اور رینک اینڈ فائل کو نہ تو جدا کیا جا سکتا ہے نہ ہی ان میں کوئی فرق ڈالا جا سکتا ہے۔ مسلح افواج کی قیادت اور رینک اینڈ فائل ایک ہی اکائی ہے اور رہے گی۔ 

یہ حقیقت ہے کہ ایک ذمہ دار شخص کی طرف سے ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی سے منسلک معاملات کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پلوامہ واقعہ کے بعد26 فروری 2019ءکو ہندوستان نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کی جس میں اسے منہ کی کھانا پڑی اور پوری دنیا میں ہزیمت اٹھانا پڑی۔ افواج پاکستان کے چوکنا اور بروقت رسپانس نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ کہاوت ہے کہ بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ہمسایہ بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ جہاں تک فضائی حملہ کے بارے میں بھارتی دعویٰ کا سوال ہے تو حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فضائیہ کی فارمیشن چار سے پانچ ناٹیکل میل اندر آئی جنہیں پاکستان ایئر فورس نے چیلنج کیا۔ بھارتی طیاروں نے جاتے ہوئے پے لوڈ ڈراپ کیا ۔ ان کے چار بم جبہ کے مقام پر گرے۔ رات کو ہمارا کمبٹ مشن قریب تھا جب سیالکوٹ میں پہلی بار بھارتی طیارے ریڈار پر آئے۔ ہماری فورس نے انہیں چیلنج کیا لیکن وہ قریب نہیں آئے اور اپنی حدود میں رہے۔ ایک بھارتی فارمیشن اوکاڑہ بہاولپور سیکٹر میں ریڈار نے نوٹ کی۔

دشمن کے جہاز جو بارود پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے ہمارے شاہینوں کو دیکھتے ہی بد حواسی میں خالی پہاڑوں پر پھینک کر بھاگ گئے۔ اس کے جوا ب میں افواج پاکستان نے قوم کے عزم و حمیت کے عین مطابق دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں پاکستان کی تمام سول ملٹری قیادت یکجا تھی۔ پاکستان نے اعلانیہ ہندوستان کو دن کی روشنی میں منہ توڑ جواب دیا۔ ہم نے نا صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دشمن کے دو جنگی جہاز بھی مار گرائے۔ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کر لیا۔ دشمن اتنا خوفزدہ ہوا کہ بد حواسی میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا۔ اللہ کی نصرت سے ہمیں ہندوستان کے خلاف واضح فتح نصیب ہوئی۔ 

اس کامیابی سے ناصرف ہندوستان کی کھوکھلی قوت کی قلعی دنیا کے سامنے کھلی بلکہ پوری پاکستان قوم کا سر فخر سے بلند ہوا اور مسلح افواج سرخرو ہوئیں۔ پاکستان کی فتح کو ناصرف کو دنیا میں تسلیم کیا گیا بلکہ خود ہندوستان کی قیادت نے اس شکست کا جواز رافیل جہازوں کی عدم دستیابی پر ڈال دیا۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقع دیتے ہوئے بھارتی جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے اس ذمہ دارانہ فیصلے کو جو کہ جنیوا کنونشن کے تحت تھا، پوری دنیا نے سراہا۔

 ایاز صادق پتہ نہیں کس کے اشارے پر تاریخ مسخ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں لیکن صرف پاکستان نہیں دنیا گواہی دے رہی ہے کہ بھارت کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ وار کا منہ توڑ جواب دے کر افواج پاکستان نے ایک بار پھر دکھایا کے واقعی اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔‘ حالیہ فوج مخالف بیان بازی پر فوجی قیادت سے لیکر سپاہی تک تمام رینکس میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ پاک فوج ہر سطح پر متحد ہے۔

ہندوستانی جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی ایک ذمہ دار ریاست کے Mature Response کے علاوہ کسی اور چیز سے جوڑنا انتہائی افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔ یہ دراصل پاکستانی قوم کی ہندوستان پر واضح برتری اور فتح کو متنازع بنانے کے مترادف ہے جو کسی بھی پاکستانی کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے منفی بیانیے کے براہ راست قومی سلامتی پر اثرات ہوتے ہیں۔ 


ای پیپر