The conflict between the government and the opposition is at its height
04 دسمبر 2020 (11:39) 2020-12-04

ان دنو ں وطنِ عز یز میں مہنگا ئی کے تا بڑ تو ڑ حملے ہیں، کرو نا پلٹ پلٹ کر جان لیوا وا ر کر رہا۔ حکو مت اور اپو زیشن کے در میان کشمکش اپنے عر وج پر ہے۔ یہ سب بجا، مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس دوران خو دپہ مظلو میت کا لیبل لگا کر مقبو ضہ کشمیر میں ہو نے وا لے بھا رتی مظا لم کی جا نب سے آ نکھیں بند کر لیں؟تو کہنا یہ چا ہتا ہو ںکہ درحقیقت کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے یہ عصر حاضر کے چند اہم ترین سیاسی اور انسانی مسائل میں سے ایک نہایت تکلیف دہ مسئلہ بھی ہے جو تاحال کسی پائیدار حل کا منتظر ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی سفارتی سطح پر کوششوں کے نتیجے میں او آئی سی نے مسئلہ کشمیر کے حق میں بیان جاری کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق، بھارئی چارے کی فضا اور عالمی امن کو جس قدر تباہ و برباد کردیا گیا ہے، شاید اس سے پہلے اس کی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہر طرف دہشت، بربریت اور مسلمہ انسانی حقوق کی پامالی کا دور دورہ ہے۔ کیا ہم اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے منصوبے سے دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے، جس سے کشمیری مسلمانوں میں تشویش شدت اختیار کرگئی ہے اور جدوجہد آزادی کشمیر میں شدت آئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو 2 حصوں میں تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بھارتی قدام کشمیریوں کے بھروسے کے ساتھ دھوکا ہے، کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں غیرمسلموں اور غیرکشمیریوں کو بسا کر یہاں کشمیری مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کی سازش ہے۔ مودی سرکار کا یہ فیصلہ 1947ءمیں مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کی جانب سے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے، یکطرفہ بھارتی فیصلہ سراسر غیرقانونی، غیر آئینی ہے جس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ اس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوگا اور خطے کا امن تباہ ہوکر رہ جائے گا۔ مقبوضہ جموں اور کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کرکے بھارت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے 2 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ بھی بنالیا ہے۔ ان دو لاکھ گھروںمیں بھارت کی ریاست سے ہندوﺅں کو لاکر بسایا جانا شروع کردیاگیا ہے تاکہ بھارت کے ناپاک عزائم کامیاب ہوسکیں وہ کشمیر کو ہڑپ کرلے۔بھارت ناجانے یہ بات کیوں بھول جاتا ہے کہ روزِ اوّل سے ہی کشمیر پاکستان کے نام کا حصہ ہے او رکشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کا حصول ہی پاکستان کے لفظ کی معنویت کو بحال کرسکتاہے۔ تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو تحریک پاکستان کے دوران بھی اور قیام پاکستان کے بعد بھی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ایسی صورت میں کشمیر کی عوام کی آزادی اور حق خود اردیت کی بحالی کے حوالے سے پاکستان اور پاکستانی عوام کا مطالبہ ایک اصولی مطالبہ ہے۔ 7 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیاتھا جبکہ 5 اگست 2019ءکو ظلم کی نئی داستان شروع ہوئی۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں پر 9 لاکھ فوج تعینات کی، ان کے بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیئے۔ کشمیری ایک کھلی جیل میں رہ رہے ہیں جبکہ ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد بھی بھارتی فوج انتہائی ڈھٹائی سے بربریت کی نئی داستانیں رقم کررہی ہے اور مظالم روکنے کے بجائے مقبوضہ وادی کشمیر میں مزید تازہ دم فوجی دستے بھیج دیئے ہیں۔ اس وقت کرفیو کے باوجود پوری وادی سراپا احتجاج ہے اور ”آزادی آزادی“ کی صداﺅں سے گونج رہی ہے جبکہ تحریک آزادی کے دوران بھارتی بربریت سے شہید ہونے والے نوجوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوسوں کی صورت میں آخری منزل تک پہنچایا جارہا ہے۔ اس سے بھارتی حکمرانوں کے دہشت گردی کے پراپیگنڈے کی دھجیاں بکھیر گئی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ان بچوں، جوانوں او ربوڑھوں کو سلام پیش کررہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم ناصرف سربلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہرگزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظر آرہی ہے۔ مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ کشمیریوں کے لیے مشکل ترین وقت ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کا مو¿قف واضح اور دو ٹوک ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں ملتا تنازع کشمیر کو بین الاقوامی سطح سمیت ہر فورم پر اٹھایا جائے گا۔ دنیا کو بتائیں گے کہ کشمیر میں کتنے مظالم ہورہے ہیں، بھارت ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں، کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہاہے، میڈیا پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ہم بھارتی اقدامات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریںگے۔ پاکستانی ریاست نے مزید واضح کیا ہے کہ برصغیر کے لیے امن اہم ہے کیونکہ امن سے خوش حالی آتی ہے۔ بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم دو قدم بڑھائیںگے۔ متضاد رویہ بھارت کا ہے جو طاقت کے نشے میں چور کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور حکومت پاکستان کی کسی بھی مخلصانہ پیش کش جو کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہے، اس پر غور کرنے پر تیار نظر نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں مخلص نہیں رہا۔ لیکن کیا وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے میں بے بس ہے؟ اس بات کی جواب دہی عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق اور ایک خطے کی آزادی سے منسلک مسئلہ ہے۔ لہٰذا اقوام عالم کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ اقوام متحدہ پر زور دے کہ وہ فوجی مبصر گروپ کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت دے۔ بھارت جمو و کشمیر، سرکریک او ردریائی پانی اور تمام تنازعات عالمی قانون اور ماضی کے معاہدات کے مطابق کرے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا گیا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لیے بھارت پر زور دیا گیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے تہتر سال کے بعد تک اس مسئلے کے حل کے سلسلے کی کوششیں جاری ہیں جس کے لیے کئی فارمولے اور معاہدے ہوچکے ہیں لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں مخلص نہیں رہا۔ لہٰذا مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا کہ کروڑوں افراد کی زندگی موت کا معاملہ کب تک مصلحت کا شکار رکھا جائے گا۔ کسی ملک کا مسلسل عالمی معاہدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ علاقے کی آبادی کی مرضی کے بغیر قبضہ اس بات کی علامت ہے کہ ہٹ دھرم اور غاصب ریاستوں کو عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے سے روکنے کا نظام اب تک فعال نہیں ہوسکا ہے۔ پاکستان اور چین نے کشمیر اور لداخ پر بھارتی قبضہ قبول نہ کرنے کا اعلان کیاہے۔ بہتر ہوگا پاکستان اور چین مقبوضہ علاقوں کو بھارتی تسلط سے آزادی دلانے کے لیے مل کر سعی کریں تاکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو خاک میں ملا کر کشمیریوں کو بھارتی ظلم سے نجات دلائی جاسکے۔


ای پیپر