The current crisis is such that it cannot be avoided without embracing everyone
04 دسمبر 2020 (11:10) 2020-12-04

ہوسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے ، لیکن وہ دور بھی نہیں رہا کہ ایک گروہ یا طبقہ سب کو یرغمال بنا کر وسائل خود ہضم کرتا رہے، تازہ بحران ہے ہی ایسا کہ سب کو اپنی لپیٹ میں لیے بغیر ٹل نہیں سکتا ، کل تک جو اپوزیشن جماعتیں سر جھکا کر سو جوتے سو پیاز کھانے کو تیار تھیں اب آنکھیں دکھارہی ہیں ، یہ سب اسی لیے ممکن ہوا کہ ملک میں احتساب کا یکساں معیار لاگو ہے نہ ہی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا کوئی تصور موجود ہے ، ملتان کے جلسے کو حکومت اور اس کے سرپرستوں نے بجا طور پر اپنی انا کا مسئلہ بنایا ، ویسے تو پی ڈی ایم کی تحریک کے آغاز سے ہی ریاستی طاقت استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں ، جو بار آور ثابت نہیں ہوسکیں ، ملتان کے جلسے کے بارے میں منصوبہ سازوں نے پورا داﺅ کھیلنے کا سوچا ، ان کا پلان یہی تھا کہ قاسم سٹیڈیم کے ساتھ پورا شہر سیل اور متحرک کارکنوں کی اندھا دھند گرفتاریاں کرکے جلسے کا ماحول نہیں بننے دیا جائے گا ، تاکہ 13 دسمبر کو لاہور کے مجوزہ جلسے سے پہلے ہی احتجاجی تحریک کو روک دیا جائے ، ریاستی اداروں نے تمام ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے زور آزمائی شروع کی تو پی ڈی ایم کی قیادت اصل منصوبہ فوری طور بھانپ گئی ، مولانا فضل الرحمن ہنگامی طور پر ملتان جا پہنچے ، یہ طاقت اور اعصاب کا کھیل تھا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا اعلان کردیا ، منصوبہ ساز جلسہ روکنا چاہتے تھے مگر بازی ہاتھ سے نکل گئی ، پی ڈی ایم نے چوک گھنٹہ گھر میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ، حکومت تک یہ بات پہلے ہی پہنچائی جاچکی تھی کہ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے دیا جائے گا ، اس جلسے کی خاص بات آصفہ بھٹو زرداری کی انٹری تھی ،انہوں نے حکومت کی رخصتی کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹھوس پیغام دیا ، مریم نواز نے جاندار تقریر کرتے ہوئے تمام پہلوﺅں کا احاطہ کیا ، وزیر اعظم اور حکومت کے حوالے سے مختلف کرپشن سکینڈل گنواتے ہوئے کھل کر کہا کہ سارے نہیں صرف دو سیلیکٹر حکومت کی بس کو دھکا لگانے کی کوشش کررہے ہیں مگر بی آر ٹی کی طرح یہ بھی چل نہیں پا رہی ، اختر مینگل نے واضح کیا کہ اب گالی کا جواب تھپڑ سے دینگے ، مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے ساتھ سرپرستوں کو بھی لپیٹا ، انہوں نے ملتان جلسے سے ایک روز پہلے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ آئی ایس آئی ہیڈ کواٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نکا اپنا اقتدار بچانے کے لیے ابے کے گھر کا طواف کررہا ہے لیکن حکومت بچ نہیں سکتی ، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اب جلسوں میں کیسی کیسی باتیں ہونے لگی ہیں ، آئی ایس پی آر نے فوجی قیادت کے ہمراہ وزیر اعظم کے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز میں اجلاس کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس میں ملک اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ، پی ڈی ایم نے اس اجلاس کو اظہار یکجہتی سیشن جانا اور تنقید کی ، یہ رویہ یقیناً قابل افسوس ہے لیکن یہ بھی غور کیا جانا چاہیے کہ آخر ایسی بد اعتمادی کی نوبت کیوں آئی ؟ کچھ چیزیں واقعی عجیب ہیں جب کراچی کے متعلق اجلاس میں آرمی چیف ، کور کمانڈر اور ڈی جی آئی ایس آئی شریک ہوں اور اسکی تشہیر بھی ہو تو مناسب نہیں لگتا ، سندھ حکومت موجود ہے۔ وفاقی حکومت کے کئی عہدیدار ہیں۔ جو اس حوالے سے مدد کرسکتے ہیں۔کراچی کو چلانا مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ، ماضی قریب میں نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کے دور میں کافی ترقیاتی کام ہوئے ، اب اگر کراچی کی صورتحال خراب ہے تو اس کی وجوہات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،ویسے بھی ملک کا کون سا شہر یا علاقہ ہے جہاں معاملات اچھے یا حسب معمول ہوں ، کراچی کے حوالے سے مستقبل قریب میں کچھ بڑا نہیں ہونے والا ، ایسے میں عسکری قیادت کی اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت سے کیا حاصل ہوگا ، حتیٰ کہ جو اجلاس وزیر اعظم کی صدارت میں ہو اس میں بھی زیادہ سے زیادہ ایف ڈبلیو او کے سربراہ کو مدعو کیا جانا چاہیے ، ایک تجربہ سب کے سامنے ہے ، چند ماہ قبل غیر معمولی بارشوں کے باعث تباہی کے دوران جب نیشنل ڈیزاسڑ مینجمنٹ اتھارٹی کو طلب کیا گیا تو وہ بھی کچھ نہ کرسکی ، ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کے رہائشی تک احتجاج کے لیے سڑکوں پر آگئے ، ایک پیج کا تاثر بنائے رکھنے کے لیے ہر جگہ موجودگی ادارے کی ساکھ کے حوالے سے کسی طور بہتر نہیں ، ویسے بھی بعض حکومتی شخصیات کی اکڑ ، کچھ عدالتی فیصلوں اور ٹاﺅٹ اینکرز کی لائن سے سب کو پتہ چل ہی جاتا ہے کہ سب ایک پیج پر ہیں ، اسی لیے تو اپوزیشن کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ احتساب ، مقدمات ، انتقامی کارروائیوں سے لے کر ہر طرح کی حکومتی ناکامیوں کا ملبہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہی ہے ، مختلف ٹاک شوز میں دفاعی تجزیہ کاروں کو جو مشکلات پیش آنا شروع ہوگئی ہیں وہ بھی اسی تبدیلی کی ایک علامت ہے ، ایک وقت تھا کہ ان ریٹائرڈ حضرات کے سامنے دوسرے شرکا محتاط ہو کر گفتگو کرتے تھے ، مقدمات ، کورونا حتیٰ کہ دھماکوں تک کی کھلی دھمکیاں ملنے کے باوجود پی ڈی ایم کے جلسوں میں رش صرف اس وجہ سے نہیں کہ حکومت کی پالیسوں سے تنگ ہیں ، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیاسی کارکنوں میں پی ڈی ایم کا بیانیہ جڑ پکڑ رہا ہے ، جو باتیں اب جلسوں میں کہی جارہی ہیں یہ پہلے ڈرائنگ روموں اور کونوں کھدروں میں ڈر ڈر کر کی جاتی تھیں ، پھر تھوڑی ہچکچاہٹ دور ہوئی تو مختلف مواقع پر بحث مباحثے ہونے لگے ،اب تو کیا شہر، کیا گاﺅں ہر جگہ یہ باتیں ہو رہی ہیں ، بظاہر اپوزیشن کے بیانیہ سے غیر متفق نظر آنے والے حکومت کے حامی بھی مانتے ہیں کہ جو معاملات اٹھائے جا رہے ہیں وہ بے وزن نہیں، 73 سال میں ہم نے سب کچھ کرکے دیکھ لیا لیکن تنزلی سے چھٹکارا نہ پاسکے ، اب وہ کرنا ہوگا جو پہلے کبھی نہیں ہوا ، یہ محض اپوزیشن کا مطالبہ ہی نہیں بلکہ حالات اس موڑ پر آچکے ہیں کہ اصل تبدیلی ناگزیر ہوچکی ، اس عمل کو طاقت سے روکنے کی کوشش مزید بربادی لائے گی ، یہ مان لینے میں ہی بہتری ہے کہ اب وہ پہلے والا دور نہیں رہا ،ججوں ، جرنیلوں کا بھی سیاستدانوں کی طرح احتساب کرنا ہوگا ، یہ کب تک ممکن رہے گا کہ جنرل مشرف اور عاصم باجوہ کو کوئی چھو نہ سکے ، جسٹس ارشاد اور جسٹس ثاقب نثار کسی کو جوابدہ نہ ہوں ، کٹھ پتلی سول حکمرانوں کی جانب کوئی آنکھ نہ اٹھا سکے ، ٹاﺅٹ اینکرز تک کو کھلی چھوٹ ہو ، سو آوازیں تو اٹھیں گی اور جد و جہد بھی ہوگی ، کیونکہ یہ باتیں اب عام لوگوں کو بھی سمجھ آنا شروع ہوگئی ہیں ، کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچ ہے کہ اس حوالے سے پی ڈی ایم نے تاریخی کام کر دکھایا ہے , یہ محسوس ہورہا ہے کہ معاملہ جہاں تک آ پہنچا ہے اس مقام سے واپس نہیں جائے گا ، بات بڑھتی نظر آرہی ہے ، ہوسکتا کچھ وقت گزرنے کے بعد شفاف ، منصفانہ اور آزادانہ نئے عام انتخابات کرانے کا مطالبہ تسلیم کر لینا بھی غنیمت نظر آئے۔


ای پیپر