الیکٹرانک ووٹنگ کا سراب 
04 دسمبر 2020 2020-12-04

ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان باتیں اتنی اچھی کرتے ہیںکہ سیدھی دل میں اترجاتی ہیںجیسے کرپشن کے خلاف باتیں، احتساب کے حق میں باتیں مگر یہ باتیں اتنی ہی دیر لبھاتی ہیں جتنی دیر آپ ان کا عمل ، حقیقت اور حقائق کے ساتھ موازنہ نہیں کرتے کہ ایسا کرتے ہی وہ اپنے دل نشیں لبادے اتار دیتی ہیں۔ خان صاحب نے احتساب کے حق جتنی باتیں کیں وہ کرپشن نہیں بلکہ اپوزیشن کے خلاف تھیں کیونکہ اپنی پارٹی میں کرپشن کے حوالے سے نیب سے صرف گونگلووں سے مٹی جھاڑی ہے، تمام کے تمام گونگلو صاف ہوکے وہیںموجود ہیں۔ اسی طرح میں نے حافظ آباد کے جلسے میں ان کی تقریر سنی جس میں انہوںنے آئندہ انتخابات تک ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام لانے کا اعلان کیا اور قراردیا کہ اس کے ذریعے انتخابات اتنے شفاف ہوں گے کہ کوئی نتائج کومستردنہیں کر سکے گا، کوئی دھاندلی کاالزام نہیں لگا سکے گا۔ میں کئی روز تک اس بات کے سحر میں رہاکہ میری نظرمیں میری سیاست کے بڑے المیوں میں ایک دھاندلی بھی ہے، نتائج کا تسلیم نہ ہونا بھی ہے۔

میں نہیں جانتاکہ جناب عمران خان کس دنیا میں رہتے ہیں مگر ہم جس دنیامیں رہتے ہیں اس میں الیکٹرانک ووٹنگ ہرگزشفافیت کی ضمانت نہیںہے۔ پہلے یہ واضح کر دیا جائے کہ ا ی ووٹنگ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ووٹ کاسٹ کرنا۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ کسی بنک کے ای بوتھ میں ٹرانزیکشن کرتے ہیں۔مشین آپ کی آئیڈنٹی فیکیشن کی جانچ کرتے ہوئے آپ کو اختیار دے گی کہ اپنی مرضی کے امیدوار کے نام پر بٹن دبا دیں اور خودپس پردہ تمام ووٹوں کا حساب رکھے گی۔ دنیا میں ’مشینی پنچنگ‘ کا یہ نظام 1960سے استعمال ہو رہا ہے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ افراد ٹھپے نہیںلگا رہے ہوں گے بلکہ یہ کام مشین کرے گی اور کسی بھی لمحے آپ کو بتاسکے گی کس کو کتنے ووٹ ملے ہیں۔ اس وقت عام انتخابات کے لےے صرف دو بڑے ممالک امریکا اور انڈیا الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کر رہے ہیں جو اپنے استعمال میں واضح طور پر متنازع ہیں ۔میں آپ کو ٹرمپ کے گذشتہ انتخابات میں جیتنے اور اب ہارنے کا حوالہ بھی دوں گا اور بش الگور انتخاب میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچنے اور وہاں کے فیصلے کے مطالعے کی دعوت بھی دوں گا ، وہاں ووٹوںکی گنتی کچھ اور تھی جبکہ مشینوں کافیصلہ کچھ اور تھا۔ ری پبلکن ججوں نے مشینوں کافیصلہ برقراررکھا تھا۔ انڈیا میں اس وقت سترہ لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں انتخابات میں استعمال ہورہی ہیں مگر نتائج وہاں بھی متنازع ہی ہوتے ہی۔ہمیں ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ کے قریب مشینیں درکار ہوں گی جن کی خریداری کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اوراپ گریڈیشن کے مسائل بھی ہوں گے۔

 ہمارے ہاں اس وقت تین مرحلوںپر دھاندلی ہوتی ہے،پہلے مرحلے کی دھاندلی کوہم انگریزی میں پری پول رگنگ کہتے ہیں جس میں الیکٹ ایبلز کو ناپسندیدہ جماعت سے اٹھا کر پسندیدہ جماعت میں بٹھا دیا جاتاہے اور الیکٹرانک ووٹنگ اس میں کوئی شفافیت نہیں لا سکتی۔ دوسری دھاندلی پولنگ ڈے رگنگ ہے اور اس میں بھی آپ ووٹوں کی خریدو فروخت سمیت دیگر قباحتوں کودور نہیں کر سکتے۔ تیسری دھاندلی گنتی کی دھاندلی ہے اور یہاں یہ کام بھی ہوسکتا ہے کہ مشینوں کو حکم دیا جائے کہ اگر شیر کا انتخابی نشان مقتدر حلقوںکاناپسندیدہ ہے تو اس کے ووٹ ایک ہی کمانڈ کے ذریعے بیس فیصد کم کر دئیے جائیں اور بلا اگر پسندیدہ ہے تواس کے دس فیصد بڑھا دئیے جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سخت مقابلے والی تمام سیٹیں بلے کے انتخابی نشان کی گود میں آ گریں گی۔ ہم وہ لوگ ہیں جو پولنگ سے پہلے خالی ڈبے اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے، فارم چودہ اورسولہ پراپنے پولنگ ایجنٹوں کی تربیت نہیں کر سکتے تو مشینوں کا ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر کون چیک کر سکے گا؟

 یہ نہیں کہ صرف امیدواروں اور جماعتوںکی سطح پر کنفیوژن ہے بلکہ تیر کے نشان والے روتے ہیں کہ ہمارے امیدوار کے نام سے ملتے جلتے نام والے امیدوار کو پینسل کا نشان دے دیا جاتا ہے اور شیر کے نشان کے ساتھ گائے کانشان والا امیدوار بیلٹ پیپر پر آجاتا ہے۔ تیر کے نشان والا سات ہزار ووٹوں سے ہار جاتا ہے اور پینسل کے نشان پر گیارہ ہزار ووٹ پڑ جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مشینوں پر انتخابی نشان کی چیکنگ اور درست ووٹ کاسٹ کتنا ممکن ہو گا کہ میں خو د جب کسی نئے موبائل فون کواستعمال کرتا ہوں تو کتنی ہی دیر اس کے گرافکس کو سمجھتا رہتا ہوں۔ یہ مشینیں تمام کم پڑھے لکھے ، بزرگوںاور دیہاتی ووٹروں کو کنفیوژ کر دیں گی۔میں یہ ہرگز نہیںکہتاکہ ماڈرنائزیشن اورٹیکنالوجی سے بھاگا جائے مگر سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو ابھی تک کریڈٹ کارڈ پر اعتماد کرتے ہیں تو پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کیسے اعتبار کرسکتے ہیں۔ ہمارا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ ہم نے گذشتہ انتخابات میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم ( آر ٹی ایس) بنایا اور اب وہ شفاف انتخابات کی ضمانت بجائے دھاندلی کا سب سے بڑاہتھیار بنا ہوا ہے کہ رات دس بجے آر ٹی ایس بند کر دیا گیا اورپھر اس میں من پسند نتیجے بھر دئیے گئے۔

مجھے اورمیرے بزرگ، کم پڑھے لکھے اور دیہاتی ووٹروں کو بھی رہنے دیجئے ، جمہوریتوں کی ماں کہلانے والے نظام کے حامل ملک انگلینڈ کو دیکھ لیجئے،انہوں نے 2000 سے2006 تک الیکٹرانک ووٹنگ کے پائیلٹ پراجیکٹ کئے مگر جنوری 2016 میں یوکے پارلیمنٹ کا اعلان آ گیا کہ ان کا ای ووٹنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔کینیڈا وفاقی سطح پر ای ووٹنگ نہیں ہے ۔ فرانس میں بھی 2017 کے ریویو میں انٹرنیٹ ووٹنگ کو ختم کر دیا گیا۔ جرمنی میں 2005 میں ٹرائیل ہوامگر2009 میں اسے غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔آئر لینڈ میں2002 میں اپنایا گیا مگر2010 میں اسے سکریپ کر دیا گیا۔ نیدر لینڈ میں 2007 میں اس سسٹم کو چھوڑ دیا گیا، ناروے میں2003 میں ٹرائل ہوا مگر وہاںبھی یہ نظام سپین اور ملائشیا کی طرح موجود نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام اتنا ہی فول پروف ہے تو دنیا کے بیشتر ممالک واپس پیپر بیلٹ اورہینڈ کاونٹنگ پر کیوں آ گئے ہیں۔ خودامریکا میں اس نظام کے خلاف اب آوازیں اٹھ رہی ہیں، ری کاونٹنگ کی درخواستیں دائر ہو رہی ہیں۔ میں نے جن دس ممالک کے نام اوپر لکھے یہ سب انتہائی زیادہ خواندگی رکھنے والے ممالک ہیں، وہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام ہیں مگروہ جان گئے ہیں کہ الیکٹرونک ووٹنگ کے گھپلے بہت زیادہ ہیں۔

 میرا مشورہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اس جدت اورٹیکنالوجی کے دھوکے میںآنے کی بجائے دوٹوک اندازمیں روایتی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر ڈٹ جانا چاہئے کہ پاکستانی سیاستدان ای ووٹنگ کی مشینوں کے ہارڈ وئیر سے سافٹ وئیر تک کچھ چیک نہیں کرسکیںگے۔دھاندلی سے ہارنے والے امیدوار کسی طوربھی دھاندلی ثابت نہیں کر سکیں گے جو پیپر بیلٹ میں کی جا سکتی ہے۔الیکٹرانک ووٹنگ سے اگلا مرحلہ انٹرنیٹ ووٹنگ کا ہے اور اس میں ٹوئیٹر آپ کو پول کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے مگر وہاں’بوٹ ووٹنگ ‘ عام ہے یعنی ایسی کمپنیاں ہیں جو اپنے سافٹ وئیرز کے ذریعے ہزاروں اورلاکھوں جعلی اکاونٹ تخلیق کرتی ہیں جو فالوئنگ بڑھانے اور انٹرنیٹ پولز میں ووٹ کاسٹ کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اب ہمارے امیدوار کہاں سے چیک کریں گے کہ کس امیدوارنے سسٹم ہیک کرتے ہوئے کتنے جعلی ووٹ کاسٹ کروا لئے۔ خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ دھاندلی کو روک دے گی مگرجان لیجئے کہ اس کے نتیجے میں جو ہو گا وہ دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلا ہوگا۔ ’آرگنائزڈ رِگنگ‘ کرنے والوں کو نہ امیدوار توڑنے پڑیںگے اور نہ ہی ووٹر خریدنے پڑیں گے وہ مطلوبہ انتخابی نتائج صرف ایک کمانڈ دیتے ہوئے حاصل کر لیں گے۔


ای پیپر