مطالبہ طلباء یونیز کی بحالی کا اور نعرے سرخ انقلاب کے
04 دسمبر 2019 2019-12-04

اس سال لاہور میں فیض امن میلے کے انعقاد کے بعد بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سیاسی اور سماجی سوچ کے حامل عناصر نے جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں کے اندر طلباء یونینز کی بحالی کے نعرے کی آڑ میں زبردست اٹھان لی ہے… گزشتہ 29 نومبر کو ملک بھر میں ’’ سرخ انقلاب ‘‘ کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں اور اُن کے حامی عناصر نے شہر شہر مظاہرے کیے… اپنے مطالبات کے حق میں مقتدر قوتوں سے جا ٹکرانے کے جذبوں کا اظہار کیا… حاکمان قوم کو متنبہ کیا اگر ان کے مطالبات مانے نہ گئے تو سب لال لال ہو جائے گا اور وہ کہیں کے نہ رہیں گے… اس پر اصحاب فکر و نظر کو حیرانی ہوئی سرخ انقلاب کے مردہ گھوڑے کو عالمی سطح پر تہہ خاک ہوئے تین دہائیاں گزر چکی ہیں… دنیا بھر میں اس کا نام لینے والے آثار قدیمہ کا چلتا پھرتا نمونہ بنے ہوئے ہیں… اس کا پرچار کرنے والے خال خال ملیں گے… پاکستان میں اس کے اندر نئی جان پھونکنے کی کوشش کن محرکات کے تحت کی گئی ہے اور خاص طور پر پڑھی لکھی نوجوان نسل کو کمیونسٹ انقلاب جیسے ازکار رفتہ نظریے میں کونسی کشش نظر آئی جو وہ اس کے نعروں کو لے کر والہانہ طریقے سے اس طرح سڑکوں پر نکل آئے کہ پوری قوم کی نظریں ان کی جانب متوجہ ہو گئیں… اس کا ایک سبب ان کا طلباء یونین کی بحالی کا نعرہ تھا جس پر شاید کسی کو اختلاف نہیں، خواہ وہ بائیں بازو کے نظریات یا لبرل ازم کا حامی ہو، دائیں بازو سے تعلق رکھتا ہو یا اسلامی نظریاتی سیاست کا علمبردار چنانچہ ایک ایسے نعرے کی آڑ میں جس کی قومی سطح پر قبولیت اور پذیرائی سے کسی کو انکار نہیں، انہوں نے اپنے پسندیدہ لیکن مسترد شدہ نظریات کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی ہے پھر وہی ہوا جس کی انہیں توقع تھی… طلباء یونین کی بحالی پر وزیراعظم نے اتفاق کیا ہے… حزب مخالف کے مسلم لیگوں نے بھی یہاں تک کہ جماعت اسلامی جیسی دائیں بازو کی نظریاتی مذہبی جماعت اس دعوے کے ساتھ سامنے آئی کہ یہ مطالبہ تو سراسر ہمارا تھا… 1984ء میں جب چیف مارشل لاء ایڈمنسٹر جنرل ضیاء الحق نے طلباء یونینز پر پابندی عائد کی تو ہماری اسلامی جمعیت طلباء یونینز کے انتخاب جیتنے میں سب سے آگے تھی اس میدان میں بائیں بازو کی تنظیموں کو بچھاڑ کر رکھ دیتی تھی، اب انہوں نے ہمارے نعرے یا مطالبے کو اپنی آواز بنا لیا ہے…

حقیقت جو بھی ہو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی مارشل لائی قوتوں کو طلباء یونینز کے وجود سے ہمیشہ انقباض اور بیزاری رہی ہے… اسی بنا پر انہوں نے 1984ء میں اپنی براہ راست عسکری حکمرانی کے دوران پابندی لگا دی جو آج تک جاری ہے… مقتدر قوتیں طلباء یونیز کو اس لیے نا پسند کرتی ہیں کہ یہ نوجوان نسل کی وہ نمائندہ طاقت تھی جس نے سب سے پہلے مارشل لاء اور ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ طاقتور فوجی حکمران کے ساتھ براہ راست ٹکر لی اور اسے پاش پاش کر کے رکھ دینے میں کردار ادا کیا… اس میں شک نہیں اس تاریخی کام میں بائیں بازو کے طلباء لیڈروں نے بھی بڑا کردار ادا کیا معراج محمد خاں جیسے بے باک ترقی پسند لیڈر اسی قافلے کے سالار تھے لیکن ان کے مقابلے میں اسلامی نظریاتی انقلاب کی جدوجہد کرنے والی اسلامی جمعیۃ طلباء کے منتخب یونین لیڈروں مثلاً عثمان غنی، نصر اللہ شیخ اور خاص طور پر اس میدان کے شہوار بارک اللہ مرحوم نے بڑے بڑوں کو خوفزدہ کر کے رکھ دیا… جامعہ پنجاب ان کی خاص آماجگاہ تھی بعد میں جاوید ہاشمی ، لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ بھی ان انتخابات میں کامیاب ہو کر آج کے قومی سیاسی مطلع پر چھائے ہوئے ہیں… کراچی یونیورسٹی کے انتخابات میں بھی جمعیۃ کے امیدواران پے در پے کامیابیاں حاصل کرتے تھے… اس کے باوجود بائیں بازو کے طلباء جن کا اپنا زور اور دبدبہ تھا، وہ ہر دم مقابلے کے لیے تیار رہتے تھے اور اپنے چیلنج کی نظریاتی قوت اور حرارت میں کمی نہ آنے دیتے تھے… فوجی حکمران کیمپس کے اندر اور باہر ان سب کی عوامی طاقت سے پریشان رہتے تھے… دوسرا سبب ان یونیز پر پابندی لگانے کا یہ تھا کہ مقتدر قوتیں اپنی قائم کردہ نرسریوں کے ذریعے مرضی کے سیاستدان پروان چڑھانا چاہتی تھیںجبکہ طلباء یونین ایک نہایت فطری اور جمہوری طریقے سے مستقبل کے سیاسی شہسواروں کے لیے ابتدائی تربیت کا (جیسا کہ دنیا بھر کے جمہوری معاشروں کا دستور ہے) گہوارہ بنی ہوئی تھی لہٰذا دو تین جامعات میں عام درجے کے پر تشدد واقعات کا بہانہ بنا کر ان پر پابندی عائد کر دی گئی جو آج تک جاری ہے…

29 نومبر کو بائیں بازو کے نظریات کے تن مردہ میں نئی جان ڈالنے کے خواہش مند عناصر نے یوں سمجھیے ایک قومی جمہوری مطالبے کو سر عنوان بنا کر ایک بڑی عوامی طاقت کے طور پر سامنے آنے کی ٹھان لی… ایک مرتبہ تو انہوں نے خاصی کامیابی کے ساتھ توجہات کو اپنی جانب کھینچ لیا… سرخ انقلاب تو یقینا نہیں آئے گا… 1991ء میں سوویت یونین کے تتر بتر ہو جانے اور ملک افغاناں کے اندر کیمونسٹ فوجی طاقت کی شکست فاش کے بعد تاریخ نے نئی کروٹ لے لی…ظاہر ہے اس کے پہیے کو پیچھے کی جانب نہیں دوڑایا جا سکتا… لیکن حق یہ ہے پاکستان جس نے سوویت ہاتھی کی عسکری قوت اور نظریاتی علمبرداری دونوں کو اوراق تاریخ کے سپرد کرنے میں خاص کردار ادا کیا تھا، اس کے اپنے اندر سبز انقلاب کا برپا ہونا تو دور کی بات ہے جمہوریت بھی جان کنی کے عالم میں رہی… اب تک یہی صورت حال ہے… جنرل پرویز مشرف کی 8 سالہ حکمرانی میں مارشل لاء کی سڑاند والے گلے سڑے نظام کو ایک مرتبہ پھر ہم پر مسلط کر دیا گیاجو جمہوریت تھی نہ اسلام اور نہ سوشلزم… ردعمل یقینا پیدا ہوا… جمہوری حکومتیں برسراقتدار بھی آئیں لیکن عسکری قوتوں کی خوئے حکمرانی نے اپنی بالادستی ختم نہ ہونے دی… وہ پس پردہ بیٹھ کر منتخب حکومتیں الٹاتی اور من مانی کرتی رہیں… طلباء کی صحت مند جمہوری سیاست تو ان کے بوٹوں تلے روندی جا چکی تھی شہری اور جمہوری آزادیاں بھی تقریباً پامال ہو کر رہ گئی تھیں… آج جو نام نہاد سویلین حکومت ہے اس کے پیچھے بھی انہی کی طاقت اور عزائم کار فرما ہیں… المیہ یہ ہوا دائیں بازو کی سب سے بڑی اسلامی نظریاتی جماعت نے بھی تیزی کے ساتھ اپنے جارحانہ وجود کو پس پشت ڈال کر ’’حکیمانہ‘‘ طرز سیاست اختیار کر لی ہے آج تھوڑی بہت نظریاتی شناخت یقینا باقی ہے لیکن عملی طور پر بے بس ہو کر رہ گئی ہے… اس تناظر میں بائیں بازو نے انگڑائی لی ہے یا یوں کہیے کہ باسی کڑھی میں اُبال آیا ہے… انہوں نے صرف طلباء یونین کی بحالی کا مطالبہ نہیں کیا … جمہوری قدروں کے احیاء اور مقتدر قوتوں کے ساتھ ٹکر لینے کے عزائم کا بھی بھرپور اظہار کیا ہے… ان کے ایک دو نعرے ایسے بھی تھے جنہیں ہمارے مقتدر عناصر ریاست مخالف کہہ کر چیں بہ چیں ہوئے ہیں مگر کوئی غور نہیں کرتا اس کی نوبت کیوں آئی؟ اگر غیر آئینی طاقتیں اپنے دائرہ کار میں رہیں، سیاست میں بے جا مداخلت کی روش کو ترک کر دیں، قدم قدم پر منتخب عناصر اور صحیح معنوں میں عوام کی منتخب جماعتوں کے راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے افعال ناپسندیدہ کو خیر باد کہہ دیں تو ان انتہا پسند نعروں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی جو 29 نومبر کو طلباء یونین کی بحالی کے قومی نعرے کی آڑ میں لگائے گئے… پچاس کی دہائی کے آغاز میں جب پاکستان میں کیمونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی تو اس ملک کے سب سے بڑے اسلامی نظریاتی قائد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ حکمران کیمونسٹ عناصر کو زیر زمین چلے جانے اور اس طریقے سے زیادہ خطرناک سرگرمیاں پروان چڑھانے کا موقع دے رہے ہیں… مولانا مودودی کی وسیع النظری اور جمہوریت پسندی کا یہ عالم تھا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور سیاسیات ملک کے اندر جمہوری رویوں کی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے بائیں بازو کی شناخت رکھنے والے سیکولر لیڈروں کے ساتھ بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جانے میں عار خیال نہیں کرتے تھے… یہاں تک کہ 1962ء میں حسین شہید سہروردی جیسا لیڈر بھی یہ بیان دینے پر مجبور ہو گیا کہ مولانا مودودی نے کیمونسٹ پارٹی پر پابندی ہٹانے کی تائید کر کے جمہوریت کے حق میں بھرپور آواز اُٹھائی ہے… اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ میرا متحدہ بنگال کا تجربہ ہے جب میں وہاں کا وزیراعلیٰ تھا تو کیمونسٹوں کو کھلی چھٹی دے دی تھی ، وہ بے اثر ہو کر رہ گئے تھے… یہ وہ ایام تھے جب کیمونزم ایک عالمی طاقت کا درجہ رکھتا تھا… آج وہ ایک بوسیدہ اور فرسودہ نظریہ بن کر رہ گیا ہے مگر فیض امن میلے اور 29 نومبر کو خاص طرز فکر رکھنے والے نوجوانوں کے مظاہروں کے دوران وہ نئی اٹھان لیتا ہوا اس لیے محسوس ہوا ہے کہ لمحہ موجود کے اندر ہمارے یہاں جبر کی حکمرانی ہے… اظہار رائے پر سخت پابندی ہے… جمہوری سیاست دان جیلوں میں بند اور ملک سے باہر چلے جانے پر مجبور ہو چکے ہیں… اس عالم میں مردہ روحیں کفن پھاڑنے کی کوشش کی سعیٔ ناتمام کریں تو چنداں تعجب کی بات نہیں… طلباء یونیز پر پابندی لازماً ختم ہونی چاہیے کہ یونیورسٹیوں کے اندر صحت مند مقابلے کی فضا کو پروان چڑھانے اور مباحثوں (debates) کا کلچر پیدا کرنے میں یہ سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوں گی… آئین کی حکمرانی اور سویلین بالادستی کو یقینی بنائیے… انتہا پسندانہ یا وہ جنہیں آپ ریاست دشمن نعرے کہتے ہیں، آپ اپنی موت مر جائیں گے لیکن اس کی خاطر ہماری اصل حکمران قوتوں کو جو قربانی دینا پڑے گی اس سے وہ مسلسل گریزاں ہیں جس کی وجہ سے صورت حال خراب سے خراب تر ہو سکتی ہے…


ای پیپر