محمد خان محسود ۔ اقبال لالہ اور سمن گل
04 دسمبر 2019 2019-12-04

محمد خان محسود ، اقبال لالہ اور رائو انوار تینوں ہمارے سماج کے استعارے ہیں۔ پہلے دو افراد ہماری بے بسی کے استعارے ہیں۔ ایک کے بیٹے کو کراچی میں ایک پولیس آفیسر نے دہشت گرد قرار دے کر ناحق مار دیا۔ محمد خان محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا ۔ وہ کراچی پولیس کے ایس ایس پی رائو انوار کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے والد تھے۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے انصاف تلاش کرتے کرتے دو دن پہلے کینسر سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پوری کوشش کی کہ ان کے بیٹے کو انصاف مل جائے ۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ بوڑھے ماں باپ کے لیے یہ صدمہ کیا کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی جوان اولاد کو لحد میں اتاریں۔ وہ اپنے بوڑھے ہاتھوں سے جگر کے ٹکڑے پر مٹی ڈالیں اور پھر اس صدمے کو ساتھ لے کر جوان بیٹے کے لیے انصاف حاصل کرنے کی جدو جہد کریں ۔ کبھی ایک عدالت جائیں تو کبھی دوسری کبھی ایک در پر دستک دیں توکبھی دوسرے در پر ۔ محمد خان محسود بھی 2018 ء سے یہی کچھ کر رہے تھے۔ یہ کتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہو گا جب وہ انصاف کی امید لیے تاریخ پر جاتے ہوں گے ۔ اور نئی تاریخ لے کر واپس آتے ہوں گے۔ جب وہ اس پولیس افسو کو جسے وہ اپنے بیٹے کا قاتل سمجھتے تھے اسے پورے پروٹوکول اور جاہ و جلال کے ساتھ عدالت آتا دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل پر کیا بیتتی ہو گی۔ ان کو چیف جسٹس سے لے کر آرمی چیف تک سب نے انصاف کی امید دلائی۔ ان سے وعدہ کیا کہ ان کو انصاف دلوایا جائے گا ۔ مگر وہ انصاف کی آرزو لیے اس جہاں سے رخصت ہو گئے۔

یہ نظام بظاہر نارمل اور معقول نظر آتا ہے ۔ عدالتیں انصاف کرتی نظر آتی ہیں۔ ادارے قانون کے مطابق کام کرتے نظر آئیں گے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آتا ہے ۔ جب تک آپ کو اس نظام سے کسی طاقتور کے خلاف انصاف لینے کی ضرورت اور مجبوری نہ گھیر لے یہ نظام جسے انگریز سامراج نے اپنے سامراجی مفادات کے حصول اور یہاں کی مقامی آبادی کو محکوم بنانے کے لیے تشکیل دیا تھا ۔ اس کی اصلیت اس وقت بے نقاب ہو جاتی ہے جب کسی کمزورکو طاقتور کے خلاف اس نظام کی مدد درکار ہو۔ اس وقت پتا چلتا ہے کہ ہمیں قانون، آئین، انسانی اقدار اور اسلام کے آفاقی اصولوں کے بھاشن دینے والے کیسے خود کو قانون، آئین، ضابطے اور انسانی اقدار سے بالا سمجھتے ہیں۔ کیسے پورا نظام طاقتور کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور کمزور بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بن جاتا ہے۔ جب تک آرمی چیف، چیف جسٹس، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نوٹس نہ لیں وہ براہ راست مداخلت نہ کریں اس وقت تک یہ نظام سویا رہتا ہے حرکت میں ہیں آتا مگر اس کے باوجود حکمران طبقات اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ 21 ویں صدی میں بھی ہم 19 ویں کے قوانین کے تابع زندگی گزار رہے ہیں جن قباحتوں، ظالمانہ اور فرسودہ رسم رواج اور سماجی ڈھانچے کو آج ترقی یافتہ سماج 19 ویں صدی میں ترک کر چکے۔ ان کو خاتمہ کر چکے ہم آج بھی ان کو سینے سے لگائے۔ انہیں ایک خاص تقدس عطا کر کے اٹھائے پھر رہے ہیں۔

راؤ انوار اس فرسودہ، ظالمانہ اور گلے سڑے نظام، روایات اور قوانین کا استعارہ ہے۔ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اس نظام میں جگہ جگہ پر راؤ انوار موجود ہیں جو قانون، آئین اور ضابطوں کی بجائے طاقتوروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طاقتوروں کی خواہشات کی تکمیل ہی آئین ، قانون اور ضابطہ ہے۔ یہ خود کو قانون، عدالت اور وکیل سمجھتے ہیں۔ یہ نظام اساتذہ، طلباء، دانشوروں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر ان کی تذلیل کرتا ہے مگر راؤ انوار کو ہتھکڑیاں لگانے اور اس سے بے گناہ افراد کے قتل کا حساب کے معاملے پر عجیب کرب میں مبتلا نظر آئے گا۔ اس نظام کے کل پرزوں اور طاقتوروں کو جب مشعال شہید کے والد اقبال لالہ پر طلباء مارچ میں تقریر کرنے پر غداری کا مقدمہ درج کرنا ہو تو ان کے ہاتھ بالکل نہیں کپکپاتے اور راتوں رات مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں مگر اس ملک کے طاقتور اپنے آپ کو کسی قانون، قاعدے اور ضابطے کے تابع ہی نہیں سمجھتے۔ وہ خود کو ہی قانون سمجھتے ہیں مگر جیسے ہی کسی طاقتور کا معاملہ آجائے تو ان کے قلم کی سیاہی خشک ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھ حرکت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ سب قانون اور ضابطے معطل ہو جاتے ہیں۔

ہمارے نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ خود کو عوام کو جوابدہ نہیں سمجھتا بلکہ یہ عوام کو محکموم اور خود کو حاکم سمجھتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے درمیان ابھی تک وہ آئینی تعلق قائم نہیں ہو سکا جس کے تحت حکمران اور طاقتور مقتدرہ خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھیں۔ ان کو بنیادی حقوق، سہولیات اور خدمات فراہم کرنا اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ پولیس کا سپاہی ہو یا کسی سرکاری دفتر کا کلرک بادشاہ وہ عام آدمی کے ساتھ جس رعونت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کی جس طرح تحقیر کرتے ہیں اس سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نظام عام شہریوں کے حوالے سے کیا سوچ رکھتا ہے۔ بد قسمتی سے ہم رعایا سے برابر کے شہریوں کا سفر ابھی تک مکمل نہیں کر سکے۔ ہم کہیں درمیان میں معلق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جو ہی میں 13 سال سمن گل بغیر کسی جرم سرزد کیے سنگسار کر دی جاتی ہے مگر اس نظام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جاگیرداروں اور قبائلی سرداروں پر مشتمل جرگہ اس معصوم بچی کو کاری قرار دے کر زمین میں گاڑتا ہے اور پھر پتھروں سے اسے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ اس کا گناہ صرف یہی تھا کہ وہ سندھ کے جاگیردار اور قبائلی سماج میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی۔ یہ جرگے روز منعقد ہوتے ہیں۔ پاکستانی قوانین اور آئین کا منہ چڑاتے ہیں۔ طاقتور اکٹھے ہو کر غریبوں اور کمزوروں کی قسمت کے فیصلے کرتے ہیں مگر کوئی نہیں پوچھتا۔

اگر ہم واقعی ایک جمہوری اور مہذب سماج اور ریاست ہوتے تو اس واقعہ پر قیامت نہ ٹوٹ پڑتی مگر ہماری پارلیمنٹ کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے کہ وہ سمن گل کے بارے میں سوچے۔ اسے تو آرمی چیف کو توسیع دینے کے لیے قانون بنانا ہے۔ اسے تو الیکشن کمیشن کے ارکان مقرر کرنے ہیں۔ کیا ہوا اگر 21 ویں صدی میں رشتے سے انکار پر ایک 13 سالہ معصوم بچی قرون وسطیٰ اور زمانہ جاہلیت کی کسی رسم یا رواج کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ہم پتا نہیں کب ذہنی طور پر قرون وسطیٰ اور زمانہ جاہلیت کی رسم و رواج، خیالات اور سوچوں سے باہر نکلیں گے۔ سمن گل کو جب پتھر مارے گئے ہوں گے تو وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہو گی۔


ای پیپر