بیمار بادشاہ اور باغی کونسل
04 دسمبر 2019 2019-12-04

وزیر اعظم پاکستان گزشتہ ہفتے کے آخر میں لاہور آئے تو انکے آنے سے پہلے ہی انتظامی تبدیلیاںرونما ہوچکی تھیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 5ویں آئی جی ، تیسرے چیف سیکرٹری اورچوتھے وزیر اطلاعات کی تعیناتی کے بعد ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب کو کارکردگی ثابت کرنے کا موقع دیا گیاہے ۔آئی جی پنجاب کی 5ویں اور چیف سیکرٹری پنجاب کی تیسری مرتبہ تبدیلی کے بعد بیوروکریسی کے کچھ حلقوںنے کھل کر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ کچھ سابق افسران نے تویہاں تک کہہ دیا ہے کہ چیف سیکرٹری یا آئی جی پنجاب کی تبدیلی کی نہیں بلکہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ بیوروکریسی کا موقف ہے کے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ماضی کے مقابلے میں کمزور وزیر اعلیٰ ثابت ہورہے ہیں اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے وہ اپنے ایم پی ایز اور وزراء کی ہر تجویز مان لیتے ہیں ۔ بیوروکریسی کا یہ بھی ماننا ہے کہ محکمہ پولیس اور بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کے لئے سیاسی مداخلت بھی سسٹم کے چلنے میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ ایک سابق افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کے تبادلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ تقرر و تبادلے تک کا اختیار وزیر اعلیٰ آفس کے پاس ہے ۔ وزیر اطلاعات کی تبدیلی کی بات کی جائے تو یہ حقیقت ہے کہ صمصام بخاری اور میاں اسلم اقبال بطور وزیر اطلاعات پنجاب پی ٹی آئی کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے اورایک مرتبہ پھر فیاض الحسن چوہان ہی بہترین آپشن ثابت ہوئے ہیں۔فیاض الحسن چوہان کے رویے اور شعلہ بیانی سے اختلاف اپنی جگہ مگر جہاں تک کارکردگی کی بات ہے وہ اپنے شعبے کو بہترین انداز میں چلا رہے تھے اور اب ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کے لئے کمان سنبھال چکے ہیں ۔فیاض الحسن چوہان کی بطور وزیر اطلاعات تعیناتی ایک طرف ان مشیران کو پیغام بھی ہے کہ انکے کہنے پہ جو تبدیلیاں کی گئی تھیں انکے نتائج خاطر خوا ہ نہیں ہیں لہذا پہلی چوائس ہی درست تھی ۔وزیر اعلیٰ پنجا ب عثمان بزدار کو ایک طرف تو عمران خان کی بھرپور حمایت حاصل ہے تو دوسری طر ف پارٹی کے اندر اور باہر سے مخالفت کا بھی سامنا ہے ۔وزیراعظم متعدد بار عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کر تے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگلے چار سال بھی وہی وزیر اعلیٰ رہیں گے ۔ عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کام کر رہے ہیں مگر تشہیر نہیں کرتے ۔ لہذا ب وزیر اعظم کی امید پر پورا اترتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو عہدے کے چلے جانے کا خوف اتار کر کھل کر جارحانہ انداز میں کام کرنا ہو گا ۔ عثمان بزدار کی ڈیڑھ سالہ حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے توعمران خان کے علاوہ مجموعی طورپر پارٹی خود بھی مایوس ہی ہے مگردیکھنا یہ ہے کہ حکومتی کارکردگی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا کردار کتنے فیصد ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب کی موجودہ پوزیشن پر ایک واقعہ یا د آ گیا ہے ــ، آپ بھی کارکردگی کو چھوڑیںاور واقعہ پڑھیں۔۔۔ ــ’’ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل کابادشاہ شیر کچھ بیمار ہو گیا تو تمام جانوروں نے مل کر بیمار بادشاہ سے نجات حاصل کرنے کی ترکیب سوچنا شروع کر دیا ۔ بادشاہ کی کونسل کو بھی اعتراض تھا کہ ایک تو بادشاہ اپنا شکار خود نہیں کرتا اور دوسرا سب کام بھی انھیں کرنا پڑتا ہے ۔ایک بوڑھے ریچھ نے تجویز دی کے اگر بادشاہ تندرست ہوتا تو انھیں زیادہ کام کرنا پڑتا اور کسی کے پاس اتنے اختیارات بھی نہ ہوتے مگر بوڑھے ریچھ کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کونسل کے ممبران نے بغاوت کے فیصلے پر اتفاق کر لیا ۔ بیمار سہی مگر بادشاہ کیونکہ شیر تھا اس لیے کسی جانور کی سامنے آ کر اختلاف کی ہمت بھی نہیں تھی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ جانوروں نے بیمار بادشاہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے لومڑ ی کی سربراہی میں کونسل میٹنگ بلا لی اور اس مقصد کے لئے ساتھ والے جنگل کی انتظامیہ کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ۔ کونسل میٹنگ میںپہلا فیصلہ یہ ہوا کہ بادشاہ کو نااہل ثابت کرنے کے لئے بادشاہ کی کونسل کا کوئی بھی شخص کام نہیں کرے گا ۔دوسرا فیصلہ یہ ہوا کہ تنخواہ اور مراعات تو مل ہی رہی ہیںمگر کونسل کے تمام ممبران اپنے اپنے محکموں میں بھتہ خوری کاکلچر متعار ف کرائیں گے تاکہ بغاوت کا ساتھ دینے والی محکمانہ انتظامیہ کو بھی کچھ دیا جا سکے ۔ تیسر افیصلہ یہ ہوا کہ کونسل کا کوئی بھی ممبر بادشاہ کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرے گا اور جسے بھی موقع ملے گا بادشاہ کو غلط مشورہ دے کرسسٹم کو فلاپ ثابت کرنے کی کوشش کر ے گا ۔ کونسل میٹنگ برخاست ہوئی تو کچھ ایماندار کونسل ممبران نے اپنا کام خاموشی سے جاری رکھنے کا ارادہ کیا کیونکہ اختلاف کی صورت میں انھیں بھی انتقام کا نشانہ بننے کا ڈ رتھا مگر مخصوص ایجنڈے پر اور بادشاہ سے خار رکھنے والے کونسل ممبران کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ لومڑی بادشاہ بننے کا خواب دیکھ رہی تھی تو ساتھ والے جنگل سے اتحادی دونوں جنگلوں پر حکومت کا خواب دیکھنے لگے تھے ۔ سازش کی اطلاعات بادشاہ تک پہنچنا شروع ہوئیں تو اس نے کونسل کی میٹنگ بلا لی ۔ بادشاہ نے کارکردگی کا سوال کیا تو کونسل ممبران نے اپنے مسائل کا رونا شروع کر دیا ۔ ایک ممبر نے بتایا کہ ساتھ والے جنگل کے حکمران ہمارے بادشاہ کو بیمار جان کر حملے کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ عوام کا کہنا ہے کہ قریبی جنگلوں کے بندر اور دیگر جانور ہمارے پھل اور دیگر اشیا چوری کرنے آ جاتے ہیں ۔ ایک ممبر بولا کہ عوام کی شکایت ہے کہ درختوں کے پھل اور دیگر وسائل تمام جانوروں میں برابر تقسیم نہیں ہو پاتے۔ایک نے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے غریب جانور دو وقت کی روٹی نہیں خرید پا رہے اور قریبی جنگلوں میں ہجرت کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ اس طرح کونسل میٹنگ ممبران کے مسائل کی نظر ہو گئی اور نہ بادشاہ کو کارکردگی جانچنے کا موقع ملااور نہ ہی بغاوت کے بارے میں پوچھ گچھ کا ـ۔ بادشاہ نے میٹنگ کے بعد کونسل نائب یعنی لومڑی کو تبدیل کر دیا ۔اسی طرح مختلف محکموں میں انتظامی تبدیلیاں بھی ہوئیں مگر ایجنڈے پر کام کرنے والے ارکان حسب معمول سازشوں میں مصروف رہے اور تبدیلیوں کا سرکل بھی چلتا رہا۔


ای پیپر