خدمات پرقائمہ کمیٹی کا ایکشن
04 دسمبر 2019 2019-12-04

سپین کے ساحلی شہر بارسلونا کے نجی ریسٹورنٹ میں منعقدہ حمایتی اجلاس میں دھواں دار تقریریں ہو رہی تھیں کوئی قونصلیٹ جنرل کو فرشتہ سیرت کہہ رہا تھا تو کوئی پاکستانی تارکین وطن کے لیے مسیحاکا لقب دے رہا تھا مگر راقم سمجھنے سے قاصر تھا کہ معاملہ کیا ہے؟کسی نے قونصلیٹ جنرل کی شان میں گستاخی کی ہے؟ یا اُنھیں ڈرایا دھمکایا ہے عمران علی چوہدری کی حمایت میںشعلہ بیان مقررین دلائل دے رہے تھے رات ڈھلتی جا رہی تھی مگر مقررین کے جوش وخروش میں اضافہ ہورہا تھا حمایتی تقریب رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟وضاحت نہیں ہورہی تھی مجھے بھی بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانے میںسی جی سے ایک دو بار اُن کے دفتر میں ملنے کا اتفاق ہوا وہ ہر بارپُرتپاک طریقے سے ملے جو بھی بات کی شائستگی سے دھیمے لہجے میں جواب دیا ایک بار پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل پر بات چلی تو کہنے لگے پاکستانیوں کا بڑا مسئلہ پاسپورٹ ہے قانونی طریقے سے جو بیرونِ ملک نہیں آتے اُن کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے اُنھیں رہائشی کاغذات بنوانے میں مشکل ہوتی ہے کہنے لگے میں نے اپنی حد تک سہولت دی ہے جو بھی پاکستانی ہونے کا ثبوت پیش کرتاہے اُسے عارضی پاسپورٹ جاری کر دیتے ہیں تاکہ وہ مقامی سطح پر اپنا اندراج کراسکے اندراج سے صحت کی سہولت بھی مل جاتی ہے اور عارضی رہائش کے کاغذات بنوانے کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے وہ قیدی ہم وطنوں کی رہائی کے لیے بھی متحرک رہتے ہیں اُنھوں نے قونصلیٹ کو کمیونٹی کا مرکزبنا دیا ہے جہاں شیرخوار بچوںکو مناسب طریقے سے رکھنے کی سہولت ہے جو بچے کھیلنا چاہیں قونصلیٹ میں الگ حصہ مختص ہے جبکہ سائلین کے مسائل حل کرنے کا پیچیدہ عمل بھی آسان بنایاہے اب ہر پاکستانی کسی بھی وقت سی جی سے براہ راست رابطہ کر سکتا ہے وہ شکایت سن کرحل ہونے تک کے تمام عمل کی نگرانی کرتے ہیں اگر سائل دفتر آنے سے قاصر ہو توقونصل جنرل خودملنے چلے جاتے ہیں اور مسئلہ حل کراکر دم لیتے ہیں طریقے وسلیقے سے کام کرنے کی بنا پرنہ صرف وہ اپنے ہم وطنوں میں مقبول ہیں اور سبھی عزت واحترام دیتے ہیں بلکہ اُنھیں سپین کے حکومتی حلقوں میں بھی پذیرائی حاصل ہے پھر مسئلہ کیا ہوگیا ہے کیوں پاکستانی کمیونٹی اضطراب کا شکار ہے؟

میرے لیے حیرانگی کی بات یہ تھی کہ حمایتی اجلاس میں مسلم لیگ ن،مسلم لیگ ق،پیپلزپارٹی ،تحریکِ انصاف سمیت ہر جماعت کے عہدیدار شریک تھے کاروباری ،سیاسی، مذہبی حتیٰ کہ سماجی شعبے کے معتبرین کی بڑی تعداد نمایاں تھی سب کا ایک ہی نقطے پر اتفاق تھا کہ بارسلونا کے قونصل جنرل اچھے اور ایماندار شخص ہیں جنھوں نے پاکستانیوں کے مسائل حل کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اِس لیے اُنھیںکسی کی ناپسندیدگی کی وجہ سے تبدیل کرنا درست نہیں میں نے پاس بیٹھے ایک صاحب سے دریافت کیا مسئلہ کیا ہے ؟کچھ مجھے بھی تو آگاہ کیا جائے جو شخص ہر مکتبہ فکر میں یکساںمقبول ہے اُسے کون تبدیل کر رہا ہے ؟تب مجھے بتایا گیا کہ بیلجیئم کے پرویز اقبال لوہسر نے مشاہد حسین سید کے ذریعے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو درخواست گزاری ہے کہ قونصلیٹ عمران علی چوہدری کا رویہ ٹھیک نہیں جس پر کارروائی کی جائے قائمہ کمیٹی نے بازپُرس کے لیے یہ مسئلہ اجلاس کے ایجنڈے پر رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی بہت مضطرب ہے اور عمران علی چوہدری جیسے شخص کے خلاف قرارداد پیش ہونے پر رنجیدہ ہے یہ میرے لیے ایک انکشاف سے کم نہیں تھا جب موجودہ قونصل جنرل سے بغیر کسی تعارف کے میری پہلی ملاقات ہوئی تب بھی اُن کا رویہ دل جوئی کرنے والا تھا یہ وہ دن تھا جب وہ قونصلیٹ کے دروازے پر کھڑے ہوکر مسائل سُن رہے تھے اور ساتھ ساتھ عملے کو ہدایت دیتے جارہے تھے کہ مسئلہ کیسے حل کرنا ہے جب ہجوم قدرے کم ہوا تو میں نے بھی علیک سلیک کی گلے لگا کر پُرتپاک طریقے سے ملے اور مسئلہ دریافت کیا جنب میں نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ویسے ہی ملنے کے لیے آگیا ہوں تو کہنے لگے آپ کو کیونکہ کوئی مسلہ درپیش نہیں اِس لیے مجھے ہم وطنوں کی مشکلات سُن لینے دیں تاکہ کوئی مایوس نہ لوٹ جائے پھر آپ کو چائے پلاتا ہوں یہ پہلا تاثر تھا جس کی وجہ سے عمران علی چوہدری کی میرے دل میں عزت پیدا ہوئی وگرنہ وزارتِ خارجہ کے آفیسروں کے بارے میں میری رائے کبھی اچھی نہیں رہی نک سک سے اور بے زار سے چہرے دیکھ دیکھ کر مجھے چڑ سی ہوتی ہے مگر عمران علی چوہدری سے مل کر ذہن میں بنے امیج میں پہلی بارشکست وریخت ہوئی بعدازاں چائے پلاتے ہوئے کتنی عاجزی اور شفقت کا مظاہر ہ کیا وہ میرے تصورات سے قطعی مختلف تھا مگر میں نے دل کو تسلی دی ممکن ہے آج صاحب کا موڈ ویسے ہی خوشگوار ہو ۔

قونصل جنرل سے دوسری ملاقات پاکستان میں ہوئی تب بھی آفیسرانہ نخوت محسوس نہ ہوئی پھر بھی ذہن میں بنے تصوراتی خاکہ تبدیل نہ ہواکہ ممکن ہے اپنے دیس آکر رویہ اچھا ہو گیا ہو لیکن چند گھنٹوں پر محیط ملاقات میں راقم نے محسوس کیا کہ عمران علی چوہدری روایتی بابو نہیں بلکہ روایت شکن اور بااخلاق شخص ہیں وہ باتیں کرتے ہیں تو ملک کا درد صاف محسوس ہوتا ہے اُنھیں ہم وطنوں کی پریشانیوں کا مکمل ادراک ہے وہ فرائض ادا کرتے ہوئے اپنے آرام کی پرواہ بھی نہیں کرتے کیونکہ فرائض کی بجاآوری ثواب کی نیت سے کرتے ہیں سپین میںتیسری ملاقات کے دوران انھوں نے پہچان لیا اور کہا کہ آج بھی آپ کو کوئی کام نہیں تو آئیں خلوص والی چائے پیتے ہیں عملہ لنچ کرنے گیا ہے اِس لیے ابھی فارغ ہوں باتوں کے دوران کشمیریوں کی حمایت کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اب قونصل خانے کا دروازہ بند نہیں رہتانہ ہی کسی کومایوس جانے دیتے ہیں بلکہ میں نے بیرونی دروازے پر کھڑے ہو کر مسائل سُننے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے غلط راستوں سے آنے والوں کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی مگر جو راستوں کی مشکلات جھیل کر آجاتے ہیں میری کوشش ہے کہ اُنھیں مزید امتحان میں نہ ڈالا جائے ایسے مہربان شخص کے خلاف کاروائی سے پہلے سینٹ کی قائمہ کمیٹی اور مشاہد حسین سید کو کچھ سُن گُن لے لینی چاہیے جس کی حمایت میں پوری پاکستانی کمیونٹی متحد ہے حالانکہ ہم تو جماعتوں کی تفریق کا بُری طرح شکار ہیں مگر عمران علی چوہدری سے تو خدمات کی بدولت سب پیار کرتے ہیں کسی حاسد ،مخالف یا منافق کی خوشی پر نیک نام اور فرض شناس آفیسر قربان کرنا انصاف نہیں ہم وطنوں سے دشمنی ہیے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو خدمات پر ایکشن لینے کی بجائے فرض شناسوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔


ای پیپر