زاہد انصاری جواں جذبوں کا شاعر
04 دسمبر 2019 2019-12-04

شاعر اور ادیب معاشرے کے اہم اور حساس لوگ ہوا کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ دوسروں کے دکھ درد کو نا صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ انہیں دور کرنے سے متعلق حل بھی پیش کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کا ادیب اور شاعر ہمیشہ نظر انداز ہوتا آیاہے۔ معاشرہ اسے اس کا جائز مقام نہیں دیتا اور اسے بے مقصد تک تصور کرتا ہے جبکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کی بغیر کسی صلے کی خواہش کے سماجی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اگر کوئی زیادتی، کوئی ظلم اور کوئی نا انصافی ہوتی ہے تو اس کے خلاف آواز بھی بلندکرتے ہیں۔

ماضی میں جھانک کر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان بیدار ذہنوں نے انسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھر پور احتجاج کیا اور انہیں استحصالی گروہوں اور حکمرانوں نے نجات کا راستہ بھی دکھایا۔ یورپ کے اندر بالخصوص سوویت یونین اور فرانس میں جب بادشاہتیں ان کی زندگیوں میں زہر گھول رہی تھیں اور ان کو اپنے ستم کا نشانہ بنا رہی تھیں تو وہ خاموش نہیں رہے ۔ اس دور ان دنیا کا کلاسک ادب تخلیق ہوا جو آج بھی پڑھنے سننے سے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور مایوس ذہنوں کو نئی قوت و زندگی سے ہمکنار کرتا ہے لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ ادیب ہوں یا شاعر معاشرے کو تبدیل کرنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ان کی ایک ایک سطر اور ایک ایک شعر گراں قدر ہے ۔

زاہد انصاری جو ایک شاعر ہے اور ابھرتے ہوئے تخلیقی منظر میں ایک بڑا نام ہے سے میری ملاقات بیس پچیس برس پہلے سانگلہ ہل میں ہوئی تھی اس وقت میں بسلسلہ روز گار وہاں گیا تھا ۔ سانگلہ ہل کے بارے مختصراً کہوں گا کہ یہاں ادب کی ایک دنیا آبا د ہے ۔ ممتاز شاعر و ادیب مشتاق احمد کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا ۔ انہوں نے نئی کتابیں شاعری کی تخلیق کیں ۔ افسانے اور ناول بھی لکھے اور کتابی شکل دی۔ فلسفے سے انہیں گہرا لگائو تھا یوں ان کو فلسفی شاعرو ادیب بھی کہا جاتا ہے ۔ ایسے بڑے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والے زاہد انصاری کی شاعری میں نکھار اور ندات واضح طور سے دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کی چھوٹی بحر کی شاعری کمال کی ہے ۔ اس سے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے سمندر میں کوئی موج ابھر آئی ہو اور کبھی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خزاں رت میں دبے پائوں بہار آ گئی ہو۔ وہ سماجی ناہمواری کے خلاف بھی سراپا احتجاج ہے ۔ گلوں کی بات بھی کرتا ہے ۔ سوزو ساز اور دل کی دھڑکنوں کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کرتا ہے ۔ اس کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے!

کہیں منزل کہیں رستہ نہیں ہے

میں تھک کر گر پڑوں ایسا نہیں ہے

تری سانسوں تری دھڑکن میں ہوں میں

مگر تو نے کبھی سوچا نہیں ہے

اس طرح میرا حوصلہ کچھ اور بھی بڑھ گیا

معیاد تیری قید بڑھانے کے ساتھ ساتھ

وہ روشنی کہ پھر بھی میسر نہ آ سکی

دل بھی جلا ہے گھر کو جلانے کے ساتھ ساتھ

زاہد انصافی پنجابی میں بھی خوبصورت شعر کہتا ہے بلکہ میں یہ کہوں کہ وہ اردو سے کہیں بہتر پنجابی میں شعر کہتا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ پنجابی کا شاعر ہے۔ وہ دونوں رستوں کا مسافر ہے اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ مجھے پوری امید ہے کہ ایک نہ ایک روز وہ اپنے دوستوں اور اساتذہ جن میں حیدر رضا حیدر کا نام نمایاں ہے کہ مقابل کھڑا ہو جائے گا کیونکہ اس میں جذبہ حصول منزل گویا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے لہٰذا اس نے اپنے اوپر وہ کیفیت طاری کر رکھی ہے جو بلندیوں کو چھونے کے لیے درکار ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں یہ نا انصافی عام ہے کہ بڑے ناموں والے شاعر اور ادیب اپنے سے کم عمر شاعروں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں بخیلی سے کام لیتے ہیں بلکہ کچھ تو باقاعدہ انہیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں جبکہ خلیل جبران کہتا ہے کہ ’’ ہر بیج میں شوق نمو ہے ‘‘ میں بہت سے اپنے ایسے دوستوں کو جانتا ہوں جنہوں نے درجن بھر کتابیں افسانوں اور شاعری کی چھپوائیں مگر ان میں قابل توجہ مواد موجود نہیں تھا۔ لہٰذا اب وہ کسی محفل میں کسی تذکرے سے محروم ہیں مگر زاہد انصاری کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر خیال کو مجسم نہیں کرتا بس اسی کو شعر کی صورت میں ڈھالتا ہے جو اجتماعیت کے حوالے سے ہو انسانیت کے لیے ہو اور معاشرے کی ہر پرت کو قبول ہو وہ سوچوں کو تقویت بھی دیتا ہے ۔ اور سوئے دماغوں کو جگاتا بھی ہے ۔

کوئی تو اپنی صدائوں پہ کہے گا لبیک

آئو اک بار ذرا پھر سے صدا دی جائے

اک نہ اک روز بھڑک اٹھے گا شب کا سکوت

بجھتے شعلوں کو ذرا پھر سے ہوا دی جائے

اسے پنجابی میں بھی کہنے کا خوب ڈھنگ آتا ہے ۔ اس کی پنجابی شاعری میں ثقافتی جھلک واضح طور سے دیکھی جا سکتی ہے وہ فضافاقی زندگی کا عمیق مشاہدہ رکھتا ہے ۔ اپنے ارد گرد کے ماحول پر اس کی گہری نظر ہے ۔ لہٰذا اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو وہ دیکھتا ہے اس کا تجربہ کرتا ہے پھر اسے اپنی شعری فکر یں سمو لیتا ہے اور اسے مخصوص انداز سے عام کر دیتا ہے ۔

سارے گھر چوں پُتر ہندا عیبی ویلی

ماں جھلی نوں سب توں ودھ کے اوہدیاں رہن اڈیکاں

کنڈ ولا کے لنگھن والیو و ڈے غیرت مندو

محلاں دیوچ بیٹھے ہوئے سُندے کیوں نئیں چیکاں

جس دے نال حیاتی دامیں بنال سانجھا رکھیا

اوہ وی جاندی واپس کر گئی ساڈیاں چھاپاں چھلے

قسمیں رب دی اوہنے چھڈ یا میں نئیں چھڈیا او اوہنوں

ساڈی جگ ہنسائی ہوئی اوہدی بلے بلے

خلیل جبران شاعر کے بارے میں کہتا ہے کہ ایک شیریں چشمہ، جس سے پیاسی روحیں پانی پیتی ہیں۔ ایک سفید بادل جو خط شفق پر نمو دار ہو کر پھیلتا ہے، بلند ہوتا ہے اور آسمان پر چھا جاتا ہے پھر برستا ہے تاکہ چمن حیات کے پھولوں کو سیراب کرے! زاہد انصاری جس نے دلوں پر قبضہ جما لیا ہے وہ دماغوں پر چھا سا گیا ہے ۔ ایسے شاعر اور ادیب یقینا ہمارا اثاثہ ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے!


ای پیپر