اسلام آباد ہائیکورٹ کازرداری کی درخواست ضمانت پر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم
04 دسمبر 2019 (16:56) 2019-12-04

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت بعد از گرفتاری کے معاملے پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیا۔

بدھ کو عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے پوچھا کہ درخواست کس بنیاد پر دائر کی گئی ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ درخواست ضمانتیں طبی بنیادوں پر دائر کی گئی ہیں۔اس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا کوئی میڈیکل بورڈ بھی بنایا گیا ہے،جس پرفاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ جی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی درخواست ضمانت کے ساتھ منسلک کی ہے۔

وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ میڈیکل بورڈ کس نے بنایا تھا؟اس پر آصف زرداری کے وکیل نے کہا کہ یہ میڈیکل بورڈ عدالتی حکم پر بنایا گیا تھا۔اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ پمزہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ بنواتے ہیں۔ عدالت نے 11 دسمبر تک میڈیکل بورڈ سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔دریں اثنا فریال تالپور کی درخواست ضمانت کا معاملہ بھی زیر سماعت آیا، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تحریری جواب طلب کرلیا۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں عدالت عالیہ میں سابق صدر کی جانب سے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے توسط سے عدالت میں جعلی اکاو¿نٹس اور پارک لین کیسز میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔

آصف زرداری کی جانب سے طبی بنیادوں پر ضمانت کے لیے دائر کی گئی درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور احتساب عدالت نمبر 2 کو فریق بنایا گیا ہے۔آصف زرداری نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا جبکہ ان کے اوپر بنائے گئے کیسز جعلی اور من گھڑت ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ آصف علی زرداری دل کے مریض ہیں اور ان کے 3 اسٹنٹ ڈلے ہوئے ہیں جبکہ ان کے سینے سے ہولٹر مانیٹر بھی لگا ہوا ہے تاکہ ڈاکٹر ان کی دھڑکن کو مانیٹر کرسکیں۔

آصف زرداری نے یہ موقف اپنایا کہ ان کو ذیابیطس کا مرض بھی ہے اور ان کا شوگر لیول اوپر اور نیچے خطرناک حد تک ہوتا رہتا ہے، جس کی نگرانی کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو مزید بیماریاں بھی لاحق ہیں، لہٰذا ان کے علاج کے لیے طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کی جائے۔علاوہ ازیں فریال تالپور کی جانب سے بھی اپنی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ ایک خصوصی بچی کی والدہ ہیں اور ان بچی کی دیکھ بھال کے لیے ٹرائل مکمل ہونے تک ضمانت دی جائے۔خیال رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی، آصف زرداری کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے لیے درخواست دے گی اور امید ہے فوری اجازت مل جائے گی۔


ای پیپر