فائل فوٹو

حکومت، اپوزیشن میں نئے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران پر اتفاق نہ ہوا
04 دسمبر 2019 (15:52) 2019-12-04

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ میں صرف 2 روز باقی ہیں، لیکن ابھی تک حکومت اور اپوزیشن میں نئے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا۔

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا، شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے ممبران کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر کا نام بھی متفقہ طور پر فائنل کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جس کے لیے عدالت سے کچھ وقت لیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اب اگلے ہفتے ہوگا۔

اس سے پہلے پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور مسلم لیگ ن نے اپنا ایک ایک رکن تبدیل کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے فخر امام کی جگہ پرویز خٹک کو شامل کیا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے مرتضی جاوید عباسی کی جگہ شہزہ خواجہ فاطمہ کو کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں تبدیلی کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں، مسلم لیگ ن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کا معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کی پیپلزپارٹی نے مخالفت کی اور رہبر کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے پہلے اپوزیشن رہنماؤں نے سپیکر اسد قیصر سے بھی ملاقات کی، ملاقات میں ایاز صادق، نوید قمر، شازیہ مری اور راجہ پرویز اشرف شامل تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن سے اپنے رویے میں لچک دکھانے کی اپیل کی۔


ای پیپر