خاتون اوّل سے اپیل
04 دسمبر 2019 2019-12-04

خاتون اوّل ، محترمہ بشریٰ بی بی ،کے لئے یتیم اور لاوارث لڑکیوں کی پناہ گاہ ’ کاشانہ‘ کے در و دیوار اجنبی نہیں ہیں، وہ یہاں گذشتہ برس تشریف لا چکی ہیں اور اب اسی ’کاشانہ‘ میں مقیم ستاون بچیوں کے مستقبل کا سوال ہے۔’ کاشانہ‘ وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کی فیملی کے لئے بھی اجنبی نہیں کہ انہوں نے اس شرمناک صورتحال کی نشاندہی پر کاشانہ کا وزٹ کیا اور حالات سے آگاہی حاصل کی جس کے اگلے ہی روز ڈی جی سوشل ویلفیئر افشاں کرن کو نہ صرف تبدیل کر دیا گیا بلکہ ان کے خلاف مس کنڈکٹ کی انکوائری بھی شروع کر دی گئی جو روایتی انجام کا شکار ہو ئی۔

ابتدائی شکایت سادہ ہے کہ ملک بھر میں موجود بہت سارے دارالامانوں کی طرح لاہور کے کاشانہ میں بھی یتیم اور لاوارث بچیوں کی عزت ، مستقبل اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں مگر یہا ں خطرات خود ان سے لاحق ہیں جن پر تحفظ کی ذمہ داری ہے۔یہ معاملہ تیس مارچ کی آدھی رات کے بعد اس وقت شروع ہوا جب سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ایک مشکوک شخص کاشانہ میں داخل ہوا اور بچیوں کے کمروں کی طرف چلا گیا۔ چوکیدار نے نہ صرف اس کے لئے بغیر کچھ پوچھے دروازہ کھولا بلکہ بغیر ایک لفظ کہے اسے رہائش گاہوں کی طرف جانے بھی دیا۔ وہ شخص کون تھا اور آدھی رات کو بچیوں کے کمروں میں کیا کرنے گیا تھا، اس امر کی تحقیقات کیوں نہیں ہوسکتیں، اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد وہاں کا سٹاف تبدیل کرنا ضروری نہیں تھا بلکہ اس شخص کی شناخت اور کی گئی حرکتوںکا پتا چلانا ضروری ہے۔

اس کے بعد کی شکایت اتنی سادہ نہیں ہے کہ جب اس معاملے کی رپورٹ ڈی جی سوشل ویلفئیر افشاں کرن کو دی گئی تو انہوں نے حیرت انگیز رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سرانجام دینے والی افشاں لطیف کو مبینہ طور پر وزیر سوشل ویلفیئر اجمل چیمہ کا حکم پہنچایا کہ ایک ماہ کے اندر چودہ سے سولہ برس عمر کی تمام لڑکیوں کی شادیاں کر دی جائیں۔ یہ پلاننگ بھی کی گئی کہ کاشانہ کے اندر پانچ مرلے پر تین منزلہ فلیٹس تعمیر کئے جائیں گے اور وہ لڑکیاں شادیوں کے بعد ان میں شفٹ ہوجائیں گی۔ حکم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مردوں یعنی دولہوں سمیت شادیوں کے تمام تر انتظامات اجمل چیمہ صاحب خود کریں گے تاہم ایک ماہ میں فلیٹ تعمیر ہونا ناممکن تھے لہٰذا ترمیمی حکم جاری کیا گیا مردوں کے اسٹاف روم سمیت تین کمروں کو لگژری بیڈرومز میں تبدیل کر دیا جائے۔ یہ عجیب وغریب مگر واضح طور پر بدبودار احکامات تھے کیونکہ بچیوں سے کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنی شادیوں کے بارے میں اپنے اپنے خاندانوں میں ہرگز کچھ نہ بتائیں۔

افشاں لطیف کہتی ہیں کہ وہ ان احکامات کے سامنے ڈٹ گئیں جس پر ان کی بجائے تمام اختیارات ڈائریکٹر جنرل کی رشتے دار اوکاڑہ کی ان پڑھ خاتون صائمہ کے حوالے کر دئیے گئے۔ اس دوران وزیر صاحب خود دفتر کے سرکاری نمبر سے انہیں فون کرتے رہے، وہ خود بھی کاشانہ تشریف لائے اور سپرنٹنڈنٹ کی کرسی پر بیٹھ کر سخت باتیں کیںجن میں دھمکیاں بھی شامل تھیں۔وہ یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لائیں تو انہوں نے جہاں یہ کیس چیف منسٹر انکوائری ٹیم کو بھیج دیا وہاں خود اپنی فیملی کو کاشانہ میں حقائق جاننے کے لئے بھیجا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وزیر کے بارے میں شکایت پر سی ایم آئی ٹی تحقیقات کر رہی تھی جب کابینہ میں ری شفلنگ ہوئی تو اسی کو سی ایم آئی ٹی کا وزیر بنادیا گیا جس کے ساتھ صوبے کے اعلیٰ ترین عہدے کے لئے تحقیقات کرنے والے ادارے کا رویہ مکمل طور پر بدل گیا۔ افشاں لطیف، سی ایم آئی کے ممبر ندیم وڑائچ کا کھل کر نام لیتی ہیں جنہوں نے نہ صرف کاشانہ میں آکر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ بچیوں کے کمروں میں جا کے ان کے پرائیویٹ ڈریسز بھی چیک کرتا رہا۔ اسی ممبر سی ایم آئی ٹی نے الزام لگایا کہ اس سے بدتمیزی کی گئی ہے لہٰذا افشاں لطیف کو معطل کر دیا جائے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ افشاں لطیف معطل ہونے کے باوجود اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں اور ا س دوران ایک مرتبہ انہوں نے اکیلے اور دوسری مرتبہ پوری ویگن بھر کے بچیوں کے ساتھ جا کے اپنے بیانات قلم بند کروائے۔ صوبائی وزیر خود بتاتے ہیں کہ افشاں لطیف سی ایم آئی ٹی میں کھڑی رو رہی تھی کہ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ بیٹی میں تمہاے ساتھ ہوں مگر افشاں لطیف کہتی ہیں کہ جب وہ وہاں کھڑی رو رہی تھیں تو اس وقت صوبائی وزیر نے انہیں بازو اور ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا اورچیئرمین سی ایم آئی ٹی اس وقت مخصوص انداز میں مسکراتا رہا۔ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ جب پرائم منسٹر کے سٹیزن پورٹل میں تمام دستاویزات کے ساتھ شکایت کی گئی تو سی ایم آئی ٹی بارے شکایت بھی انکوائری کے لئے سی ایم آئی ٹی کو ہی بھیج دی گئی۔ معاملات دن بدن خراب ہوتے جا رہے تھے کہ اس روئیے پر افشاں لطیف نے ایک خط چیئرمین سی ایم آئی ٹی پرویز کو لکھا اوراس کی نقول چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس کو بھی بھیج دیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے ہی روز افشاں لطیف کی جگہ پر پوسٹنگ کر دی گئی اور تھانہ ٹاو¿ن شپ کی پولیس نے ایک سرکاری دفتر پر دھاوا بول دیا۔ افشاں لطیف نے جرا¿ت کا مظاہرہ کیا اور صورتحال پر ویڈیو میسج سوشل میڈیا پر سب کو بھیج دیا۔ پولیس کاشانہ کا گیٹ توڑکر اندر داخل ہو ئی اور افشاں لطیف کو شوہر سمیت گرفتار کرلیا۔ تھانے لے جا کر بتایا گیا کہ ان پر دہشت گردی اور بچیوں کو یرغمال بنانے کے الزامات ہیں مگر اس وقت تک میڈیا پر سب کچھ آ چکا تھا لہٰذا تھانے دار عمران نے افشاں لطیف کا سمارٹ فون توڑ ڈالا تاکہ اس میں موجود سب ثبوت ختم ہوجائیں۔

ہمارے سامنے افشاں لطیف خواتین میں جرا ¿ت اور بہادری کی ایک مثال کے طور پر موجود ہے کہ جس وقت تھانے دار عمران اپنی تھانے داری دکھا رہا تھا تو افشاں کے شوہر نے کہا کہ جو یہ چاہتے ہیں لکھ کر دے دو کہ تمہاری تمام شکایات غلط فہمی بلکہ جھوٹ پر مبنی ہیں اورمعافی مانگ لو مگر افشاں نے ڈرنا اور جھکنا مناسب نہیںسمجھا کہ اس کے سامنے کاشانہ کی ستاون بچیوں کی عزت اور مستقبل تھا۔ ہمارے سامنے وہ صوبائی وزیر موجود نہیں ہیں۔ وہ صرف ان پروگراموں میں گئے ہیں جہاں وہ یکطرفہ پروپیگنڈہ کر سکیں جبکہ افشاں لطیف کی شرط ہے کہ وہ تمام ثبوت صوبائی وزیر کے منہ پر ان کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہے یوں تمام پروگراموں کی رابطہ ٹیموں کے سامنے صوبائی وزیر آگے آگے بھاگ رہے ہیں جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ افشاں لطیف کو منہ پر جھوٹا کہیں، قسم اٹھائیں اور قرآن پر ہاتھ رکھیں مگر ان کا موقف ہے کہ وہ یہ ان کا سٹیٹس ہی نہیں کہ وہ ایک سرکاری ملازم کے ساتھ بیٹھیں، اس موقف کو راہ فرار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اگر الزامات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ صوبائی وزیر کاشانہ میں چودہ سے سولہ برس کی بچیوں کو استعمال کرتے ہوئے عیاشی کا اڈا بنانا چاہتے تھے جس میں ڈی جی سوشل ویلفیئر افشاں کرن بھی ان کے ساتھ تھیں مگر افشاں لطیف نے اب تک سامنے آنے والے حقائق کے مطابق اس شیطانی منصوبے کو ناکام کر دیا۔ میرا خیا ل ہے کہ خاتون اول کو بھی دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ساتھ وہ تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھنی چاہئیں جن میں سے کچھ میں نے دیکھی ہیں اور ایک خاتون کو ایک دوسری خاتون کی اس وجہ سے مدد کرنی چاہئے کہ وہ بہت ساری بچیوں کی عزت اور مستقبل بچانے کےلئے جدوجہد کر رہی ہے۔


ای پیپر