دیوار گرانے سے کیا ہو گا
04 دسمبر 2018 2018-12-04

گورنر ہاؤس کی دیواریں گرادینے سے کیا ہوگا؟ ممکن ہے چند حاشیہ بردار مبارکباد کے پیغام دیکر اس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیں۔ حاشیہ برداروں کا تو کام ہی یہی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے ہر فیصلہ پر لبیک کہہ دینے والے جذباتی کارکن سوشل میڈیا پرحمایت میں طوفان برپا کر دیں۔ چند ٹویٹ سوشل میڈیا پر مہم۔ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ لیکن جناب وزیر اعظم فیصلہ تو آپ نے کیا ہے۔ اپنے کیے ہر فیصلے کی سزا جزا تاریخ کی عدالت میں آپ نے بھگتنی ہے۔ آپ نے حکم کیا یہ دیواریں گر جائینگی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب تک یہ کالم شائع ہو گا تب تک وہ دیوار صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہو ۔ اور موقع پر صرف ملبہ پڑا ہو ۔یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی عدالتی فیصلہ آ جائے اور حکم امتناعی مل جائے۔ لیکن اب بھی وقت ہے یہ فیصلہ واپس لے لیجئے کیونکہ یہ ایک غیر ضروری جذباتی فیصلہ ہے۔جس کا کوئی نقصان نہیں تو فائدہ بھی نہیں۔ آپ نے اور آپ کی پارٹی نے ان گنت فیصلے کیے۔ اور ان فیصلوں کو نا قابل عمل غیر ضروری سمجھ کر بدلا۔ آپ نے خود فرمایا کہ یو ٹرن اچھی لیڈر شپ کی نشانی ہے۔ اپنے فیصلوں سے رجوع کرنا عملیت پسندی کا مظاہرہ کرنا مقبولیت کی نشانی ہے۔ لہٰذا اس فیصلے پر بھی یو ٹرن لے لیا جائے تو کیا حرج ہے۔ آپ نے کئی سیاسی شخصیات کو جن کا آپ نام بھی سننا گوارہ نہیں کرتے تھے۔جن کی طرز سیاست سے آپ کو شدید اختلاف تھا۔جن کو آپ چپڑاسی کا عہدہ دینے کیلئے بھی تیار نہ تھے۔وہ بھی تو آپ کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ آج وہ آپ کے مشیر،سب سے قریبی وزیر ہیں۔ آپ نے کئی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا۔ جن کے متعلق آپ کے جذبات میں بڑی شدت تھی۔ جذبات کی اس شدت میں آپ حق بجانب تھے۔ ان جماعتوں کے متعلق آپ کا رویہ، رائے، موقف بالکل سو فیصد درست تھا۔ لیکن پھر کیا ہوا۔ٍ حالات کا نقاضا تھا۔ آپ کو کراچی کی اس جماعت کو اپنا اتحادی بنانا پڑا۔ اس جماعت نے کراچی میں آپ کی پارٹی سے شکست کھائی۔ لیکن پھر بھی چند سیٹیں جیت گئی۔ حکومت سازی میں آپ کو مشکلات کا سامنا تھا۔ حکومت سازی تو کرنا تھی۔بالکل ٹھیک کیا ۔ اپنے منشور اپنے نصب العین، اصلاحات پر عمل در آمد کیلئے اقتدار میں آنا ضروری ہوتا ہے۔ آپ نے بالکل درست فیصلہ کیا ۔ جو ووٹ آپ کو درکار تھے مل گئے۔ باقی جو کچھ بھی ہے وہ ماضی ہے۔ آپ تو اس جماعت کے خلاف ثبوت لیکر لندن بھی گئے تھے۔ لیکن بہر حال آپ نے اس جماعت کے متعلق اپنے موقف میں جو میں لچک پیدا کی۔ آج وہ جماعت آپ کی کابینہ میں ہے۔ آپ نے ماضی میں اپنی تقاریر میں ہر الیکشن میں سیاسی قبلہ تبدیل کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا۔ لوٹا کریسی کی لعنت پر خوب برسے۔ اور قوم سے وعدہ کیا کہ ان مرمرغان بادنما کو کبھی اپنی سیاسی چھتری تلے نہیں لیں گے۔ بلکہ ان کو نشان عبرت بنائیں گے، سیاسی لحاظ سے یہ بات درست ہے۔ لیکن عملی لحاظ سے وہی کیا جو زمینی حقائق کا تقاضا تھا۔ آپ نے ان افراد کو اپنی جماعت کے ٹکٹ دیئے۔ پھر انتخابات کے بعد جب ضرورت پڑتی تو آزادحیثیت میں جیتنے والوں کے جتھے بنی گالہ میں اترے۔ اور یوں آپ کی حکومت بنی۔ آپ نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ پرویز الٰہی کے متعلق جو الفاظ کہے میں وہ الفاظ دہرا کر وقت ضائع کروں گا ۔ وہ الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن آج وہ آپ کے اتحادی سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی کے سپیکر ہیں۔ ان کا خاندان مرکزی کابینہ میں بھی ہے۔ صوبائی کابینہ میں بھی۔ شنید ہے کہ اگلے چند روز میں چوہدری خاندان کے مزید نونہال آپ کی کابینہ کے رکن ہوں گے۔ آپ نے قرضے معاف کرانے والوں کو بھی تو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔ جب اتنے بڑے بڑے فیصلے واپس لے لئے تو ایک گورنر ہاؤس کی دیوار کا ایشو کتنا بڑا ہے؟یہ فیصلہ تبدیل کرنا کیوں ضروری ہے۔ کیونکہ عوام میں تاثر عام ہے کہ مشیران کرام غلط فیصلوں سے توجہ ہٹانے کیلئے آپ کی توجہ غیر ضروری اقدامات کی جانب مبذول کرا رہے ہیں۔ تاکہ اس طرح سطحی اقدامات سے عوام کو خوش کیا جا سکے۔ ایک دیوار گرنے سے عوام کو کیا ریلیف ملے گی۔ یہ بات کم از کم میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ ملک اور قوم کے سامنے غیر معمولی حالات ہیں۔ جو حکومت وقت کی توجہ چاہتے ہیں۔ انتہا پسندی کے خلاف آپ کی حکومت نے موثر ابتدائی کا روائی کی ہے۔ قوم کی غالب اکثریت نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ لیکن اس جن کو مستقل طور پر بوتل میں بند کرنا ہوگا۔ اس کیلئے غیر معمولی یکسوئی فیصلہ سازی درکار ہے۔ آپ کے وزراء کی جانب سے اپنی زبان پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے کرتار پورہ ایسا سفارتی چھکا ریورس ہورہا ہے۔ وزراء کو زبان کھولنے کی خواہش پر قابو پانا سکھائیے۔ ایف اے ٹی ایف کی پابندیاں اگلے حتمی مرحلے میں پہنچنے والی ہیں۔ جنوری میں حتمی فیصلہ ہو جائے گا ۔ اس معاملہ پر توجہ درکار ہے۔ گنے کی کرشنگ کاسیزن سر پر ہے۔لیکن شوگر انڈسٹری کے مالکان دہائی دے رہے ہیں۔ اخباروں میں اشتہاروں کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ شنید ہے کہ کسی عقل گل نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان سے کپاس بر آمد کی جائے۔ اس فیصلہ پر مقامی کاشتکار حیران، پریشان ہیں۔ مقامی مارکیٹ میں کپاس کی قیمت خرید میں ایک ہزا ر روپیہ فی من کمی ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ کس نے کیا ۔ کیوں کیا ؟ کوئی تحقیق کرے گا ؟ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ہو رہی ہے۔چین نے اب کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ قرض نہیں بلکہ سرمایہ کاری پر مبنی پیکج دیگا۔ پانی کا بحران اتنا سنگین ہے کہ خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں کمی سے مہنگائی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ نوجوانوں کی فوج ظفر موج تعلیمی اداروں سے ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے نکل رہی ہے۔ ان کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں جائیں۔ کوئی ان کو ہنر سکھانے والا نہیں۔ جرمنی کو تیس لاکھ ہنر مند افرادی قوت درکار ہے۔ وزارت لیبر کو حکم جاری کریں کہ وہ اپنے نوجوانوں کیلئے اس ملک میں مواقع تلاش کرے۔ عدالتوں میں لا تعدادمقدمات زیر التوا ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ ہے کہ بلو چستان کے دارلخلافہ کوئٹہ میں ہر ماہ ساٹھ بچے بیس مائیں فوت ہو جاتی ہیں۔ اقتصادی سرگرمیوں کا یہ عالم ہے کہ آپ کے اپنے ترجمان جناب فرخ سلیم کا بیان ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں تجارتی سرگرمیوں میں تیس فیصد کمی آئی ہے۔ اگر ایک غیر کاروباری شہر میں یہ حالت ہے تو صنعتی علاقوں میں کیا عالم ہو گا ۔ 

جناب وزیر اعظم غیر معمولی حالات آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ دیوار گرانے سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ اگر ایسے اقدام ہی کرنے ہیں تو لاہور کی جی او آر کی جانب رْخ کریں۔ اسلام آباد میں ریڈ زون کو کھولیں۔ عوام آپ سے دور رس اقدامات پر مبنی فیصلوں کی منتظر ہے۔ ایسے نمائشی اور سطحی فیصلوں کی نہیں۔ 


ای پیپر