روپیہ گرنے کی وجوہات اور اثرات
04 دسمبر 2018 2018-12-04

کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر گرنے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں۔ 

(1) حکومت خود کرنسی کی قدر کم کرتی ہے تاکہ ایکسپورٹس بڑھائی جا سکیں۔(2) جب حکومت ادائیگیوں کا توازن بہتر کرنے کے لیے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدتی ہے اور ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے۔ (3) مارکیٹ قوتوں کے اثرات (4) حکومتی کنٹرول کی ناکامی (5) جب حکومت آئی ایم ایف جیسے اداروں سے بیل آوٹ پیکیج لینے کے لیے کڑی شرائط مانتی ہے۔ (6) ڈالر مافیا کا کمال 

عمران حکومت کو اس وقت ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا بھی سامنا ہے جس کے لیے عمران حکومت کو فوری طور پر دس سے بارہ ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اسی طرح عمران حکومت کو موجودہ سالانہ بجٹ میں بھی خسارے سے واسطہ پڑ رہا ہے۔ گردشی قرضہ 1300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ غیر ملکی قرضوں پر ہر ماہ 200 ملین ڈالر سود دینا پڑ رہا ہے۔ ان تمام خساروں کی عمران حکومت خود ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے ان خساروں پر قابو پانے کے لیے کوئی سنجیدہ معاشی و مالیاتی کوشش نہیں کی ۔ عمران حکومت نے ادائیگیوں کا توازن بہتر کرنے کے لیے سعودی عرب، چین ، یو اے ای اور ملائیشیا سے قرض لینے کی جو امید لگائی تھی وہ پوری نہیں ہوئی ۔ مقامی طور پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں اضافہ کرکے 250 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے مزید 260 ارب روپے اکٹھے ہوئے ہیں اور اب عمران حکومت توانائی کے اثاثے گروی رکھ کر 200 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جبکہ پچھلے تین ماہ میں عمران حکومت سٹیٹ بینک آف پاکستان سے 1.8 کھرب روپے کا قرضہ لے چکی ہے جبکہ سادگی، اور کرپشن پر قابو پا کر اور لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر اور تارکین وطن سے پیسے اکٹھے کرنے کی پالیسیاں اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں چنانچہ آ جا کر صرف آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج ہی بچا ہے۔ اس کے لیے آئی ایم ایف نے مندرجہ ذیل شرائط لگا رکھی ہیں۔

(1) روپے کی قدر میں 150 روپے فی ڈالر تک کمی (2) ایکسائز ڈیوٹی کو 18 فیصد تک کرنا (3) بجلی اور دیگر اشیاء پر سبسڈی ختم کرنا (4) شرح سود 8.5 فیصد سے بڑھا کر دس فیصد کرنا جو کہ اسٹیٹ بینک نے کر دی ہے (5) چھ محکموں کی نجکاری 

30 نومبر کو جب پاکستان سٹاک مارکیٹ نے کام شروع کیا تو دن کا آغاز ہی ڈالر کی قدر میں آٹھ روپے کے اضافے سے ہوا اور ڈالر 134 سے بڑھ کر 142 روپے پر تھا جو 144 روپے تک گیا اور پھر 139 پر آ کر کھڑا ہوا۔ یہ بہت بڑا اضافہ تھا اور پہلے عمران خان نے کہا یہ عارضی ہے اور پھر کہاسٹیٹ بینک نے ہم سے پوچھے بغیر کیا جبکہ اسد عمر کہہ چکے ہیں مجھے اور وزیراعظم کو معلوم تھا۔ گویا روپے کی قدر میں یہ گراوٹ حکومت سے پوچھ کر کی گئی تھی اور وجہ ایک ہی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو مانا جا رہا ہے لیکن عوامی سطح پر اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا کیونکہ حکومت ذمہ داری لینے سے خوفزدہ ہے اور روپے کی قدر میں کمی کو اپنی معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی ناکامی سمجھتی ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی عمران حکومت روپے کی قدر میں کمی کر چکی ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے ہمیں ہر قسم کا خسارہ ورثے میں ملا۔ اس لیے ہمیں یہ مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے تحریک انصاف نے حکومت میں آنے کے لیے کیا ہوم ورک کر رکھا تھا کیونکہ ہر سیاسی پارٹی جو اقتدار چاہتی ہے۔ وہ اپنی معاشی و مالیاتی پالیسیاں تیار رکھتی ہے اور حکومت میں آتے ہی ان پر عمل شروع کر دیتی ہے۔ وہ عملدرآمد ابھی تک عمران حکومت میں نظر نہیں آیا۔ یاد رہے ن لیگ حکومت نے اگست 2018ء میں 17 ارب ڈالر کا زرمبادلہ چھوڑا تھا جو اب 13 ارب ڈالر رہ گیا ہے جبکہ 2013ء میں ن لیگ حکومت کو 6.64 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملا تھا۔ ن لیگ حکومت کو بھی ہر طرح کے خسارے کا سامنا تھا جبکہ ن لیگ حکومت نے فوری طور پر تقریباً 3 ارب ڈالر کا قرض آئی ایم ایف کو واپس کیا تھا جس کے بعد پاکستان کے پاس صرف 3.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچا تھا( یوں عمران حکومت اب بھی ن لیگ حکومت 2013ء سے کہیں بہتر ہے ) جو دسمبر 2016 ء میں بڑھ کر 24 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور آئی ایم ایف کو بھی خدا حافظ کہہ دیا گیا۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس اٹھارہ ہزار سے 54 ہزار تک گیا۔ معاشی ترقی کی شرح 3 فیصد سے 5.8 فیصد تک گئی۔ صرف چین سے 44 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔ ڈالر، پٹرول، گیس اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی اور نئی موٹر ویز، بندر گاہیں اور ائیر پورٹس تعمیر ہوئے اور ہسپتال اور یونیورسٹیز بنائی گئیں۔ 

عمران حکومت کی ناکامی یہ ہے کہ یہ حکومت ان سو دنوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور تجارتی خسارہ کم نہیں کر سکی۔ ریاست کی آمدن بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نظر نہیں آیا۔ ن لیگ حکومت میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے ہمارا بزنس اور ہماری ایکسپورٹس تقریباً ختم ہو گئی تھیں لیکن عمران حکومت کو لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کا یہ مسئلہ ورثے میں نہیں ملا۔ ادائیگیوں کے توازن کا فرق دس سے بارہ ارب ڈالر کا ہے۔ عمران حکومت یہ فرق ایکسپورٹ میں اضافہ کرکے یا امپورٹ میں کمی کرکے پورا کر سکتی تھی۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر بہتر کنٹرول کر سکتی تھی۔ مزید غیر ملکی سرمایہ کاری لا سکتی تھی۔ ڈونر ایجنسیوں اور دوست ممالک سے بہتر ڈائیلاگ کر سکتی تھی۔ زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے کوئی مالیاتی میکنزم شروع کر سکتی تھی۔ تارکین وطن کو کوئی بہتر پیکج دے سکتی تھی۔ (یاد رہے ان تین ماہ میں تارکین وطن کی بھجوائی گئی رقوم میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے ادائیگیوں کا توازن کچھ بہتر ہوا ہے) اسی طرع نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کر سکتی تھی۔ غیر ملکی کرنسی میں بانڈز کا اجراء کر سکتی تھی لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے۔ کسی بھی قسم کی کوئی معاشی و مالیاتی پالیسی لانے کی بجائے عمران حکومت نے یہ سو دن ڈالر مانگنے میں ضائع کر دیے۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیں اور یا پھر ن لیگ حکومت کے خلاف کرپشن کارڈ کھیلتے رہے۔ میں نے اپنے ایک کالم میں یہ لکھا تھا۔ یہ کرپشن کارڈ کھیلنے سے آپ کو کچھ نہیں ملے گا کام کریں، کام نہیں کیا اور اب آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے کے لیے شرح سود بڑھانی پڑی ہے اور روپے کی قدر کم کی جا رہی ہے۔ روپے کی قدر کم ہونے سے ایکسپورٹس تو شاید نہ بڑھ سکیں لیکن اس سے مہنگائی اور بے روزگاری کا جو طوفان آئے گااور غربت آور غیر ملکی قرضوں میں جو اضافہ ہو گا اور اس سے پاکستان کی معاشیات اور کاروبار پر جو شدید ترین منفی اثرات مرتب ہوں گے، ان کا ذکر اگلے کالم میں۔


ای پیپر