قانونی سلطان اور ملکہ خرم۔۔۔سیدھی راہ پر کون
04 دسمبر 2018 2018-12-04

سلطان سلیمان بن سلیم قانونی بھی دوسرے عثمانی حکمرانوں کی طرح سریرآرائے سلطنت ہونے کے بعد ایوب سلطان کی خدمت میں حاضر ہوادعامانگی، ناکام نہ لوٹنے کاوعدہ کیا اور تسخیر عالم کے سفر پر روانہ ہوگیا ۔ہم ایوب سلطان کی بارگاہ سے نکلے تو باہر رسم دنیاکے مطابق بازار سجے ہوئے تھے دکانیں تودکانیں کھوکھوں کی بھی کمی نہ تھی جن کے لیے مجھے عربی کلمہ’’ کشک ‘‘ زیادہ اچھا لگتا ہے ۔ ہم نے کچھ یادگاری تحائف خریدے اور سلطان محمد فاتح (۱۴۷۰سے ۱۴۶۲)کی سمت روانہ ہوگئے۔اس کے بعد شہزادہ باشا SEHZADEBASI (۱۵۴۳ء ) کو بس دور ہی سے دیکھا اور بایزید اسٹیشن سے گاڑی لے کرسلطان قانونی اور اس کی مسجد کا رخ کیا ۔راستے میں راقم کے ایک اورترک شاگرد جہات(Cihat Aydin) آ ملے۔ جہات، راقم کی ایک کتاب کانام بھی ہے جو پنجاب یونی ورسٹی کے کلیہ علوم اسلامیہ و شرقیہ نے شائع کی تھی لیکن وہ تو کہیں کتب خانوں میں پڑی ہوگی ۔ جہات نے غالباً احمد سے ہماری آمدکی اطلاع پاکر یہ پروگرام بنالیاتھا۔ درازقامت اور پراعتماد ترک نوجوان جہات سے ایک بار پھر مل کر بہت خوشی ہوئی۔ اور اس کا یوں ازروئے محبت اپنی سب مصروفیات چھوڑ چھاڑ کر محض ہم سے ملاقات کے لیے آنا اور بھی اچھا لگا ۔ترکی آخر ایک مشرقی ملک بھی تو ہے اس لیے ضرورہے کہ یہاں مشرقی اقدار زندہ ہوں۔اب ہمارے ساتھ احمد اور جہات دو راہ نما تھے ۔اوردونو ہمیں ترکی، استنبول اور سامنے آنے والی سلیمانیہ مسجدکے بارے میں بتارہے تھے۔ راستے میں ان کی یونی ورسٹی یعنی استنبول یونی ورسٹی کی کچھ فیکلٹیاں بھی آئیں انھوں نے ہمیں ان فیکلٹیوں کے بارے میں بھی بتایا۔خودجہات کی فیکلٹی بھی ان میں شامل تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر کہ بیرونی دنیامیں یونی ورسٹیوں کی عمارات جگر لخت لخت کی طرح شہربھرمیں بکھری ہوتی ہیں، اپنی یونی ورسٹی بہت یاد آتی ہے جس کے پاس ایک ہی کیمپس میں سولہ سو ایکٹر اراضی ہے۔۔۔جس پر پوراشہربسایاجاسکتاہے۔۔۔ہم ابھی احاطے کی جانب بڑھ ہی رہے تھے کہ راستے میں قبرستان آپڑا ۔قبروں کی وضع کچھ نرالی سی تھی مگر کتبے سب عربی حروف میں تھے ۔پھراسی احساس نے دردل پر دستک دی جو ایوب سلطان کے ہاں عربی عبارات دیکھ کر جاگاتھا۔ہم ان الواح کو پڑھتے رہے اور ان کی رنگا رنگ وضعوں کو دیکھ کر حیران ہوتے رہے۔حیرت تو اس بات پر بھی تھی کہ کیسے کیسے بادشاہ اور سلطان خاک کا رزق ہوجاتے ہیں جو اپنے اقتدار کی بقاکے لیے خلق خدا کے ساتھ کیڑے مکوڑوں کاساسلوک روارکھتے ہیں۔خواجہ عزیز الحسن مجذوب کی یاد آئی 

عیش دنیا کے ہیں کے دن کے لیے 

کھونہ جنت کے مزے ان کے لیے 

گر کیا ایساتو پھر یوں ہی سمجھ 

تونے ناداں گل دیے تنکے لیے 

سلطان قانونی (۶؍ نومبر۱۴۹۴ء۔۔۔ ۶؍ ستمبر ۱۵۶۶ء) عثمانی دور کا اہم اورنام ور حکمران تھا جس نے کم و بیش آٹھ ممالک کو سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنایاجن میں مشرقی یورپ کے ممالک اور ہنگری بھی شامل تھے ۔ہم اس کے مزار میں داخل ہوئے تو سامنے تین قبریں موجود پائیں جن میں سب سے بڑی سلطان کی قبرتھی ان تین کے ساتھ کچھ چھوٹی قبریں بھی تھیں جن میں سے ایک اس کی بیٹی کی تھی۔

سلطان کے نام کی نسبت کہاجاتاہے کہ اس کی ولادت پر جب اس کی والدہ نے قرآن کھولاتو سامنے پیغمبر سلیمان ؑ کانام آیا جس پر ماں نے اپنے بیٹے کانام سلیمان رکھ دیا۔جہاں تک اس کے نام میں قانونی کی شمولیت کا تعلق ہے تو اس کے مختلف اسباب بتائے جاتے ہیں بعض کا خیال ہے کہ اسے قانون میں مہارت کے باعث اور بہ 

قول بعض اس کی قانون پسندی کے باعث قانونی کہا جاتا ہے یاپھراس کے بنائے ہوئے قانون نامے اس نام کی وجہ ہیں۔ اس کی شان و شکوہ نے اسے Suleiman the Magnificentکا لقب بھی دلوایا ۔مزار کی عمارت بہت بڑی نہیں تاہم حکومت و اقتدارکا اظہار کرنے والی تھی ۔چارواور قرآنی آیات کی نہایت شاندار خطاطی، بارعب ماحول ، سلطان کو خودبھی قرآن سے شغف تھا اس کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن حکیم کے آٹھ نسخے محفوظ چلے آتے ہیں ۔وہ شاعر وں اور نثر نگاروں سے دوستی رکھنے والا اور خود بھی غزل کا صاحب دیوان شاعر تھااور محبی تخلص کرتاتھا۔ اسے مساجدد اور مزاروں کی تعمیر سے بھی دلچسپی تھی چنانچہ ۳۰؍ نومبر ۱۵۳۴ء کوجب وہ کوفہ میں داخل ہواتو اس نے یہاں مدفون امام ابوحنیفہ کے مزار کی تعمیرکاحکم دیا ۔قونیہ میں مولاناجلالا الدین رومی کے مزار کے ساتھ جو مسجد ہے وہ بھی اسی نے تعمیرکروائی۔ مسجد نبوی کی تجدید کا اہتمام کیا جس کی نشانی کاایک پتھر اب تک محفوظ چلاآتاہے۔ جس پر ’’جمادی الاول سنۃ ثمان و تسعماۃ من ھجرۃ النبویۃ ‘‘کی عبارت درج ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ تجدید جمادی الاول ۹۰۸ھ میں کی گئی ۔اس کا انتقال ایک جنگی مہم کے دوران میں ہوا،اس کے فرزند سلیم ثانی نے اس کی موت کی خبرکو تین ہفتے تک پردۂ خفامیں رکھا اور بعد ازاں میت کو استنبول بھیج دیاجہاں اس کی اپنی بنوائی ہوئی تربت میں اسے دفن کیاگیا۔ ہم اسی جگہ پر کھڑے ماضی کے ان دھندلکوں میں گم تھے لیکن بہ ہر حال ہمیں آگے بھی بڑھناتھا چنانچہ ہم نے فاتحہ پڑھی اور باہرنکل آئے ۔باہر نکلیں تو دائیں جانب اس کی مشہور و معروف بیگم کامزار ہے جس کانام حوریم سلطان یا خرم سلطانRoxelana تھا۔ یوکرائن سے تعلق رکھنے والی یہ ذہین و فطین عیسائی خاتون جو اسے تاتاریوں سے تحفے میں ملی تھی سلطان کے محل ہی پر نہیں اس کے دل پر بھی قابض ہوگئی تھی۔ سلطان قانونی کی خوشی و خرمی اس خاتون سے وابستہ رہی ۔

ہم باہر نکلے تو سامنے آبنائے باسفورس کا مسحور کن منظر ہمارامنتظرتھا ۔لیکن اس سے بھی حیران کن بات یہ تھی کہ یہاں ڈاکٹردرمش بلغر اپنے خانوادے کے ساتھ موجود تھے ۔ڈاکٹر صاحب ،ان کی پیاری بیٹی شکران ،ان کی خوش خصال اہلیہ اور ان کی مادر محترمہ سب موجود تھے۔ ان سے مل کر، ان کے زمانہ قیام پاکستان کی یادیں تازہ ہوئیں۔ انھوں نے سب گھر والوں اور پاکستان اور اہل پاکستان کے احوال دریافت کیے ۔ محمد ،الپرائن اورڈاکٹر فریدہ اپنی تعلیمی مصروفیات کے باعث اس ملاقات میں موجود نہیں تھے۔ہم نے آبنائے باسفورس کو پس منظر میں لے کر بہت سی تصویریں بنائیں اور آج کے باقی پروگرام کو ڈاکٹر درمش صاحب کے ساتھ ترتیب دیاگیا ۔نمازظہر کاوقت ہوچکاتھا ہم سلطان قانونی کی خدمت میں حاضری دے چکے تھے اب ہمیں اس کی بنائی ہوئی مسجد سلیمانیہ میں جاناتھا ۱۵۵۰ء اور ۱۵۵۶ء کے درمیان مکمل ہونے والی جامع سلیمانیہ ہمارے سامنے تھی۔داخلے سے پہلے حذیفہ اور جہات نے وضو کیامیں اور احمدانھیں وضو کی جگہ پرچھوڑ کر مسجدمیں داخل ہو گئے۔مسجدکیاہے ایک حیرت کدہ ہے ہر طرف آنکھیں روشن کردینے والی قرآنی خطاطی ،دوار گنبدوں کے اندر کی نقاشی، ستونوں کی پائیداری اور استواری مسجد کے ہال کی وسعت۔ کہا جاتاہے کہ اس مسجد کے ستونوں کا پتھر مصر کے شہر اسکندریہ اور لبنان کے شہر بعلبک سے لایاگیاتھا۔ یوں تو جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں معجزۂ فن نمودکرتادکھائی دیتاہے لیکن میری نگاہیں ایک گوشے میں ’’ قل‘‘ کے الفاظ کی تکرار سے بنائے گئے ایک دائرے پر مرتکز ہوگئیں جہاں سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ’’ قل کل یعمل علی شاکلۃ۔۔۔‘‘ کو عجیب وغریب انداز سے تکرارکے ساتھ یوں لکھاگیاتھا کہ اس دائرے میں قل کا کلمہ باربار دکھائی دے رہاتھا ۔یہ آیت ہے بھی نہایت فکرانگیز کہ ’’اے نبی! ان لوگوں سے کہہ دو کہ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کررہاہے اب یہ تمھارارب ہی بہتر جانتاہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے‘‘ (۱۷:۸۴) 


ای پیپر