عُلو
04 دسمبر 2018 2018-12-04

دَر مناقبِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم یہ ذکر ملتا ہے کہ اصحابِ رسولؐ کسی کے منافق اور مومن ہونے کی پرکھ اس کے سامنے تذکرہ علیؓ سے کیا کرتے۔ مناقبِ علیؓ سنتے ہوئے سامع کے چہرے پر انقباض کی کیفیت مترشح ہوتی تو یہ اِس اَمر کا بولتا ہوا ثبوت ہوتا کہ مخاطب گروہِ منافقین سے ہے، علیؓ کے تذکرے سے شاداں و فرحان چہرہ اس کے مومن ہونے پر دال ہوتا۔ یہ میزان ابھی تک قائم ہے۔ یہ تقسیم اور تخصیص آج بھی روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔ 

رسالتؐ۔۔۔ خالق اور مخلوق کے درمیان برزخ ہے، اور ولایت۔۔۔ رسالت اور اُمت کے درمیان واسطہ اور وسیلہ ہے۔ آسمانِ رسالت ؐاتنا عْلو اور بسیط ہے کہ مخلوق معنوی رسائی حاصل نہیں کر سکتی‘ جب تک ولایت کبریٰ کا برزخ درمیان میں معاون نہ ہو۔ قلزمِ توحید بے حد و بے کنار ہے۔ رسالت کا آغاز بھی ہے اور اختتام بھی، رسولِ ختمی مرتبتؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، ایسا ہر دعویٰ کذب و افتریٰ کے باب میں آئے گا۔ فقیہانِ اُمت کا فیصلہ ہے کہ کسی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنے والا بھی گمراہ ہے۔ ہدایت اپنی اصل میں تجریدی حقیقت ہے اور ہادی اپنی ہیت میں تخلیقی اورتجسیمی حقیقت۔ مخلوقِ خدا کو ہمیشہ ایک مجسم ہادی کی طلب ہوتی ہے، ایک مجسم وجود ہی انسانوں کیلیے حجت اور دلیل ہو سکتا ہے۔ مشیتِ خداوندی نے بغرضِ ہدائت اور اتمام حجت اوصیا و اولیا کا سلسلہ جاری کیا۔ یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری ہے۔ ولایت اَن حد ہے، ولایتِ علوی غیر مختتم ہے۔ اُمتِ محمدیہ ؐمیں تاقیامت صالحین و صدیقین، اولیا ، شہدا وشاہدین پیدا ہوتے رہیں گے۔ شہید کی شہادت اعلیٰ ترین درجے کی شہادت ہے۔

ذاتِ خداوندی اپنی اُلوہیت میں اَحد ہے، ذاتِ رسولؐ شانِ رسالت میں واحد ہے، ذاتِ علیؓ شان ولایت میں یکتا ہیں۔ تخلیق کے ہرہر مرحلے میں احد، واحد اور یکتا شریک راز ہیں۔ تخلیق کا شاہدِ اوّل علیؓ ہے۔ علیؓ ہی وہ کتابِ مبین ہے جس میں ہر خشک و تر درج ہے۔ علیؓ بس عْلیٰ نہیں‘ باقی سب کچھ ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی منقبت در شانِ علیؓ ہے۔۔۔ 

علیؓ ہے مرکز پرکارِ ہستی 

علیؓ جب بھی جہاں ہے درمیاں ہے 

علیؓ کو میں عْلیٰ کہہ دوں و لیکن

علیؓ سجدے میں خود تسبیح خواں ہے

ہر خاص و عام آگاہ ہے قولِ رسولؐ سے۔۔۔ انا مدینۃ العلم و علی بابھا ( میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا درازہ ہے)۔ ہر خاص و عام کو تاقیامت آگاہ کر دیا گیا۔۔۔ من کنت مولیٰ فھٰذا علی مولا ( جس کا میں مولیٰ ہوں‘ اس کا علیؓ مولا ہے)۔ اقبالؒ ایسے دانائے راز کے مرشدِ معنوی اپنی مثنوی مولوی معنوی میں فرماتے ہیں۔۔۔ اے طالب تو پوچھتا ہے کہ مولا کا کیا مطلب ہے؟ تو کہتا ہے کہ مولا کے معنی یہ ہیں اور یہ نہیں، بس یہ جان لے کہ جس جس معنوں میں رسولؐ مومنوں کے مولا ہیں، ان ان معنوں میں علیؓ مومنوں کے مولا ہیں۔ 

علیؓ کا تذکرہ عُلو ہے، غُلو نہیں۔ شانِ علویت میں جب لسانِ حق ناطق ہے اور ذاتِ صادقؐ و امینؐ رطب اللسان ہے توایسے میں اُمتی کی کیا مجال کہ اس شان میں کوئی کسر یا ابہام پیدا کرے۔ تذکرہ علیؓ درحقیقت سنتِ نبویؓ ہے۔ مدحتِ علیؓ سنت الٰہیہ بھی ہے اور سنتِ رسولؐ بھی۔ 

تذکرہ علیؓ آبِ حیات ہے۔ مردہ روحوں کو زندہ کرتا ہے اور زندوں کو حیاتِ جاوداں عطا کرتا ہے۔ علیؓ بقا کا مظہر بھی ہے اور منظر بھی! بقا کے منظر کے شاہدین فنا سے نکل جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ شاہد عینی شاہد ہی کو کہتے ہیں۔۔۔ کوئی مقدمہ گواہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ معرفت کا مقدمہ بھی عینی شاہدین کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اسم عالمِ اَمر اورعالمَِ خلق کے درمیان ایک برزخ ہے، اس طرح ذِکر خلق اور اَمر کے عالمین کے درمیان ایک رابطہ ‘ہاٹ لائین ہے۔ ذاکرین بھلے شاہدین میں سے نہ ہوں۔۔۔ یہ ضرور ہے کہ شاہدین کی طریقت پر چلنے کی آرزو میں پائے جاتے ہیں۔ بقول حضرت واصف علی واصف ؒ ’’عشق آرزوئے قربِ حسن کا نام ہے‘‘ انسان اسی کے ذکر سے راحت پاتا ہے جس کے قریب رہنے کی اسے آرزو ہوتی ہے۔ گویا آرزوئے قرب ہمیں قریب کرتی ہے۔ اَز روئے حدیث ’’ جو جس سے محبت کرتا ہے‘ اسی کے ساتھ محشور ہوگا‘‘۔ یعنی ہماری محبتیں ہمارا انجام ہیں۔ 

اللہ اللہ ! نعت و منقبت کہنے کا شرف جن اُمتیوں کو حاصل ہے‘ وہ کس قدر بلند نصیبے والے ہیں۔ جہاں تک اور جب تلک تذکرہ مصطفیؐ و مرتضیٰؓ رہے گا، ان کے ذکر اور ان کی محبت اور نسبت کے طفیل ناعت و ناقب بھی زندہ رہے گا۔ یقیناً یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر نہیں گایا جاتا۔ ساق�ئ لم یزل کی چشم عنایت وہ ظروف اَزل سے منتخب کر چکی ہے‘ جن ظروف میں اس نے محبت کی شرابِ طہور کو انڈیلنا ہے ۔۔۔جن ظروف کو اپنے محبوبین کے محبین کی مجالسِ ذکر و فکر میں گردش کروانا ہے۔ زہے نصیب! وہ جامِ ذکر۔۔۔ زہے مقدر! وہ رند جو پیتے ہیں اور بے حساب پیتے ہیں۔۔۔ لیکن اپنے جذب کو سلوک کی عبا میں مستور رکھتے ہیں۔ شریعت طریقت کا لباس ہے۔ 

مظہر عباس ایسا ہی ایک خوش قسمت جامِ سفال ہے جس کے سخن کے ظروف میں جامِ ولائے اہلِ بیت انڈیلی گئی اور محبین امامِ ولایت کی تشنہ سامانی کاسامان کیا گیا۔ پروفیسر مظہر مغربی طرزِ تعلیم کا تخصص رکھنے والے بڑے بڑے فائیو سٹار تعلیمی اداروں میں بطور معلم فرائض ادا کرتے ہیں لیکن ان کی نگاہ جلو�ۂدانشِ فرنگ سے خیرہ نہیں ہوتی، ان کی آنکھ کا سرمہ بدستور خاکِ مدینہ و نجف ہے۔ ان کی منقبت کا مجموعہ ’’ علو‘‘ کے عنوان سے زیرِ اشاعت ہے۔ قابلِ ستائش اور صد رشک ہے ‘ایسی کاوش جو ہمیشہ ہی قبول ہوتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ ہدیہ درود ، نعت اور منقبت ایسی عبادت ہے ‘جو کبھی غیر مقبول نہیں رہتی۔ دیگر عبادات کی قبولیت نیت کی پاکیزگی اور دیگر کئی لوازمات سے مشروط ہے۔ نعت و منقبت کہنے کی عبادت اَز خود ایسی ریاضت ہے جو نیت کو پاک کرتی ہے۔ 

ذکر کی نشانی ہے کہ جہاں ذکر ہو گا‘ وہاں جلو ۂ مذکور بھی مشہود ہو گا۔ مذکور اپنے ذکر اور ذاکر دونوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ زہے نصیب ہم ان کی توجہ میں آ جائیں جن کی توجہ کھوٹے کو کھرا کرتی ہے اور ناقص کو کامل۔۔۔ جن کی نگاہِ ناز جب اٹھتی ہے‘ تو حاضر و موجود سے بے نیاز کرتی ہے ، دو عالم سے دل کو بیگانہ کرتی ہے۔۔۔ ظاہر و باطن کی تشکیل نَو کر دیتی ہے!!’’اے ایمان والو! ایمان لاؤ!!‘‘کی تفسیر اقتدائے فکرِ امیراالمومنینؓ سے میسر آتی ہے!!

ذکر ایک بولتا ہوا فکر ہے اور فکر ایک خاموش ذکر ہے۔ ایک لمحے کا فکر ستر سال کی عبادتِ بے ریا سے بڑھ کر بتایا گیا ہے۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ جب تک فکر درست سمت میں نہ ہوگا‘ ذکر ذکر کیسے کہلائے گا۔ گیان دھیان سے ملتا ہے اور دھیان قائم کرنے کیلئے شخصی وجود کی ضرورت ہوتی ہے۔ راز یہ ہے کہ وجہہ اللہ اور عین اللہ کا راز جاننے والوں کا فکر ذکر بن جاتا ہے!! ربِ ذوالجلال ہم سب کو ذکر و فکر کی دولت سے مالا مال کرے!! درو دیوانِ دولت میں داخل ہونے کے متمنی درِ علمؓ کے دیوانِ بلاغت سے ایک قولِ لازوال سن لیں: ’’ جبار نے ہمارے درمیان جو قسمت کی تقسیم کی ‘ ہم اس تقسیم پر راضی ہیں۔۔۔جاہلوں کیلئے مال ہے اور ہمارے لیے علم ۔۔۔مال عنقریب فنا ہو جائے گا ، علم باقی رہے گا‘ علم کو زوال نہیں‘‘


ای پیپر