’’ بڑے لوگوں‘‘ کی ’’چھوٹی باتیں‘‘ ۔۔۔؟!؟‘‘
04 دسمبر 2018 2018-12-04

وہ گاڑی کے نیچے گھستا چلا جا رہا تھا ۔۔۔ میں بھی اپنے کوٹ پتلون کی پروا کیے بغیر اُس کے ساتھ ہی گاڑی کے نیچے جا گھسا ؟

باؤ ۔۔۔ تیرا تجربہ تو مجھ سے بھی زیادہ لگتا ہے ۔۔۔ پروفیسری سے پہلے لگتا ہے تو بھی اس کام میں ’’ملوث‘‘ تھا؟

’’ملوث‘‘ ۔۔۔ ’’ملوث‘‘ ۔۔۔ میرے منہ سے نکلا ۔۔۔ 

میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔ میں جلدی سے باہر آ گیا ۔۔۔ وہ بھی فوراً گاڑی کے نیچے سے نکل آیا ۔۔۔؟

ناراض ہو گئے ہو کیا ۔۔۔؟ میں نے مکینک سے پوچھا ۔۔۔

’’نہیں جی‘‘ ۔۔۔ آؤ چائے پیتے ہیں ۔۔۔ اُس نے کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے اشارے سے بیٹھنے کو کہا ۔۔۔

اوہ ۔۔۔ چھوٹے ستائیس نمبر پہ جو پرسوں نئی بیکری کھلی ہے وہاں سے دو کیک، آٹھ پیزے لے کے آ۔

اُس نے آرڈر دیا اور کرسی کا رُخ میری طرف موڑ لیا۔۔۔

مستری جی ۔۔۔ یہ ’’ملوث‘‘ کا لفظ آپ نے غلط جگہ استعمال نہیں کیا۔۔۔ وہ مسکرا دیا ۔۔۔ اور ہنستے ہوئے بولا۔۔۔

پروفیسر صاحب نہ اسکول کا منہ دیکھا نہ تعلیم سے تعلق جوڑا ’’ٹپ‘‘ سے سٹارٹ لیا ۔۔۔ پھر نوٹ ہی نوٹ ۔۔۔

اُس نے دراز سے بڑا پان نکالا ۔۔۔ منہ میں ڈالا ۔۔۔ دو چار بڑی بڑی اپنے ملازم لڑکوں کو گالیاں دیں ۔۔۔ ایک دو لڑکے سیگریٹ بجھاتے گاڑیوں کے نیچے گھس گئے ۔۔۔ باقی کھڑے گپیں ہانکتے رہے ۔۔۔ وہ پھر میری طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ (یہاں ماحول خاصہ عوامی سا تھا)۔۔۔ 

پروفیسر صاحب کتنی تنخواہ ہے خیر سے آپ کی چالیس سال بچوں کو پڑھانے کے بعد ۔۔۔ اُس نے مذاقیہ انداز میں پوچھا۔۔۔

مستری تیری دو دن کی کمائی کے برابر ہو گی ۔۔۔

وہ زور سے ہنسا ۔۔۔ آدھا پان اُس کے منہ سے گر گیا ۔۔۔ کچھ چھنٹیں اِدھر اُدھر گرے ۔۔۔ (میں دور ہی بیٹھتا ہوں پان کھانے والوں سے ۔۔۔ اُن کے ’’شر‘‘ سے بچنا ہی بہتر ہے)۔

باؤ ۔۔۔ ایک دن کی کمائی کے برابر ہو گی ۔۔۔ اُس نے معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

پھر خود ہی بولا ۔۔۔ جس دن کسی کا انجن کھل جائے سمجھو ہماری قسمت کھل گئی ۔۔۔ ایک دن کی ’’انکم‘‘ ۔۔۔ میرا سر ہلکا سا چکرایا۔۔۔ ذہن بھی سوچنے لگا ۔۔۔ اور سوچتے سوچتے ۔۔۔ کہیں گم ہو گیا ۔۔۔

مجھے یہ دوسرا ’’سچا‘‘ آدمی ملا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے میری لاہور کی ایک بڑے سنیارے سے ملاقات ہوئی وہ ہمیں ہر سال سردیوں میں ’’فیش پارٹی‘‘ پہ بلاتا ہے ۔۔۔ میں نے باتوں باتوں میں کہا ۔۔۔ علاؤالدین صاحب آپ اللہ کا شکر ادا کیا کریں اُس نے آپ کو کروڑ پتی بنایا ۔۔۔؟

’’نہیں مظفر صاحب‘‘ ۔۔۔ ’’ارب پتی‘‘ ۔۔۔ 

علاؤ الدین صاحب نے میرے فقرے کی CORRECTION کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

مجھے اپنی ڈگریوں پر شرمندگی سی محسوس ہوئی ۔۔۔ ’’مستری‘‘ بھی ان پڑھ ہے اور علاؤالدین سنیارہ بھی ان پڑھ ۔۔۔ لیکن دونوں میں ’’ریا کاری‘‘ نہیں۔ دونوں نے اُس معاملے یعنی اپنی ’’انکم‘‘ کے بارے میں سچ بولا ۔۔۔ جبکہ اکثر لوگ اپنی دولت اور انکم بہت کم بتاتے ہیں ۔۔۔ کماتے ہیں ’’دوبئی‘‘ لے جاتے ہیں ۔۔۔ ’’پانامہ لیکس‘‘ ۔۔۔ کل کے جلسے میں ’’خان‘‘ نے زور میاں صاحب پر رکھا نہ پیپلز پارٹی کو چھیڑا نہ ہی ’’رحمان ملک‘‘ یا ’’اپنے‘‘ علیم خان کی بات کی ۔۔۔ ہے ناں انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ۔۔۔ ’’خان‘‘ کا تہلکہ خیز خطاب ۔۔۔؟

میں نے آدھا پیٹریز کھایا اور ایک کیک کا پیس لیا ۔۔۔ مگر مستری نے اک پورا کیک اور پانچ پیٹریز ’’رگڑے‘‘ اور پھر سے منہ میں ’’بڑا‘‘ پان ڈال لیا ۔۔۔ انگوٹھے کی مدد کے ساتھ منہ میں دھکیلتے ہوئے۔۔۔ (یہ منظر صرف دیکھنے سے ہی بندہ انجوائے کر سکتا ہے ۔۔۔ بیان کرنے سے مزہ نہیں آئے گا)۔

’’مستری شہزادے‘‘ ۔۔۔ چائے ہو گئی اب جس محبت سے تم نے مجھے چائے پلائی ہے اُسی محبت سے میری گاڑی کا کام بھی کر دو ۔۔۔ یا میں گاڑی چھوڑ جاتا ہوں تسلی سے کر دیں سارا کام میں شام کو لے جاؤں گا ۔۔۔ مجھے رکشہ منگوا دو میں کالج کا چکر لگا آؤں ۔۔۔

’’ہاتھ نکال‘‘ مستری نے کہا۔

میں نے ہاتھ باہر نکالا ۔۔۔ اُس نے زور سے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا ۔۔۔ پروفیسر شہزادے ۔۔۔ تیرا کام ہو چکا ہے صرف نیچے اِک ’’نٹ‘‘ کو ’’بولڈ‘‘ میں ٹھیک سے کس لگانی تھی ۔۔۔ وہ تو جب میں گاڑی کے نیچے گھسا ہی تھا ۔۔۔ لگا دی تھی ۔۔۔ سب کام ’’ٹچ‘‘ ہو چکا ہے ۔۔۔ آپ شریف آدمی ہیں اور ’’معمولی‘‘ انکم میں گزارا کرتے ہیں اس لیے ۔۔۔ یہ کام ’’فری‘‘ ورنہ کوئی سرکاری آفیسر کی بیگم صاحبہ ہوتی تو ’’انجن کا کام ہو گا‘‘ ۔۔۔ کہہ کے ہم نے بیگم صاحبہ کو رخصت کر دینا تھا اور دو دن بعد ’’نٹ‘‘ کو کس لگانے کے ہم نے اسی ہزار لے لینے تھے ۔۔۔ نئے پرزے (پارٹس) ڈالنے اور کمپیوٹر چیک کی فیس چار ہزار علیحدہ ۔۔۔!

تو مستری جب بیگم صاحبہ گاڑی کھڑی کر جاتی ہیں دو دن کے لیے جس کا آپ نے تیسرے دن دو لاکھ تقریباً کمانا ہوتا ہے اک ’’نٹ‘‘ کس کے ۔۔۔ دو دن وہ گاڑی پھر اِدھر ہی کھڑی رہتی ہے ۔۔۔

اوہ ۔۔۔ نہیں بھولے بادشاہ ۔۔۔ اُس چم چم کرتی نئی نویلی ’’کمپاؤنڈ‘‘ ماری ۔۔۔ گاڑی پر یہ ہمارے ۔۔۔ لڑکے ’’ڈیٹ‘‘ مارنے نکل جاتے ہیں ۔۔۔ لنڈے سے خریدی ’’جین اور اپر‘‘ پہن کے۔۔۔ ان کے پاس بھی موبائل فون ہیں ان لڑکوں نے بھی Facebook پہ آئی۔ڈی بنا رکھی ہے ۔۔۔ آئی سمجھ ۔۔۔؟ وہ بولا۔ ’’کہو تو آپ کو Request بھیجوں۔۔۔؟‘‘

اور فیشن ایبل کالجوں کی لڑکیاں سمجھتی ہیں یہ گاڑی اس ’’شوخے‘‘ کی اپنی ہے۔۔۔؟

’’ہاں ہاں ۔۔۔ ہاں‘‘ وہ اپنے بائیں ہاتھ پہ دائیاں ہاتھ مارتے ہوئے خوب ہنسا۔۔۔

’’اچھا مستری جی‘‘ ۔۔۔ چلتا ہوں ۔۔۔ میرا دماغ نہ کہیں خراب ہو جائے آپ کی ’’بڑی بڑی‘‘ سن کے ۔۔۔ ’’ باتیں ‘‘۔۔۔؟ اُس نے میرا فقرہ مکمل کرتے ہوئے ۔۔۔ مجھ سے ہاتھ ملایا اور پھر سے مجھے کرسی پیش کر کے بیٹھنے کو کہا ۔۔۔

تمہیں تمہاری بھتیجی سے ملوانا ہے پروفیسر ۔۔۔ وہ آ رہی ہے ۔۔۔ وہ پڑھنے لکھنے کی شوقین ہے ۔۔۔

ایک لمبی گاڑی آ کر رُ کی ۔۔۔ ایک با پردہ لڑکی چابی گھماتی ہمارے پاس آ کر رُ کی ۔۔۔ نہایت ادب سے جھک کر دھیمے لہجے میں اُس نے سلام کیا ۔۔۔ ’’بیٹی بیٹھ جاؤ‘‘ ۔۔۔ میں نے کرسی پیش کی ۔۔۔ نہیں سر میں اپنے اساتذہ کے سامنے کرسی پر نہیں بیٹھتی۔۔۔ یہ میری ماں نے مجھے سمجھا رکھا ہے ۔۔۔

میں کھڑا ہو گیا ۔۔۔ مستری کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے ۔۔۔ پروفیسر صاحب ۔۔۔ تہجد گزار ہے زینب ۔۔۔ ماں کے ساتھ تہجد پڑھتی ہے ۔۔۔ پھر اپنی کتابیں کھولتی ہے ۔۔۔ فجر کی نماز تک یہ پڑھتی ہے اور اس کی ماں تسبیح کرتی رہتی ہے ۔۔۔ اس کے میٹرک میں 1062 نمبر آئے ہیں ۔۔۔؟ پروفیسر ’’اُس‘‘ کی سن ۔۔۔ اُس نے سو غریب عورتوں کا ہر مہینے ’’وظیفہ‘‘ لگا رکھا ہے ۔۔۔

پروفیسر میں دنیا میں صرف ’’اُس‘‘ سے ڈرتا ہوں ۔۔۔ سر میں نے پانچوں SUBJECT کی ٹیوشن پڑھنی ہے ۔۔۔ میں کالج میں بھی ’’ٹھیک‘‘ ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ کوئی کسر میری طرف سے نہ رہے ۔۔۔ میں آٹو موبائل میں انجینئرینگ کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ اور اپنے پاپا کا یہ کاروبار سمجھنا چاہتی ہوں تا کہ اُن ’’سو خواتین‘‘ کا وظیفہ بند نہ ہو جائے ۔۔۔ کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے اور مجھے اپنے باپ کو بیٹی ہوتے ہوئے ’’بیٹا‘‘ بھی تو بن کے دکھانا ہے ۔۔۔؟

بیٹا ۔۔۔ میں ایک SUBJECT کے پانچ ہزار اپنی اکیڈیمی میں لیتا ہوں آپ کے پانچ مضامین ہیں آپ کے پچیس ہزار بنے ۔۔۔ مستری چونکہ میرا دوست بن گیا ہے اس لیے آپ کے لیے خصوصی رعایت کل پانچ مضامین کے بیس ہزار۔۔۔!!

اوہ ۔۔۔ نو پروفیسر ۔۔۔ میں تیرے پانچ مضمون پڑھانے کے پچیس نہیں تیس ہزار دوں گا ۔۔۔ ہم یار مار نہیں ۔۔۔ یاروں کے یار ہیں۔۔۔ وہ محبت سے بولا۔

میں نے گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔۔

وہ پھر میرے پاس آیا ۔۔۔ پروفیسر ایک بچے کے پانچ مضامین پڑھانے کے پچیس ہزار روپے مہینہ لیتے ہو ۔۔۔ تمہاری اکیڈیمی میں کل کتنے لڑکے ہیں ۔۔۔؟ اُس نے محبت سے پوچھا۔۔۔

’’گیارہ سو‘‘ ۔۔۔ میں نے سادگی سے بتایا۔۔۔

’’ہائیں‘‘ ۔۔۔ گاڑی چل چکی تھی ۔۔۔ میں نے دیکھا ۔۔۔ مستری کے طوطے اڑ چکے تھے ۔۔۔ اور FM پر گل بہار بانو کی یہ غزل چل رہی تھی ۔۔۔؂

ہمیں جہاں میں کوئی صاحبِ نظر نہ ملا ۔۔۔


ای پیپر