مزید بونگیاں!
04 دسمبر 2018 2018-12-04

گزشتہ ہفتے ”یاد ماضی عذاب ہے یارب“ کے عنوان سے چار پانچ کالمز لکھنے کا آغاز گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے دورہ فیصل آباد سے ہوا تھا، یہ دورہ بیچ میں ہی کہیں رہ گیا اور مجھے میرے کالموں سے ناراض ہوکر حکمرانوں کی جانب سے دی جانے والی اذیتوں کی تفصیلات بیان کرنے کا دورہ پڑ گیا، .... میری ناقص معلومات کے مطابق چودھری محمد سرور نے پاکستان میں اپنی باقاعدہ سیاست کا آغاز نون لیگ کے ”پلیٹ فارم“ سے کیا تھا ، نون لیگ کا ایک ”چمچہ فارم“ بھی ہے، چودھری سرور چونکہ اس کا حصہ بننے میں ناکام رہے لہٰذا نون لیگ زیادہ عرصے تک ان کے ساتھ گزارا نہ کرسکی، جب انہیں گورنر پنجاب بنایا گیا بے شمار لوگوں کو حیرت ہوئی نون لیگ نے یہ عہدہ ان کی کونسی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بخشا ہے ؟، البتہ گورنر پنجاب بننے کے بعد انہوں نے کچھ فلاحی کام شروع کئے تو شریف برادران بلکہ ”نام کے شریف برادران“ اس احساس میں مبتلا ہو گئے کہ ان کارناموں کی بنیاد پر ان کا گورنر جلد ہی سیاست یا خدمت میں کوئی ایسا مقام حاصل کرلے گا جو ان کے لیے مختلف اقسام کے خطرات کا باعث بن سکتا ہے، اس خدشے کے تحت نام کے شریف برادران نے ان کی فلاحی سوچ کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف حوالوں سے انہیں تنگ کرنا شروع کردیا۔ چودھری سرور کے پاس پیسہ بہت ہے، میرے خیال میں سیاست وہ عزت کے لیے کرتے ہیں، ویسے تو عزت بھی ان کے پاس بہت ہے اور وہ پاکستان سے زیادہ برطانیہ اور دنیا میں ہے، وہ بخوبی جانتے تھے پاکستان میں سیاست، عزت کا باعث کم ہی بنتی ہے، اس کے باوجود کچھ نیک جذبوں کے تحت اس ”کھوہ“ میں انہوں نے چھلانگ لگا دی۔ ابھی تک وہ بے عزت نہیں ہوئے تو یہ اللہ کا ان پر خاص کرم ہے، ورنہ اپنے ہی لوگوں کو بے عزت کرنے میں پی ٹی آئی، نون لیگ سے اب زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے، .... مجھے دوسروں کو عزت دے کر خوش ہونے والے علیم خان کی بات یاد ہے۔ نون لیگ کی حکومت میں وہ جب ضمنی الیکشن لڑرہے تھے، میں نے ان سے کہا ”نون لیگ نے آپ کو ہروانے کا پورا بندوبست کررکھا ہے“ ،.... انہوں نے فرمایا ”نون لیگ سے زیادہ مجھے اپنے لوگوں سے خطرہ ہے“ ،وہ یہ الیکشن چند سو ووٹوں سے ہار گئے، الیکشن کے بعد ہونے والے کچھ انکشافات کے مطابق یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی پی ٹی آئی میں موجود کچھ ”سانپ“ انہیں ڈنگ نہ مارتے وہ یہ الیکشن آسانی سے جیت جاتے، گزشتہ عام انتخابات میں بھی انہیں زیادہ نقصان ان کی اپنی جماعت کے کچھ ”سانپوں“ نے پہنچایا ، مجھے یقین ہے یہ سانپ ، ٹھنویں اور اژدھے عمران خان کو بھی کسی نہ کسی ایسے مقام پر پہنچا کر دم لیں گے جس کا تصور ان کے ایک پرانے خیرخواہ ہونے کے ناطے فی الحال میں نہیں کرسکتا، .... بہرحال نون لیگ کی گورنری سے چودھری محمد سرور نے کچھ ہی عرصے بعد جان چھڑوالی۔ اس کے بعد وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ حالانکہ اس وقت پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے یا اسے اقتدار میں لائے جانے کے چانسز بہت کم تھے۔ وہ یقیناً اس احساس کے تحت پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہوں گے کہ یہ ایک مختلف جماعت ہے جس میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف سازشیں نہ ہونے کے برابر ہیں، .... میری اس حوالے سے چودھری سرور سے کبھی بات نہیں ہوئی مگر اپنے طورپر میں یہ بات پورے دعوے ، پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں سازشوں کے حوالے سے پی ٹی آئی نون لیگ سے دو ہاتھ انہیں آگے ہی محسوس ہوتی ہوگی۔ .... وہ ایک باصلاحیت انسان ہیں۔ عمران خان نے گورنر پنجاب بناکر ان کے ساتھ زیادتی کی، بلکہ اپنے ساتھ زیادتی کی۔ گورنر کے پاس پہلے ہی کوئی اختیار نہیں ہوتا سوائے ” بے اختیاری“ کے .... پی ٹی آئی کا سازشی ٹولہ گورنر کی ساکھ اور عزت آبرو کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہ ہوسکا تو اب اپنا غصہ وہ ”گورنر ہاﺅس“ کو مختلف حوالوں سے نقصان پہنچا کر نکال رہا ہے۔ گورنر ہاﺅس کو عوام کے لیے کھولنے سے پنجاب میں جب دودھ اور شہد کی نہریں نہ بہہ سکیں تو، اب گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرائی جارہی ہیں، اللہ جانے اس طرح کی ” بونگیاں “ مار مار کر کسے خوش کیا جارہا ہے؟ عوام کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ سادگی کی ”نمائش “ مقصود ہے تو وفاقی کابینہ کا سائز کم رکھا جاتا۔ تھوک بلکہ ”تُھوک کے حساب“ سے وزیر مشیر بنا دیئے گئے ہیں۔ ابھی ضمنی الیکشن میں کامیاب ہونے والے کچھ اور ارکان اسمبلی کو بھی وزیر وغیرہ بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جوں جوں مزید نااہلیاں سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت مزید کمزور ہوتی گئی توں توں ارکان اسمبلی کو نوازنے کا کام مزید تیز ہوتا جائے گا، ممکن ہے پھر ارکان اسمبلی کو وزارتوں سے نوازنے کے لیے ایک ایک محکمے کو کئی کئی حصوں میں تقسیم کرنا پڑ جائے، جیسے محکمہ خوراک کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے کسی رکن اسمبلی کو وزیر

برائے آٹا، کسی کو وزیر برائے چاول اور کسی کو وزیر برائے دال دلیہ بنادیا جائے، اسی طرح لائیوسٹاک کے محکمہ کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے کسی رکن اسمبلی کو وزیر برائے بھینسی امور، کسی کو وزیر برائے بکراامور اور کسی کو وزیر برائے ”کھوتا امور“ بنادیا جائے۔ ....کچھ وزیروں کو ان کی صلاحیتوں یا شوق کے مطابق وزارتوں سے نہ نواز کر ان کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی، مثلاً جنہیں ”خصوصی مشروبات“ کا وزیر ہونا چاہیے تھا انہیں اطلاعات ، دفاع اور انسانی حقوق وغیرہ کے محکمے سونپ دیئے گئے۔ شیخ رشید کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا حالانکہ انہیں وزیر برائے غلیظ سیاسی امور ہونا چاہیے تھا، کوئی محکمہ ”خود نمائی“ کا ہوتا اس کے لیے بھی وہ موزوں ترین ہوتے، .... بہرحال یہ خان صاحب کے فیصلے ہیں، کچھ فیصلے قدرت کے بھی ہوتے ہیں، کسی کو اللہ بغیر کسی عہدے کے ایسی عزت آبرو سے نواز دیتا ہے جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا، اور کسی کو عہدے وغیرہ دے کر ایسے بے عزت کردیتا ہے جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا، .... ہماری تو دلی خواہش اور دعا ہے لوگ اب بھی خان صاحب کی اس طرح دل سے عزت کریں جیسے ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے کرتے تھے، مجھ سے زیادہ ان کا خیر خواہ کون ہوسکتا ہے ؟ ان کی محبت میں سرکاری ملازم ہونے کے ناطے نام کے شریف حکمرانوں کی جانب سے دی جانے والی اذیتیں جس نے برداشت کیں۔ جناب مجید نظامی کی اس خواہش یا حکم کے آگے جھکنے سے انکار کردیا کہ آئندہ آپ عمران خان کے حق میں نہیں لکھیں گے، اور نوائے وقت سے استعفیٰ دے دیا، .... یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے جس کی تفصیلات میں اپنے گزشتہ کالموں میں بیان کرچکا ہوں۔ لہٰذا اب خان صاحب کی کچھ ”بونگیوں“ پر جتنا میں اذیت میں مبتلا ہوتا ہوں شاید ہی کوئی اور ہوتا ہوگا، اور نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسے کالم مجھے لکھنے پڑتے ہیں جو خود مجھ پر گراں گزرتے ہیں، .... مجھے نہیں معلوم گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرا کر شہرت کی کونسی بلندیوں پر وہ پہنچنا چاہتے ہیں ؟۔ بے چارے گورنر کے پاس سوائے ایک ”گورنر ہاﺅس“ کے اور ہوتا کیا ہے ؟۔ اور یہ بھی تب تک اس کے پاس ہوتا ہے جب تک وہ گورنر ہوتا ہے، اس کے بعد اس گورنر ہاﺅس کو وہ اپنے ساتھ نہیں لے جاتا، ان عمارتوں کی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ خان صاحب تاریخ میں شاید صرف بنی گالہ کو ہی زندہ رکھنا چاہتے ہیں، گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے کے کچھ عرصے بعد مزید دلی تسکین کے لیے ممکن ہے گورنر کا عہدہ ہی ختم کردیا جائے،جیسے اب وزیراعظم کے عہدے کی ساکھ ختم کی جارہی ہے، البتہ خان صاحب اپنے پرانے ہم راز نعیم الحق کو گورنر پنجاب بنادیتے مجھے یقین ہے اس کے بعد گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے کے بجائے مزید اونچی کرنا پڑ جاتیں !!


ای پیپر