نومجیب ،نوٹالکس، پاکستان کے سیاسی ادوار کے چشم دید گواہ ،نوبزادہ نصراللہ
04 اگست 2020 (19:08) 2020-08-04

جمہوری مجلس عمل کے اس اجلاس میں چھ نکاتی عوامی لیگ کی جانب سے نذرالاسلام، تاج الدین احمد، قمرالزماں وغیرہ شامل ہوئے۔ ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جمہوری مجلس عمل شیخ مجیب الرحمن کی رہائی کا مطالبہ کرے۔ میں نے وہی دلائل دہرائے جو کرمی ٹولہ بیرکس میں مجیب الرحمن کے سامنے بیان کرچکا تھا۔ اس پر چھ نکاتی عوامی لیگ کے ان نمائندوں نے کہا کہ ہمیں کم ازکم یہ مطالبہ تو ضرور کرنا چاہیے کہ شیخ مجیب گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے پیرول پر رہا کیے جائیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میاں ممتاز دولتانہ نے کہا کہ ہمیں شیخ مجیب کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے اور ان کی عدم شرکت کی صورت میں ہمیں بھی کانفرنس میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے انہیں کہا کہ مجلس عمل کا قیام صرف دو آئینی مطالبات تسلیم کرانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے جو پیشگی شرائط عائد کی گئی تھیں وہ صدر ایوب تسلیم کرچکے ہیں۔ ہنگامی صورتحال کے خاتمے، ڈی پی آر کے تحت سیاسی نظربندوں کی رہائی، اخبارات پر پابندیوں کے خاتمے اور ضبط شدہ پریسوں کی واگزاری کے بعد ہمارے لیے اخلاقاً اور سیاسی اعتبار سے اس موقع پر تذبذب کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ جواز نہیں۔ اب اکیلے شیخ مجیب کے لیے بارہ کروڑ عوام کے حقوق کی بحالی کو معرض التواء میں ڈالا جاتا ہے تو یہ بات ہر اعتبار سے غلط ہو گی۔ اگر مجیب الرحمن مجلس عمل کے ان دو مطالبات کے بارے میں مخلص ہیں تو انہیں بھی یہ صورتحال قبول کرنی چاہیے۔ چودھری محمد علی اور مولانا مودودی نے میری تائید کی۔ ہم نے 16فروری کو صدر ایوب خان کو جمہوری مجلس عمل کی طرف سے ان کی دعوت قبول کرنے اور اپنے مندوبین کی اطلاع بھجوا دی اور کانفرنس 17کے بجائے 19فروری کو منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس اجلاس کے بعد جمہوری مجلس عمل کے تمام مندوبین ایک سپیشل فلائٹ کے ذریعے راولپنڈی پہنچے۔ میں نے چودھری محمد علی اور مولوی فرید احمد شہید کے ہمراہ خان صلاح الدین خان کے مکان ’’الحیات‘‘ واقع مری روڈ پر قیام کیا۔ اس کے بعد جمہوری مجلس عمل کے اجلاس وہیں منعقد ہوتے رہے۔ ہمارے اجلاس مسلسل آٹھ آٹھ گھنٹے جاری رہتے۔ دولتانہ صاحب ان اجلاسوں میں بڑی شدت سے شیخ مجیب الرحمن کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ وہ اس موقف پر بھی اڑے رہے کہ مجیب الرحمن کے بغیر کانفرنس میں شامل نہیں ہوں گے۔ میں نے ان اجلاسوں میں بار بار کہا کہ ہم مجوزہ گول میز کانفرنس میں شمولیت کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ صدر ایوب کو اس کی باضابطہ اطلاع دی جاچکی ہے۔ اخبارات میں ہمارے مندوبین کے ناموں کا اعلان ہوچکا ہے اور ہم اسی مقصد کے لیے راولپنڈی آئے ہوئے ہیں۔ اب یہ رویہ اختیار کرنا نہ صرف جمہوری مجلس عمل کے رہنمائوں کی سیاسی بصیرت کے فقدان کا مظہر ہو گا بلکہ عوام کی سات سالہ عظیم الشان جدوجہد کے ساتھ بھی تاریخی بے وفائی ہو گی۔ دولتانہ صاحب کا ماضی میں مجیب الرحمن یا اس کی جماعت سے کوئی سیاسی تعلق نہیں رہا تھا لیکن وہ بوجوہ اس وقت عوامی لیگ کے وفد سے بھی زیادہ مجیب کی حمایت میں سرگرم تھے۔ انہی دنوں سردار شوکت حیات کے ایما پر ان کے بیٹے سکندر حیات نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلباء اور طالبات کو ساتھ لے کر میری اقامت گاہ پر میرے خلاف مظاہرہ کرایا گیا۔ وہ نعرے لگا رہے تھے ’’No Mujib - No Talks‘‘ (مجیب کے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے، نہیں ہوں گے) میں ان دنوں انتہائی ذہنی اذیت میں مبتلا رہا مگر میں نے اس معاملے میں اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے سے انکار کردیا۔

صدر ایوب کو صورتحال کا علم ہوا تو اپنی مرضی اور منشا کے خلاف مجیب کو پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا اور خواجہ شہاب الدین کو ڈھاکہ روانہ کیا۔ اس دوران کابینہ نے ایوب خان کو مشورہ دیا کہ جمہوری مجلس عمل کو پورے ملک میں ذلیل ورُسوا کیا جائے کہ اس کے رہنما گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کے بعد راولپنڈی میں موجود ہیں لیکن تذبذب کا شکار ہیں۔ یہ لوگ بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اتحاد کے نعروں کے باوجود بٹے ہوئے ہیں اور یہ تنظیم اس قابل نہیں کہ اسے متبادل قیادت سمجھا جائے۔ ان دنوں مسٹر زیڈ اے سلہری ’’پاکستان ٹائمز‘‘ (پنڈی) کے ایڈیٹر تھے، انہوں نے اداریہ لکھا کہ اس صورتحال میں جمہوری مجلس عمل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی بجائے صدر ایوب خان اس کانفرنس کو منسوخ کردیں اور اس کی ذمہ داری جمہوری مجلس عمل کے رہنمائوں پر ڈال دی جائے۔ بعدازاں اپنے طور پر آئینی اصلاحات کا اعلان کریں تاکہ اس اقدام کا سارا کریڈٹ خود انہیں مل سکے۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں ذرا بھر تامل نہیں کہ ایوب خان نے گول میز کانفرنس کو تباہی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا۔ اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں وہ سیاسی تصفیے کے لیے بے حد مخلص تھے۔ ڈھاکہ میں میری ملاقات کا ان پر گہرا اثر تھا۔ ڈھاکہ سے واپس آتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ پر انہوں نے اخباری نمائندوں سے اس ملاقات کے بارے میں اپنا تاثر بیان کیا تھا۔

ممتاز دولتانہ ان دنوں ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل راولپنڈی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جنرل یحییٰ خان اور وزیر دفاع اے۔ آر خان نے انہی دنوں انٹرکانٹی نینٹل کے ڈائننگ ہال میں کہا: ’’سیاستدانوں کو یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد فوج ملک کا اقتدار سنبھال لے گی حالانکہ یہ بات خلاف حقیقت ہے۔ فوج کسی صورت میں اپنے آپ کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتی‘‘۔ اس طرح کی باتوں سے یحییٰ خان ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے تھے جو جمہوری مجلس عمل سے باہر سے جمہوری مجلس عمل کے اندر اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے درپے تھے۔

شیخ مجیب الرحمن نے ایوب خان کے قریبی حلقوں اور جمہوری مجلس عمل کے بعض ارکان کی شہہ پر پیرول پر رہائی سے انکار کردیا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ پیرول پر باہر آنے سے انکار کریں تو بالآخر ایوب خان انہیں غیرمشروط طور پر رہا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اب مجیب کی طرف سے مکمل رہائی اور اگر تلہ سازش کیس واپس لینے کا مطالبہ ہونے لگا۔

مجیب کے اس رویے سے ہمیں اور زیادہ مشکلات نے گھیر لیا۔ ممتاز دولتانہ اور شوکت حیات نے شدت سے اصرار شروع کردیا کہ ہمیں مجیب کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ جمہوری مجلس عمل کے اکثر رہنمائوں نے دولتانہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ نیپ کے نمائندے خان عبدالولی خان اور پروفیسر مظفر احمد بھی دولتانہ کے ہمنوا تھے، مفتی محمود نے بھی دولتانہ کی تائید کی مگر مسلم لیگ کے مشرقی پاکستان مندوب خواجہ خیرالدین اور جمعیت العلمائے اسلام کے مشرقی پاکستان ڈیلی گیٹ پیرمحسن الدین نے ہمارے موقف کو سیاسی اعتبار سے جائز صحیح اور منصفانہ قرار دیا۔ عوامی لیگ کے وفد نے بھی اعلان کیا کہ اگر ہم گول میز کانفرنس میں جمہوری مجلس عمل کے مطالبات تسلیم کرانے میں کامیاب ہو گئے تو شیخ مجیب کی عدم شرکت کی صورت میں بھی اخبارات میں ہماری حمایت کا اعلان کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس کے باوجود دولتانہ صاحب اپنی روش پر قائم رہے۔ انہی دنوں پنڈی مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ورکنگ کمیٹی کی اکثریت نے دولتانہ صاحب کو اپنی روش بدلنے کے لیے کہا لیکن اپنی پارٹی کی ہدایت کے باوجود اور اپنے ماضی کی روایات کے برعکس دولتانہ صاحب نے اپنی پوزیشن سے انحراف نہ کیا حتیٰ کہ ورکنگ کمیٹی کو مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی جو لوگ دولتانہ کو بخوبی جانتے ہیں انہیں یہ سمجھنے میں کوئی دُشواری نہ ہو گی کہ وہ اپنی عادت کے خلاف کسی طاقت کی شہہ اور حصول اقتدار کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا مضبوط رویہ اختیار نہیں کرسکتے تھے۔

ایک مرحلے پر دولتانہ، ولی خان اور مفتی محمود نے تجویز پیش کی کہ گول میز کانفرنس میں جمہوری مجلس عمل میں شامل آٹھ جماعتوں کی نمائندگی تنہا میں کروں۔ میں نے ان دوستوں سے کہا کہ اگر یہ تجویز لاہور کے اس اجلاس میں پیش کی جاتی جس میں گول میز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ ہوا تو اسے ایک رفیق پر ان اعتماد کا مظاہرہ قرار دیا جاتا لیکن اب جبکہ ایوب خان کو مندوبین کی فہرستیں بھجوا چکے ہیں، وہ بھی اپنے رُفقاء نامزد کرچکے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر