قربانی کا گوشت ۔۔۔
04 اگست 2020 (18:59) 2020-08-04

مولانا شاہدجاوید

قربانی عربی زبان کے لفظ قرب سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے کسی شے کے نزدیک ہونا قرب دوری کا متضاد ہے ،قربان، قرب سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ امام راغب اصفحانی نے قربانی کی تعریف یوں بیان کی ہے ’’ قربانی وہ چیز ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کیا جائے‘‘۔ شریعتِ اسلام میں یہ قربانی جانور ذبح کرنے کا نام ہے۔ قربانی کے لیے قرآن مجید نے تین الفاظ استعمال کیے ہیں قربانی، منسک اور نحر۔ قربانی کا لفظ سورہ مائدہ میں ہابیل اور قابیل کا قصہ بیان کرتے ہوئے ذکر کیا گیا اور منسک کا لفظ سورہ حج میں اور نحر کا لفظ سورہ کوثر میں ذکر کیا گیا۔ روزِازل سے ہی اللہ تعالیٰ کا ضابطہ رہا ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو آزمائش کی سخت ترین گھاٹیوں سے گزارتا ہے۔ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ بعد تمام مخلوقات میں انبیائے کرام علیہم السلام کا مرتبہ ہے اور وہی اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی آزمائش میں پورے اترے اور اللہ کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کا ثبوت انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی ملتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا ذکر کچھ اس طرح سے قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ’’آپ ان کے سامنے آدم کے دونوں بیٹوں کا واقع ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی اور ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی‘‘۔ (سورہ مائدہ، آیت 27)

اس سے معلوم ہوا قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے۔ اس کی حقیقت تقریباً ہر ملت میں رہی البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ سے ہوئی۔ قربانی کی اصل روح انسان میں تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے بعد فلسفہ قربانی تبدیل کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا کی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت میں۔۔۔ مختلف امتحانوں سے گزرنے کے بعد جب حضرت اسماعیل علیہ السلام لڑکپن کو پہنچے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قلب مبارک میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے انتہا محبت پیدا ہو چکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی محبت کا امتحان لینے کے لیے انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان یعنی ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ خواب اپنے صاحبزادہ کو سنایا اور انہوں نے بھی فرمابردار ی کے جذبے سے فرمایا آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل فرمائیں آپ مجھے شاکر اور صابر پائیں گے۔ شیطان نے بہت جتن کیا کہ ماں باپ اور بیٹے کو اللہ کے حکم کی تعمیل سے روک دے مگر شیطان کا زور چل نہ سکا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا لیکن اللہ تعالیٰ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی مقصود نہ تھی بلکہ یہ ایک آزمائش تھی جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام 100فیصد کامیاب ہونے جا رہے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنا ارادہ انجام دینے کے لیے چھری چلائی تو چھری کا چلنا بے اثر ہو گیا، اتنے میں فرشتے جنت کا مینڈھا لے کر حاضر ہوئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈے کو لٹا دیا چھری نے اپنا اثر دکھایا اور مینڈھا ذبح ہو گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ سمجھے کہ بیٹے کی گردن کٹ گئی اور اللہ کے حکم پر قربان ہو گیا لیکن جب آنکھوں سے وہ پٹی ہٹائی جو اس نیت سے باندھی ہوئی تھی کہ کہیں پدری شفقت ذبح کے دوران حائل نہ ہو جائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک طرف بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی جگہ مینڈھا ذبح ہوا پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’کہ آپ نے خواب سچ کر دکھایا اور بیشک آپ سچوں میں سے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جذبہ قربانی اس قدر پسند آیا کہ یہی جذبہ قربانی ہر دور کے لیے ایمانی معیار اور کسوٹی قرار دے دیا گیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یہ قربانی ایک عظیم یادگار قربانی تھی جس کی مثال دینے سے دنیا آج تک قاصر ہے اور چشم فلک نے بھی اطاعت الٰہی کا ایسا منظر نہ دیکھا تھا۔ تاریخ کے اوراق اس عظیم قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ماں باپ اور بیٹے کی اس عظیم قربانی کو تاقیامت قانون الٰہی بنا دیا گیا۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ان قربانیوں کی حقیقت اور تاریخ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ یہ تمہارے آباء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ان قربانیوں میں میں ہمارا کیا اجر ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’ قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے‘‘۔ (مسند احمد)

اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یوم النحر کے دن ابن آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ پیارا نہیں ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبولیت کو پہنچ جاتا ہے لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف قربانی کے فضائل اور حکم نہیں فرمایا بلکہ ان پر عمل کر کے بھی دکھایا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینے میں دس سال مقیم رہے، اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر سال قربانی کی جبکہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈوں کی قربانی کرتا ہوں۔

اگر ایک جانب سے قربانی کا حکم اور اس کے فضائل وارد ہوئے ہیں تو دوسری جانب قربانی نہ کرنے والے کے بارے میں بھی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جسے وسعت ہو اور اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے، عیدالاضحی پر جانوروں کی قربانی جہاں ایک عظیم عبادت ہے وہاں تجدید عہد وفا بھی ہے۔ قربانی درحقیقت اس بات کو دہرانے کا نام ہے کہ ہمارا جینا مرنا اور ہماری پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یہی ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی مقصد ہے، بندگی کے اظہار کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنا بندہ مومن کا شیوہ ہے۔ قربانی کا اصل مقصد تقویٰ اور پرہیزگاری کا حصول ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے خدا تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ (سورہ حج)

عظیم سنت ابراہیمی ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ ہم دین کی عظمت و سربلندی اوردین اسلام کی ترویج واشاعت اور اعلائے کلمہ اللہ اور اسلام کی بقاء اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں بلاشبہ قربانی کے جذبہ کا اظہار بارگاہ الٰہیمیں قرب الٰہی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

٭٭٭


ای پیپر