مسئلہ قربانی شرعی اور عقلی نقطہ نظر سے۔۔۔
04 اگست 2020 (18:54) 2020-08-04

مولانا ابولاعلیٰ مودودی

کئی سال سے مسلسل یہ دیکھا جارہا ہے کہ ہر بقر عید کے موقع پر اخبارات اور رسالوں کے ذریعہ سے بھی اور اشتہاروں اور پمفلٹوں کی صورت میں بھی قربانی کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان اٹھایا جاتا ہے اور ہزاروں بندگان خدا کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا جاتا ہے کہ یہ کوئی دینی حکم نہیں ہے بلکہ ایک غلط اور نقصان دہ رسم ہے جو ملائوں نے ایجاد کرلی ہے۔ اس وسوسہ اندازی کے خلاف قریب قریب ہر سال ہی علما کی طرف سے مسئلے کی پوری وضاحت کر دی جاتی ہے، قربانی کے ایک حکم شرعی ہونے، مسنون اور واجب ہونے کے دلائل دیے جاتے ہیں، اور مخالفین کے استدلال کی کم زوریاں کھول کر رکھ دی جاتی ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ یہ سب کچھ ہو چکنے کے بعد دوسرے سال پھر دیکھا جاتا ہے کہ وہی لگی بندھی باتیں اسی طرح دہرائی جارہی ہیں، گویا نہ کسی نے قربانی کے مشروع ہونے کا کوئی ثبوت دیا اور نہ اس کے خلاف دلیلوں کی کوئی کم زوری واضح کی۔ بلکہ اب تو ایک قدم اور آگے بڑھا کر حکومت کو بے تکلف یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ قربانی کو ازرْوئے قانون محدود کرنے کی کوشش کرے۔

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو ابھی چند سال پہلے تک متحدہ ہندوستان کا ایک حصہ تھا۔ ہماری سرحد کے اس پار ہمارے کروڑوں دینی بھائی اب بھی سابق متحدہ ہندوستان کے اس حصے میں موجود ہیں جس سے ہم الگ ہوئے تھے۔ انھیں آج بھی اسی قوم سے سابقہ درپیش ہے جس سے کبھی ہمیں درپیش تھا، بلکہ وہ آج تقسیم سے قبل کی بہ نسبت بدر جہا زیادہ کم زوری اور مغلوبی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ ان پر جس قوم کو غلبہ حاصل ہے وہ سال ہا سال سے گائے کی قربانی پر ہمارے ساتھ سر پھٹول کرتی رہی تھی، اور تقسیم کے بعد جب اسے مسلمانوں پر پورا قابو حاصل ہواتو اس نے سب سے پہلے انھیں اسی حق سے محروم کیا۔ اب یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ پاکستان جو ہندو تہذیب و تمدن کے تسلط سے مسلمانوں کے تہذیب و تمدن کو بچانے کے لیے بنا تھا، وہی آگے بڑھ کر ہندوستان کے ہندوئوں کو یہ راہ نْمائی دے کہ مہاراج گائے کی قربانی کیسی، آپ تو ہر قسم کی قربانی ازروئے قانون بند کرسکتے ہیں۔ یہ چیز سرے سے شعائر اسلام میں داخل ہی نہیں ہے کہ اسے روک دینے پر آپ کو کسی مذہبی تعصب کا الزام دیا جاسکے۔ حق بجانب وہ مسلمان نہیں ہے جو اسے اپنا مذہبی حق کَہ کر اس پر اصرار کرتا ہے، بلکہ وہ ہندو ہے جو اس غیر مذہبی رسم سے اسے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں تو پاکستان میں اس جاہل مسلم اکثریت سے سابقہ ہے، اس لیے یہاں ہم بربنائے احتیاط بتدریج اسے محدود کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ آپ کو تو کسی کا ڈر نہیں ہے۔ آپ یک قلم اسے مسدود فرما دیں۔ اس معاملے میں شریعت ِ اسلام مسلمانوں کے ساتھ نہیں بلکہ آپ کے ساتھ ہوگی۔ کس قدر جلد بھْولے ہیں ہم اس حالت کو جس سے خدا نے ہمیں نکالا اور جس میں ہمارے کروڑوں بھائی اب بھی مبتلا ہیں۔ شاید برطانوی ہند میں ہندوئوں سے ہماری کش مکش صرف اس لیے تھی کہ اپنی تہذیب کا جھٹکا دوسروں سے کرانے کی بجائے ہم خود اسے حلال کرنا چاہتے تھے۔

مسلمانوں میں اختلافات کی پہلے ہی کوئی کمی نہ تھی۔ یہ تفرقوں کی ماری ہوئی قوم فی الواقع رحم کی مستحق تھی۔ کسی کے دل میں اس کی خیر خواہی کا جذبہ موجود ہوتا تو وہ یہ سوچتا کہ اس کے اختلافات میں اتفاق کی کوئی راہ دریافت کرے لیکن یہاں حال یہ ہے کہ جو لوگ خیر خواہی کے ارادے یا دعوے سے اٹھتے ہیں وہ ان چیزوں میں بھی اختلاف کی راہیں نکال رہے ہیں جن میں خوش قسمتی سے مسلمانوں کے درمیان ابتدا سے آج تک اتفاق موجود ہے۔ گویا ان حضرات کے نزدیک دین کی اصل خدمت اور ملت کی صحیح خیر خواہی یہ ہے کہ متفق علیہ مسائل کو بھی کسی نہ کسی طرح اختلافی بنا دیا جائے اور کوئی چیز ایسی نہ چھوڑی جائے جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ سب مسلمان اس میں متفق ہیں۔

قربانی کا مسئلہ ایسے ہی متفق علیہ مسائل میں سے ہے۔ پہلی صدی ہجری کے آغاز سے آج تک مسلمان اس پر متفق رہے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی پوری پونے چودہ صدیوں میں آج تک اس کے مشروع اور مسنون ہونے میں اختلاف نہیں پایا گیا ہے۔ اس میں ائمہ اربعہ اور اہل حدیث متفق ہیں۔ اس میں شیعہ اور سنی متفق ہیں۔ اس میںقدیم زمانے کے مجتہدین بھی متفق تھے اور آج کے سب گروہ بھی متفق ہیں۔ اب یہ تفرقہ و اختلاف کا شیطانی ذوق نہیں تو اور کیا ہے کہ کوئی شخص ایک نرالی بات لے کر اٹھے اور اس متفق علیہ اسلامی طریقے کے متعلق بیچارے عام مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرے کہ یہ تو سرے سے کوئی اسلامی طریقہ ہی نہیں ہے۔

پھر یہ اختلاف بھی کسی معمولی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک بہت بڑی فتنہ انگیز بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ یعنی سوال یہ چھیڑا گیا ہے کہ یہ بقر عید کی قربانی آخر تم کس سند Authority پر کرتے ہو، قرآن میں تو اس کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں سند صرف ایک قرآن ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کوئی سند نہیں ہے۔ حالانکہ جس خدا نے قرآن نازل کیا ہے، اْسی نے اپنا رسولؐ بھی مبعوث کیا تھا۔ اس کا رسولؐ اسی طرح ایک اتھارٹی ہے جس طرح اس کی کتاب۔ اس کے رسولؐ کی اتھارٹی کسی طرح بھی اس کی کتاب کی اتھارٹی سے کم نہیں ہے، نہ وہ کتاب کے ساتھ کوئی ضمنی حیثیت رکھتی ہے، نہ اس کے ذریعے سے دیے ہوئے کسی حکم کے لیے قرآن کی توثیق کسی درجے میں بھی ضروری ہے، بلکہ حق تو یہ ہے کہ قرآن جس کی سند پر کلام اللہ مانا گیا ہے وہ بھی رسولؐ ہی کی سند ہے۔ اگر رسولؐ نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ یہ قرآن خدا نے اسؐ پر نازل کیا ہے تو ہمارے پاس نہ یہ جاننے کا کوئی ذریعہ تھا اور نہ یہ ماننے کی کوئی وجہ تھی کہ یہ کتاب خدا کی کتاب ہے۔ اب یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ جو حکم رسولؐ نے دیا ہو اور جس طریقے پر رسولؐ نے خود عمل کیا اور اہل ایمان کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہو، اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس کا حکم قرآن میں ہو تو ہم مانیں گے ورنہ پیروی سے انکار کر دیں گے؟ اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ خدا کی کتاب تو واجب الاتباع ہے مگر خدا کا رسولؐ واجب الاتباع نہیں ہے!

حقیقت کے خلاف یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ محض ایک پیغام پہنچانے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا کہ آپ کاکام اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینے کے بعد ختم ہو جائے اور اس کے بعد بندے اللہ میاں کے نامہ گرامی کو لے کر جس طرح ان کی سمجھ میں آئے اس کی تعمیل کرتے رہیں۔ خود قرآن کی رْو سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کی نوعیت کفار کے لیے الگ اور اہل ایمان کے لیے الگ ہے۔ کفار کے لیے آپ صرف مبلغ اور داعی الی اللہ ہیں۔ مگر جو لوگ ایمان لے آئیں ان کے لیے تو آپ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے مکمل نمایندے ہیں۔ آپ کی اطاعت عین اللہ کی طاعت ہے۔ آپ کے اتباع کے سوا اللہ کی خوشنودی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔اللہ نے آپؐ کو اپنی طرف سے معلم، مربی، راہ نما، قاضی، آمروناہی اور حاکم مطاع، سب کچھ بنا کر مامور فرمایا تھا۔ آپ کاکام یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے عقیدہ و فکر، مذہب و اخلاق، تمدن و تہذیب، معیشت و سیاست، غرض زندگی کے ہر گوشے کے لیے وہ اصول، طریقے اور ضابطے مقرر کریں جو اللہ کی پسند کے مطابق ہوں اور مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سکھایا اور مقرر کیا ہے اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ رسول اللہ جو حکم دیں اس پر ان سے سند طلب کرے۔ رسولؐ کی ذات خود سند ہے۔ اس کا حکم بجائے خود قانون ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی مسلمان یہ سوال کرنے کا مجاذ نہیں ہے کہ جو حکم رسولؐ نے دیا ہے اس کا حوالہ قرآن میں ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کوئی ہدایت خواہ اپنی کتاب کے ذریعہ سے دے یا اپنے رسولیٔ کے ذریعہ سے، سند اور وزن کے اعتبار سے دونوں بالکل یکساں ہیں اور قانونِ الٰہی ہونے میں ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

بالکل غلط کہتا ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام، فیصلوں اور ہدایات کی قانونی حیثیت صرف اپنے عہد کے رئیس مملکت ہونے کی بنا پر تھی۔ یعنی جب آپ رئیس مملکت تھے اس وقت آپ کی اطاعت واجب تھی اور اب جو رئیس مملکت یا مرکز ملت ہوگا اس کی اطاعت اب واجب ہوگی۔ یہ رسالت کا بدترین تصورہے جو کسی شخص کے ذہن میں آسکتا ہے۔ اسلامی تصور رسالت سے اسے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ رئیس مملکت کے منصب کو آخر رسولؐ کے منصب سے کیا نسبت ہے۔ اسے عام مسلمان منتخب کرتے اور وہی معزول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ حالانکہ رسول کو خدا مقرر کرتا ہے اور خدا کے سوا کسی کو اسے معزول کرنے کا اختیار نہیں۔ رئیس مملکت جس علاقے کا رئیس ہو اور جب تک اس منصب پر رہے صرف اسی علاقے میں اسی وقت تک اسے رئیس ماننا واجب ہے اور پھر بھی اس پر ایمان لانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی اسے نہ مانے تو ملت اسلام سے خارج ہو جائے۔ حالانکہ رسولؐ جس آن مبعوث ہوا اس وقت سے قیامت تک دنیا میں کوئی شخص اس پر ایمان لائے بغیر ملت اسلامیہ کا فرد نہیں بن سکتا۔ رئیس مملکت کو آپ دل میں برا جان سکتے ہیں، اسے برملا برا کہ سکتے ہیں، اس کے قول و فعل کو علانیہ غلط کہ سکتے ہیں، اور اس کے فیصلوں سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ لیکن رسول کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرنا تو درکنار، اس کا خیال بھی اگر دل میں آجائے تو ایمان سلب ہو جائے۔ رئیس مملکت کے حکم کو ماننے سے آپ صاف انکار کرسکتے ہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ بس ایک جرم ہوگا۔ مگر رسول کا حکم اگر یہ جاننے کے بعد کہ وہ رسولؐ کا حکم ہے، آپ ماننے سے انکار کر دیں تو قطعی خارج از اسلام ہو جائیں۔ اس کے حکم پر تو آپ چون و چرا تک نہیں کرسکتے، بلکہ اس کے خلاف دل میں کوئی تنگی تک محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔ رئیس مملکت عوام کا نمایندہ ہے اور رسول خدا کا نمایندہ۔ رئیس مملکت کی زبان قانون نہیں ہے بلکہ الٹا قانون اس کی زبان پر حاکم ہے۔ مگر رسول خدا کی زبان قانون ہے، کیوں کہ خدا اسی زبان سے اپنا قانون بیان کرتا ہے۔ اب یہ کیسا سخت طغیانِ جاہلیت ہے کہ رسول کو محض ایک علاقے اور زمانے کے رئیس مملکت کی حیثیت دے کر کہا جائے کہ اس کے دیے ہوئے احکام اور ہدایت بس اسی زمانے اورعلاقے کے لوگوں کے لیے واجب الاتباع تھے، آج ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

یہ تو ہے حقیقت کے خلاف اس تصور کی بغاوت۔ اب ذرا اس کی فتنہ انگیزی کا اندازہ کیجیے۔ آج جس چیز کو آپ اسلامی نظام حیات اور اسلامی تہذیب و تمدن کہتے ہیں، جس کے اصولوں اور عملی مظاہر کی یکسانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت بنا رکھا ہے۔ جس کی یک رنگی نے مسلم کو مسلم سے جوڑا اور کافر سے توڑا ہے، جس کی امتیازی خصوصیات نے مسلمانوں کو ساری دنیا میں غیر مسلموں سے ممیز کیا اور سب سے الگ ایک مستقل امت بنایا ہے، اس کا تجزیہ کرکے آپ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کا کم از کم ۰۱ /۹ حصہ وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقتدار رسالت سے مسلمانوں میں رائج کیا ہے اور بمشکل ۰۱ /۱ حصہ ایسا ہے جس کی سند قرآن میں ملتی ہے۔ پھر اس۰۱/ ۱ کا حال بھی یہ ہے کہ اگر اس پر عمل در آمد کی صورت شریعت میں واجب الاتباع نہ ہو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی ہے تو دنیا میں مختلف مسلمان …… افراد بھی اور گروہ بھی اور ریاستیں بھی۔ اس پر عمل درآمد کی اتنی مختلف شکلیں تجویز کرلیں کہ ان کے درمیان کوئی وحدت یک رنگی باقی نہ رہے۔ اب خود اندازہ کر لیجیے کہ اگر وہ سب کچھ ساقط کر دیا جائے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رواج دینے سے مسلمانوں میں رائج ہے تو اسلام میں باقی کیا رہ جائے گا جسے ہم اسلامی تہذیب و تمدن کہ سکیں اور جس پر دنیا بھر کے مسلمان مجتمع رہ سکیں۔

٭٭٭


ای پیپر