گزشتہ عید مبارک!
04 اگست 2020 2020-08-04

قارئین آپ کو گزشتہ عید مبارک ہو، کورونا کے ماحول میں یہ پہلی عید تھی، کچھ بکرافروشوں نے احتیاطی تدابیر کے تحت اپنے بکروں کے منہ پر بھی ماسک چڑھائے ہوئے تھے۔ وہی ماسک رات کو وہ اپنے منہ پر چڑھا لیتے تھے، سنا ہے بکرے اِس عمل سے بڑے خوش تھے کیونکہ اپنے اکثر خریداروں سے بکروں کو جو بوآتی تھی منہ پر ماسک ہونے کی وجہ سے اس سال بکرے اُس سے محفوظ رہے، اِس سال قربانی کا رحجان ذرا کم رہا، پر بکروں اور دیگر جانوروں کی قیمتیں اس سال بھی آسمانوں سے باتیں کرتی رہیں۔ کچھ لوگ عید سے پہلے جانور خرید لیتے ہیں، عید سے بہت پہلے جانوروں کی قیمتیں ذرا کم ہوتیں ہیں، اِسی طرح کچھ لوگ ٹروکی رات کو یا مرو کی صبح جانورخریدتے ہیں، کیونکہ اکثر جانوروں کے بیوپاری بہت تھک چکے ہوتے ہیں، وہ واپس اپنے اپنے علاقوں میں جانا چاہتے ہیں، اُن کی یہ کوشش یا خواہش ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ جانور بک جائیں تاکہ کم سے کم جانوروں کوواپس لے جانا پڑے،.... عیدالضحیٰ کے مقابلے میں عید الفطر ہمیں ہمیشہ سے ہی بڑی پسند رہی، کیونکہ بچپن میں عیدالفطر پر جو ”عیدی“ اپنے والدین یا بزرگوں سے ہمیں ملتی تھی اُس کی اہمیت ”بکروں کی رونق“ سے کہیں زیادہ ہوتی تھی، ہم نے اپنے بزرگوں کو بڑی دلیلیں پیش کیں پر وہ اپنے اس مو¿قف پر ڈٹے رہے ”بکراعید“ پر ”عیدی“ کا کوئی جواز نہیں بنتا، ویسے اللہ جانے عیدالضحیٰ کو ”بکراعید“ کیوں کہا جاتا ہے؟ عید تو خوشی کا موقع ہوتا ہے، میں نے تو آج تک نہیں دیکھا کسی بکرے کی گردن پر چھری چل رہی ہو اور وہ خوشی سے دندیاں نکال رہا ہو یا قہقہے وغیرہ لگارہا ہو‘ ہمارے ممتاز مزاح نگار مشتاق احمدیوسفی نے بڑی دلچسپ اور خوبصورت بات لکھی ”اسلام میں سب سے زیادہ قربانیاں بکروں نے دیں“، میں نے جب یہ بات اپنے وزیراعظم خان صاحب کو سنائی، وہ کہنے لگے بکرے اور دے بھی کیا سکتے ہیں؟،بکروں کی قربانی کی تو چلیں ہمارے دین میں باقاعدہ ایک روایت ہے، گائے، بچھڑے اور اُونٹ وغیرہ یقیناً سوچتے ہوں گے وہ بیچ میں کہاں سے آگئے؟ اِسی طرح بے شمار دوسرے جانور خوش ہوتے ہوں گے وہ بیچ میںنہیں آئے، ایک مولوی صاحب عیدالضحیٰ پر کسی کے بکرے ذبح کرکے اپنے حصے کے گوشت کا شاپر پکڑ کر کسی اورکے بکرے ذبح کرنے جارہے تھے راستے میں اُنہیں کوا پڑ گیا، وہ اُن کے ہاتھ میں پکڑا گوشت کا شاپر چھین کر اُڑنے لگا مولوی صاحب نے آواز لگائی میرا شاپر واپس کرجاﺅ ورنہ میں فتویٰ جاری کردوں گا ”کوے کی قربانی بھی جائز ہوتی ہے“ ،کوے نے مولوی صاحب کا شاپر تو اُسی وقت واپس کردیا بعد میں اپنے تین چار شاپر بھی مولوی صاحب کو آکر دے گیا، اسلام میں صرف بکروں ، گائے، بچھڑوں اور اُونٹوں کی قربانی جائزہے، پاکستان میں سب سے کم قربانی اُونٹ کی ہوتی ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے اُونٹ بہت مہنگا ہوتا ہے اور اسے ذبح کرنے کے لیے ایک تجربہ کار قصائی کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے تو پاکستان میں ہر شخص ہی اپنے اپنے طورپر ایک قصائی ہے پر اُونٹ ذبح کرنے کے لیے قصائی کم ہی ملتے ہیں، اور جتنا اُونٹ ذبح کرنے کا ان کا معاوضہ ہوتا ہے اتنے میں تین چار بکرے خریدے جاسکتے ہیں، اکثر لوگ گائے اور اونٹ وغیرہ میں اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں، کچھ لوگ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے، لہٰذا وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے کہہ دیتے ہیں ہم نے گائے وغیرہ میں حصہ ڈالا ہوا ہے، کچھ لوگ قربانی صرف اپنے لئے کرتے ہیں، اسلام میں اگر اپنا حصہ رکھنے کی اجازت نہ ہوتی کم ازکم پاکستان میں قربانی بہت کم ہوتی، ....اپنا ”حصہ“ رکھ کر جو ”اوجڑیاں کلیجیاں“ وغیرہ بچتی ہیں وہ غریبوں کے حصے کے طورپر تقسیم کردی جاتی ہیں، یا پھر زیادہ سے زیادہ کھال وغیرہ کسی فلاحی ادارے کو دے دی جاتی ہے، کچھ لوگ کھالیں، معاوضے کے طورپر قصائیوں کو بھی دے دیتے ہیں، یا کھالوں کے ساتھ معاوضے میں تھوڑی کمی کروالیتے ہیں، .... میرے ایک دوست ”شیخ سخی“ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں ” اسلام میں مرغے کی قربانی جائزکیوں نہیں ہے؟، وہ کسی ایسے مولوی کی تلاش میں ہیں جو اُن سے تھوڑا بہت ”ہدیہ“ لے کر یا فی سبیل اللہ اسلام میں مرغے کی قربانی جائز ہونے کا فتویٰ جاری کردے، شیخ صاحب کا خیال ہے ایسی صورت میں وہ مرغے کی قربانی میں ”حصہ “ ڈال کر سنت ابراہیمی احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے، وہ ایک ”صاحب حیثیت“ انسان ہیں ، پانچ وقت کے نمازی ہیں، ویسے تو اسلام کے ہر ”رکن“ سے اُنہیں دلی محبت ہے پر نماز اور روزے کی خاص طورپر پابندی وہ اس لیے کرتے ہیں اس میں اُن کا کچھ خرچ نہیں ہوتا، مجھے صرف ان کے نام پر اعتراض ہے، کچھ نام بڑے غلط ہوتے ہیں، جیسے کسی شیخ صاحب کا نام ”شیخ سخی“ یا کسی بٹ کا نام ”معصوم بٹ“ رکھ دیا جائے، یا کسی وکیل کا نام ”صداقت“ ہو تو کتنا عجیب لگتا ہے، .... عیدالضحیٰ پر سب سے زیادہ اہمیت قصائی کی ہوتی ہے، قربانی کے ان اڑھائی دنوں میں لوگ اپنے علاقے کے ایم پی اے، ایم این اے یا وزیر وغیرہ کی اتنی عزت نہیں کرتے جتنی قصاہیوں کی کرتے ہیں، میں سوچ رہا ہوں عیدالضحیٰ کے دنوں میں پاکستان میں کبھی عام انتخابات ہوں اور قصائی ان میں حصہ لینا شروع کردیں سب سے زیادہ ووٹ قصائیوں کو پڑیں، پر قصائی اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، وہ سمجھتے ہیں پارلیمنٹ میں ان کی ٹھیک ٹھاک نمائندگی ہے، ....مجھے نہیں پتہ عیدالضحیٰ کے موقع پر دوسرے شہروں میں صفائی کا نظام کیسا تھا ؟ پر لاہور میں ہم نے دیکھا اس برس پچھلے برس کی نسبت صفائی کے معاملات بہت بہتر تھے، یوں محسوس ہورہا تھا یہ معاملات وزیراعلیٰ بزدار نے ذاتی طورپر اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں، یا پھر ہوسکتا ہے پچھلے برس، اس سے پچھلے برسوں سے کہیں زیادہ گندگی تھی تو اس برس پچھلے برس کے مقابلے میں تھوڑی صفائی بھی ہمیں بہت لگ رہی ہو، ممکن ہے وزیراعلیٰ لاہور اور کچھ دوسرے شہروں میں صفائی کا نظام بہتر بنا کر عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہوں وہ اور کچھ کرسکیں یا نہ کرسکیں صفائی بہت اچھی کروا سکتے ہیں، سو جلد یا بدیر وزارت اعلیٰ سے فراغت کے بعد اُنہیں کسی ”سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی“ کا اعزازی ڈائریکٹر وغیرہ لگادیا جائے میرے خیال میں کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، .... کورنا کے حوالے سے رش کے پیش نظر سرکار کی لاک ڈاﺅن کی پالیسی اچھی تھی، ویسے بھی لوگوں کے یہ دن قربانی کے جانور خریدنے میں گزرگئے، .... میری عید کی خوشیاں اس لیے دوبالا ہوگئیں عید کی شام گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور اُن کی بیگم صاحب عید کی مبارکباد دینے ہمارے گھر تشریف لے آئے، وہ دیرتک ہمارے ساتھ رہے، خوب ہنسی مذاق چلتا رہا، .... پھر شام کو وزیراعظم سے بات ہوئی، یہ چونکہ عید کا موقع تھا لہٰذا میں نے کوئی غیر متعلقہ بات اُن سے نہیں کی، البتہ وہ پاکستان میں کورونا کیسز کم ہونے پر بہت زیادہ خوش تھے، میں نے یہ کہہ کر اُنہیں مزید خوش کردیا ”اللہ کے کرم کے بعد یہ سب آپ ہی کی صلاحیتوں سے ممکن ہوا ہے !!


ای پیپر