لباسِ جسم و جاں
04 اگست 2019 2019-08-04

لفظ اسلام وہ راز ہے جو لوحِ محفوظ پر روزِ اول سے لکھا تھا اور جو آج سے چودہ سو سال پہلے ہمارے آقا و مولا محمدمصطفیﷺ کی حیاتِ طیبہ سر بسر کلامِ ربیِ کی تفسیر بن گئی۔ آپؐ کی بے شمار صفات ِ کاملہ میں سے ایک عسکری تدبربھی ہے۔ ضربِ حزب کی دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ آپؐنے یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ تمام قبائل اپنے اپنے پرچموں تلے غزوات اور جنگوں میں حصہ لیں۔گویا آپؐ کو ادراک تھا کہ انسان کا اپنے پرچم سے جسم و جاں کا کتنا گہرا رشتہ ہے۔ اور پھر دنیا نے دیکھا انہی پرچموں کو اٹھا نے والوں نے آدھی دنیا کو اپنے پیروں تلے روند دیا اور یوں اللہ کے آخری دین کی حکمت و عظمت ، دنیا کے چپے چپے تک پہنچ گئی۔سو یہ کہنے میں ذرا عار نہیں کہ پرچم کی حرمت ، عظمت اور اِسکی آبرو ہمیں اسلام سے ورثے میں ملی ہے۔

تحریکِ آزادی پر نظر ڈالیے۔برّصغیر کے مسلمان محض ایک ہجوم تھے مگر قائداعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں دین کا پرچم تھاما تو ایک قوم بن گئے۔پرچم کی کرامت نے جو جذبے دکھائے اُن پر غور کیجیے۔ چھ چھ ماہ کے بچوں نے نیزے کی انّی پر چڑھ کر اپنے ہونے کاثبوت دیا۔سینکڑوں ،ہزاروں مائوں ،بہنوں ،بیٹیوں نے اپنی عصمت کے چراغ دان دئیے۔بّرِصغیر کے مسلمان اِسی پرچم کو تھامے آگ اور خون کے دریا عبور کرتے ہیں۔غلامی کے طویل راستوں کو لاشوں کے پاٹتے ہیں اور بالاخر تاریخ کا دھارا موڑ کر ایک نئے جغرافیے کو معرضِ وجود میں لاتے ہیں اور وطنِ عزیزکی سرحد پر سبز ہلالی پرچم گاڑ دیتے ہیں ۔

اب اس پرچم کی شان ،تمکنت اور غروردیکھیے کہ اسے احساس ہے کہ اِس کے لئے قوم نے کتنی بے مثال قربانیا ں دی ہیں اور یہ یقین بھی کہ رہتی دُنیا تک قوم کے سپوت اسے سربلند رکھنے کے لئے شہادتوں کے چراغ جلاتے رہیں گے۔ شہادتوں کے چراغ اپنی جگہ ،عقیدتوں کے چراغ بھی توہوتے ہیں۔ ذرا اُس بزرگ پاکستانی کو دیکھیے جو گزشتہ 65سال سے اِس پرچم کو تھامے واہگہ بارڈر پر ہر شام ، دیکھنے والوں کے دِلوں میں نئے جذبے بوتا ہے نہ کوئی تنخواہ،نہ مال وزر،بس عشق،بس سبزہلالی پرچم کو سربلند رکھنے کی خواہش۔

سرحد پار فوجی جوان ہمارے اِس بزرگ کو دیکھ کر سوچ میں پڑتے ہوں گے کہ یہ کیا قوم ہے کہ جس کے بابے اِس قدر جوشیلے اور وطن سے محبت میں رنگے ہوئے ہیں ۔انکو شکست دینا ناممکن ہے؟

جسکا ایک پرچم ساری قوم کو اکٹھا کردیتا ہے۔جسے دیکھ کر ہمارے فوجی جوانوں کے بازوتن جاتے ہیں۔اُن کے دِلوں میں جذبہ شہادت شدید تر ہوجاتا ہے اور چنگاریاں برساتی اُن کی تیر جیسی آنکھیں ،دُشمنوں پر جھپٹنے کو بے تاب ہوجاتی ہیں۔

سبز ہلالی پرچم پوری قوم کی آن،شان اور مان آخر کیوں؟ دراصل ہمارے بچے بچپن سے اپنی شاندار ،عظیم اور منظم ترین فوج کو پوری عقیدت واحترام سے جھنڈے کو سلامی دیتے دیکھتے ہیں اور پھر یومِ آزادی کے موقع پر اِن جھنڈوں کے بینر سینوں پر سجاتے ہیں ۔ اِس کے چھوٹے چھوٹے پرچم اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں تھامے،زندگی کی شاہراہوں پر گامزن ہوتے ہیں تو اِس جھنڈے کی عظمت اور تقدس ،دھیمی بارش کی طرح اِن کے جسموں پر برستا ہے اور اِن کی روح تک کو سیراب کردیتا پھر یہ بچے جوان ہوکہ جس میدان میں بھی جائیں اِس پرچم کا مان، اِس کی آبرو ،اِسکی شان اور اِس کی پاکیزگی ، اُن کی روح پر نقش ہوچکی ہوتی ہے۔ کسی بھی پاکستانی کے جسم کا لباس کچھ بھی ہو۔

کھیل کا لباس ہو،عام کھڈی کے کپڑے ہوں یا فوج کی وردی مگر اِن سب کی روح کا ایک ہی لباس ہے اور وہ ہے سبز ہلالی پرچم، تبھی تو یہ پرچم لباس ِ جسم و جاں کہلاتا ہے۔پاکستانی کھلاڑی فتح حاصل کرکے جب سبز ہلالی پرچم اپنے جسم سے لپیٹتاہے تو محسوس کرتا ہے کہ پوری قوم کی دعائیں اور محبت اُسے اپنے حصار میں لئے ہوئے ہیں۔ کسی بھی میدان میں جب کوئی پاکستانی کوئی کارنامہ سرانجام دیتا ہے تو بے ساختہ اپنے پرچم کو سلام کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ پرچم ہے تو وطن سلامت ہے۔ وطن سلامت ہے تو وہ خود ہے اور اِس کی یہ کامیابی و کامرانی ہے گویا یہ سارے سچے جذبے اسی سبز ہلالی پرچم کی عطا ہیں۔

ربّ ِذوالجلال نے پاکستان کو جن اَن گنت نعمتوں سے نوازاہے اُن میں سے ایک پاک فوج کے پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال جذبہ ایمانی ہے۔فیض صاحب نے کہا تھا یہ کون سخی ہیں جن کے لہو کی اشرفیاں چھن چھن چھن ، دھرتی کے پیہم پیاسے کشکول میں گرتی جاتی ہیں؟ یہ کوئی اور نہیں ہماری بہادر افواج کے جوان ہیں۔

تاریخ پر نظر ڈالیئے! وطنِ عزیز کو اندرونی طور پر قدرتی آفات ، زلزلوں ، سیلابوں کا سامنا ہو یا سرحدوں کی حفاظت سے ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے مراحل سے گزرنا ہو۔ پاک فوج نے اپنے جذبوں سے ایسی لازوال کہانیاں لکھی ہیں جو رہتی دُنیا تک مثال رہیں گی۔ غور کیجیے! دُنیا کی دیگر افواج شاید پیشہ ورانہ مہارت میں پاک فوج کے ہم پلہّ ہوں مگر جذبہ ایمانی میں کوئی اِن کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔

علامہّ اقبال ؒنے یونہی نہیں کہا:

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نا کشور کشائی

گویا نہ مال وزر، نہ حکمرانی ،مومن کا مقصد بھی شہادت ،مومن کی طلب بھی شہادت ،لڑنے کے لیے جانا اور بات ہے شہادت کے لیے جانااور بات ہے۔ایک راز کی بات یہ بھی ہے کہ شہادت صرف مسلمان کا مقدر ہے کسی اور قوم کو یہ نصیب نہیں ۔ شہید کے لیے دو بنیادی باتیں ہیں ایک یہ کہ وہ کلمہ گو ہو اور دوسرا یہ کہ دین کے لیے جان کی قربانی پیش کرے سو یہ سعادت مسلمانوں کا ہی نصیب ہے اور پاک فوج کے ہر جوان کا مطلوب ومقصود بھی ۔ ہر مسلمان اور پاک فوج کا ہر فرد شہادت کا اِس قدر متمنی کیوں ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے شہادت موت نہیں مسلمان کی حیات کی تکمیل ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے ایک ایسا درجہ ہے جو کبھی کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا ۔

ذرا یکھیے تو۔۔ چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم۔۔۔۔۔حضورِپاکؐنے بانہوں میں لے لیا ہوگا

بتائے ناں اِس سے بڑا مقام ،اِس سے بڑی بزرگی ،اس سے بڑا درجہ مسلمان کے لئے کیا ہوسکتا ہے کہ حضورپاکﷺ اُسے اپنی متبرک اور مقدس بانہوں میں سمیٹ لیں۔

علیؓ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے۔۔حسین پاکؓ نے ارشاد یہ کیا ہوگا

تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

جسے خدا کی رضائیں مل جائیں اُس کی زندگی تکمیل تو ہوگئی ناں۔دونوں زندگیوں کا کوئی گوشہ نامکمل نہیں رہتا ہے۔شہداء کے جسدِ خاکی کی کئی کئی دنوں بعد محاذوں سے واپس آتے ہیں تو تر و تازہ شاداب ہوتے ہیں۔اُن کے مقدس خون سے جو گلاب کھلتے ہیں وہ سدا مہکتے ہیں۔

قرآن پاک کے ایک ایک زیرو زبر پر ہمارا ایمان ہے اور تم نہیں جانتے وہ زندہ ہیں اور اُنکا رزق جاری ہے۔ (القران)

یہ کیسی موت ہے جو زندگی پر ختم ہوتی،یہ کیسا مقام ہے جس کے برابر کوئی اور مقام نہیں

ہمارے غازی اور شہید ،سبز ہلالی پرچم تلے ،اس کی سربلندی کے لئے مشکل ترین راستوں پر قدم رکھنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔وہ جانتے ہیں یہ پرچم سر بلند ہے تو وطن محفوظ ہے۔ اہلِ وطن شاد ہیں۔یہ پرچم بھی اپنے غازیوں کی شجاعت پر آزاد فضائوں میں عجیب تمکنت اور سرشاری لہراتا ہے اور یہی نہیں جب شہداء کے مقدس جسم سفرِ آخرت پر روانہ ہوتے ہیں تو یہی پرچم انہیں اپنی آغوش میں لے کر آخری منزل تک آتا ہے اور پھر شہید کے پاک جسم کو لحد میں اُتار کر، آسودہ ِ خاک کرکے اسکے خاندان کو اسی پرچم کی عظمت ، جرات اور پاکیزگی کے نشان کے طور پر دے دیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے آنے والے مہ و سال میں یہی پرچم خاندانوں کی بزرگی اور معتبر ہونے کا معیار بن جائے۔

اِس پرچم کے وقار اور توقیر کو مقبوضہ کشمیر کے غیور اور دلیر کشمیری بھائیوں نے جس طرح اپنے جسم و جان کا حصہ بنایا وہ قابلِ ستائش ہے۔ دنیا بھر کی اَمن پسند قوموں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ بہادر کشمیری اسی سبز ہلالی پرچم کو ہاتھوں میں تھامے کبھی جبرواستبداد کی ہر دیوار سے ٹکرائے۔کبھی اس پرچم کو مصلیٰ بناکر ربّ ِ ذوالجلال کے حضور سجدہ ریز ہوئے ۔ اسی پرچم کے سائے میں کشمیر کے ہر شہید کی زندگی گزری اور موت آنے پر یہی سبز ہلالی پرچم اُن کا کفن بن گیا۔

کشمیر کے بہادر عوام نے ایک لاکھ سے زیادہ شہیدوں کے لاشے رزق ِ خاک کئے ہیں ۔ اب کشمیر کی ٹیڑھی ٹیڑھی پگڈنڈیوں پر بھی اِن شہیدوں کی آنکھیں جس طرح سبز ہلالی پرچموں کی بہادر دیکھنے کو بے تاب ہیں۔سچ پوچھیئے تو سبز ہلالی پرچم نہ صرف ہر پاکستانی بلکہ ہر کشمیری کا بھی اثاثہ ہے اور کیوں نہ ہو۔ اِس پرچم سے محبت ، حق سچ سے محبت ہے ، تاریخ سے محبت ہے ، شہیدوں کے خون کی ہر بوند سے محبت ہے۔

لباسِ جسم و جاں ! یہ سبز ہلالی پرچم قرار داد ِ پاکستان کی تکمیل و تعمیر ہے، ایک زندہ تصویر ہے،ہمارا مقدر ہماری تقدیر ہے۔

ہم سب کا پرچم۔۔ہم سب کا پاکستان۔۔ پاکستان پائندہ باد


ای پیپر