خسارہ کس کا
04 اگست 2019 2019-08-04

نیا پاکستان اتنا بھی نیا نہیں کہ اپوزیشن سینٹ کی چیئر مین شپ کا انتخاب آسانی سے جیت جاتی۔کسی یونین کونسل کے چیئر مین کو تحصیل دار اور پٹواری کی سرپرستی حاصل ہوتو اکثریت کے باوجود اس کو نہیں ہٹایا جاسکتا۔ یہ تو پھر پاکستان کے ایوان بالا کی چیرمین شپ تھی اور چیر مین بھی صادق سنجرانی ایسا فرد تھا جس کو صرف ہیئت مقتدرہ کی غیر مشروط اور مکمل حمایت حاصل تھی۔صرف مقتدر ہی نہیں بلکہ ان کو سینیٹر بنانے اور راتوں رات اعلیٰ ترین منصب تک پہنچانے کیلئے پاکستان کی تاریخ کا سب سے ناقابل یقین اتحاد ہوا یعنی پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے مل کر اس مقدس فریضہ کو سرانجام دیا۔ویسے تو عاصی کی نظر میں پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ اتنا ہی فرق ہے جتنا مارکیٹ میں آنے والی نت نئی الیکٹرانک اشیا کے نئے اور پرانے ماڈل میں ہوتا ہے۔ نئے ماڈل میں پرانے کی بہ نسبت کچھ نئے فیچر ہوتے ہیں۔ کچھ ڈیزائن کا فرق ہوتا ہے۔باقی بنیادی ایجنڈا ایک ہی ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس پراپیگنڈہ مشینری ہے۔ جنونی فدائین ہیں۔ آنکھیں بند کرکے کپتان کا حکم بجا لینے والے کارکن ہیں۔ کپتان سیاہ کو سفید کہہ دے تو دل و جان سے تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ دوسرے کو زبردستی منواتے بھی ہیں۔ ان دونوں جماعتوں نے مل کر نہ صرف مسلم لیگ ن کی بلوچستان حکومت ختم کی بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مشترکہ باپ ہونے بھی اعزاز حاصل کیا۔ بی اے پی کو نہ صرف بلوچستان کی حکومت ملی بلکہ سینٹ کی چیئرمین شپ اور وفاقی وزارتیں بھی ملیں۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ صرف ایک سال پہلے تعمیر کی گئی اتنی بڑی عمارت میں سے بنیادی اینٹ کو نکال دینے کی اجازت ملتی۔ کہتے ہیں شکست یتیم ہوتی ہے اس کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ اب جبکہ اپوزیشن شکست کھاچکی ہے اور حکومت بظاہر فاتح۔ لیکن پارلیمانی نظام ، جمہوریت ، اخلاقیات سب شکست کھا گئے۔جیتا کون؟ دولت ، طمع ، حرص اور چمک۔ اگر یہ سب نہیں تو پھر دباؤ کمزوریاں۔ ماضی کے مہیب سائے، کرتوتوں کی فائلیں۔ جو کچھ بھی ہوا۔ بہت پہلے سے طے تھا۔ بکنے والے یا جھکنے والے پہلے ہی ہار مان چکے تھے۔ لیکن اپوزیشن کو کامیابی سے بیوقوف بنایا گیا۔ وہ بھی اپنے ہی لوگوں نے۔ الزام صرف خریدنے والے پر ہی تو نہیں۔ بکنے والوں نے بھی تو مول لگایا۔ یہ بھی ثابت ہوْگیا کہ اپوزیشن کی قیادت کی گرفت اپنی جماعت پر نہیں۔ سوشل میڈیا پر سودا کرنے والوں کی لسٹیں گردش میں ہیں۔ یہ فہرستیں کتنی درست ہیں کتنی غلط۔ حتمی ثبوت کے بغیر کسی پر الزام لگانا درست نہیں۔ لیکن ان تمام ناموں میں ایک بھی ایسا نہیں جو مسلمہ سیاسی کارکن ہو۔ غریب نظریاتی کارکن سرخرو رہا۔ اور ان لوگوں کے نام آئے جو پہلے ہی ارب پتی ہیں۔ صنعت کار ہیں یا وہ جو بولی لگا کر سیٹ خرید سکتے ہیں۔ پارٹی سربراہ کے ساتھ قرابت داری رکھتے ہیں۔ وہ بھی جو کاروباری رفیق تھے۔ سیاسی شہنشاہوں نے اپنے مصاحبین کو ٹکٹ دیئے۔ایسے افراد جن کی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں لہٰذا ذرا سا دباؤ آیا تو ڈھیر ہوگئے اور ہر جمہوریت پسند کو شرمندہ کردیا۔ سودا زرداری سب پر بھاری نے کیا یا خادم اعلیٰ نے۔ چند روز میں ریلیف ملتے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گالیکن سینٹ کے اس الیکشن سے ثابت ہوْگیا کہ ایوان بالا میں اقلیت کی اکثریت پر بالادستی ہے۔ ایسی فتح وقتی ہوا کرتی ہے۔ چیئرمین سینٹ کو ایوا ن کا اعتماد حاصل نہیں۔ ان کو ایک سو تین کے ایوان میں صرف سینتیس ممبران کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ ڈپٹی چیئرمین بھی اپوزیشن کا ہے۔ جب تک پی ٹی آئی کو ایوان میں اکثریت حاصل نہیں ہوتی۔ قانون سازی نہیں ہو پائے گی لیکن کامل اکثریت کیلئے ابھی پانچ سال کا صبر آزما انتظار کرنا ہوگا۔ تب تک کون کہاں ہوگا۔ کوئی نہیں جانتا۔ اس الیکشن نے تو چھانگا مانگا ، بھوربن سوات ، سیون کلب میں ماضی میں لگی منڈیوں کو بھی شرمندہ کردیا۔ انیس سو اٹھاسی سے دوہزار تک جو بھی ہوا۔ پردوں کے پیچھے ہوا۔ لیکن سینٹ کے انتخاب میں سب شفاف تھا۔ ایوان بالا کے ہال میں ، کیمروں کے سامنے ، لائیو ٹرانسمیشن کے دوران۔ جو ہوا سب نے دیکھا۔ نہ بکنے والوں کو شرم آئی نہ خریداروں کو۔ وہ کپتان جو بولیاں لگانے کا ناقد تھا۔ خود ان ماضی کے بولی دہندگان کی صف میں کھڑا ہوگیا۔ ہم ایسے جو کہتے بھائیوں پارسائی کے سب دعوے ہیں۔ اصول پرستی ڈھکوسلا ہے۔ مغربی جمہوریت کی صرف باتیں ہیں۔ ایک دن آے گا نمک کی کان میں نمک ہوجائے گا۔ ایسا ہی ہو ا۔ اب جتنے مرضی شادیانے بجا لیں۔چٹی چادر کو داغ لگ چکا ہے۔اپوزیشن ایک دفعہ منتشر ہوگی لیکن آج نہیں تو کل پھر اکٹھی ہو جاے گی۔ کیونکہ اور کوئی راستہ نہیں ورنہ خسارہ میں رہے گی۔ اپوزیشن کامیاب ہوجاتی تو سیفٹی والو مل جاتا۔ کیونکہ اپوزیشن میں ایک بیانیہ پارلیمانی جدو جہد کا تھا۔ اور دوسرا سڑکوں پر احتجاج کا ۔ پارلیمانی جدو جہد والے ناکام ہوگئے تو اب رائے سٹریٹ ایجی ٹیشن والوں کی ہوگی۔ پہلے راستہ اعتدال کا تھا۔ اب عقاب صفت دھڑے کی مانی جائے گی۔ جو تیار بیٹھا ہے۔


ای پیپر