14 ضمیر فروش، جمہوریت کا کرشمہ
04 اگست 2019 2019-08-04

جمہوریت کا کرشمہ ہے، سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں 65 ووٹوں والے ہار گئے۔ 36 ووٹوں والے جیت گئے۔ اکثریت منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی، اقلیت جشن منا رہی ہے کیا دھرا اپنوں کا ہے۔ بغلیں بجاتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے کہا سیاست بچوں کا کھیل نہیں، واقعی بچوں کا کھیل نہیں، اپوزیشن والے سارے بچے، سیاسی نابالغ 14 ارکان دغا باز اور ضمیر فروش نکلے، جھینپ مٹانے کو کہہ دیا کہ صادق سنجرانی کو ووٹ دینے والے ضمیر فروشوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ کبھی ہوئی ہے؟ 1958ء سے اب تک قومی تاریخ ضمیر فروشوں سے بھری پڑی ہے۔ ضمیر فروشی کا ریکارڈ موجود ہے۔ پہلے کبھی ملے ہیں جو اب ملیں گے۔ ایک چابکدست صحافی نے نشاندہی کردی کہ ن لیگ کے 9 پیپلز پارٹی کے 3 اور جے یو آئی کے 2 سینیٹرز نے پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دیے، کہنے کی باتیں ہیں سب کو پتا ہے اندرونی کہانیاں سنانے والے بتاتے ہیں کہ اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ کیسے پڑی۔ خاموش تعاون کے ذریعے آسانیاں کس نے حاصل کیں۔ لوگ بتاتے ہیں کہ سنجرانی کیخلاف تحریک کی ناکامی میں چمک کے ساتھ دمک کا بھی ہاتھ تھا۔ چمک کی نشاندہی پیپلز پارٹی کی شہلا رضا نے کی کہ سینیٹروں سے 70 کروڑ میں سودا ہوا۔ دمک کی نشاندہی کون کرے ، بلاول نے دغا بازوںکی نشاندہی کے لیے 5 رکنی کمیٹی بنا دی مگر واقفان حال کہتے ہیں کہ تحریک پیش ہونے سے قبل چیئرمین سینیٹ کا بلاول کے چیمبر سے خوش نکلنا جیت کی اننگز کا آغاز تھا۔ ضمیر فروشوں کی نشاندہی کی بہت جلدی ہے تو شیخ رشید سے پوچھ لیں۔ انہیں ایک ایک کے بارے میں علم ہے۔ تحریک کی ناکامی میں 9 کھلاڑیوں نے کردار ادا کیا۔ شبلی فراز تو خیر ملاقاتیں کرتے رہے لیکن شیخ رشید ’’سیاسی تعویذ‘‘ بھی استعمال کرتے پائے گئے۔ اعتراف بھی کیا۔ شیخ صاحب پہنچی ہوئی شخصیت ہیں۔ تاریخی دھرنے سے آج تک کئی منازل طے کرتے ہوئے اشفاق احمد کے بابوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ لال حویلی کے ایک حصہ میں جنوں بھوتوں کا بسیرا ہے۔ جن کے شیخ صاحب سے دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ شیخ صاحب کو بہت پہلے کئی دن بعد آنے والی خبریں بتا دیتے ہیں۔ بس ریلوے حادثات کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے، لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ریلوے کا محکمہ کسی اہل شخص کے سپرد کردیں اور شیخ صاحب کو اپنا ’’ہیڈ ترجمان‘‘ بنا لیں، قسم اللہ کی اپوزیشن چیخیں مار مار کر اپنا سر منہ پیٹ لے گی۔ آمدم برسر مطلب، آصف زرداری پریشان نہیں، سنجرانی کو بچہ کہا تھا بچے کو بچا لیا۔ کیوں پریشان ہوں گے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی پوچھ لیا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے پی پی اور پی ٹی آئی نے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے اس میں کیا لکھا تھا۔ سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا ’’حکومت جیت گئی سیاست اور جمہوریت ہار گئی، پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی سابق حکومتوں کی طرح ہارس ٹریڈنگ کی‘‘ کیا واقعی؟ 70 کروڑ ملے یا کسی پریشر نے کام دکھایا۔ پریشر کدھر سے؟ پتا نہیں، نامعلوم سمت سے آ بھی سکتا ہے۔ اپوزیشن کی بظاہر نا ممکن نظر آنے والی شکست کی پانچ وجوہات ،کروڑوں کے سودے، پریشر، منافقت، اعلیٰ سطح آسانیاں فراہم کرنے کی یقین دہانیاں یا پھر بقول نبیل گبول بلیک میلنگ، سینیٹر بلیک میلنگ کا شکار ہوئے۔ سبھی کی ویڈیو موجود ہیں۔ جمہوریت میں صرف ٹکٹیں ہی نہیں انسان بھی بکتے ہیں۔ ایک دوست نے گرہ لگائی صرف انسان ہی بکتے ہیں اپوزیشن اپنی ’’تاریخی حماقت‘‘ سے حکومت کیخلاف احتجاج سے بھی گئی۔

اک بھرم تھا جو ٹوٹ گیا، اپنا شو خود ہی فلاپ کرلیا۔ شیخ صاحب نے چٹکی لی ’’سنجرانی کو زرداری نے اپنا بچہ کہا تھا بچے کو بچا لیا تو رونا کس بات کا ؟ کسی نے ٹوئٹ کیا ’’بچے کا ابو بدل گیا ہے نا اس لیے حالات پہ رونا آیا۔‘‘ شیخ صاحب انتہائوں کی جانب محو پرواز ہیں کہنے لگے عمران خان کے ساتھ سائے کی طرح کھڑا ہوں۔ لوگوں نے کہا ضیاء الحق اور نواز شریف کے ساتھ بھی سائے کی طرح کھڑے تھے۔ اندھیرا ہوتے ہی سایہ ساتھ چھوڑ گیا، جب تک روشنی ہے سایہ ساتھ دے گا محسن احسان نے کہا تھا۔

کیا ضرورت ہے انہیں منظر و پس منظر کی

جو کہانی ہی بدل دیتے ہیں کردار کے ساتھ

شیخ صاحب کو چھوڑیے چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات، ان ’’14 اندھوں‘‘ کی بات کیجیے جنہیں خفیہ رائے شماری میں کچھ نظر نہ آیا۔ ان میں وہ پانچ’’ نا بینا‘‘ بھی شامل تھے جنہوں نے غلط مہریں لگا دیں اور ان کے ووٹ مسترد ہوگئے۔ یہ بھی جمہوریت کا کرشمہ ہے۔ 5 ووٹ مسترد نہ ہوتے تو 55 ووٹوں سے تحریک کامیاب ہوجاتی۔ یہ پانچ ’’مسیکیٹیرز‘‘ کون تھے حمام میں سارے ننگے، کسے دیکھ کر آپ شرمائیے گا۔ یار لوگوں نے مستقبل سنوارنے کے لیے کردار کو آئینہ بنا لیا ہے۔ اپوزیشن کی چیخ و پکار وقتی ابال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سینے پر نا گہانی لیکن کاری زخم لگا ہے۔ کچھ تو دوا دارو کرنا ہوگا۔ چار دن کے بیانات اور بالآخر اے پی سی سے دل کی بھڑاس نکل جائے گی۔ تنخواہیں لگی ہوئی ہیں۔ ضمیر فروش بھی اپنے ہیں کھانے کمانے کے دن ہیں۔ پارٹیوں سے انہیں نکالنے لگے تو پٹاری خالی ہوجائے گی۔ مملکت خداداد میں کوئی مسئلہ زیادہ دیر زیر بحث نہیں رہتا۔ اندھیری راتوں میں صرف ٹامک ٹوئیاں ہی ماری جاسکتی ہیں۔ شہباز شریف اور شیخ صاحب کے پسندیدہ بلاول بھٹو یہی کچھ کر رہے ہیں۔ پرانی کہانی ہے۔ دو دوست ایک اندھا دوسرا گونگا منزل ایک سفر طویل، طے پایا گونگا اندھے کی کمر پر سوار ہو کر راستہ بتائے گا۔ اندھا راستے پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دے گا۔ یعنی گونگے کی ترجمانی کے فرائض انجام دے گا۔ اندھے ترجمان نے راستے بھر معترضین کو کرارے جواب دیے اور سفر طے کرلیا۔ بندہ بندے کا دارو، رونا کس بات کا روز اول سے دغا بازی، غداری، مفاد پرستی مقدر یہ ’’خصوصیات‘‘ نہ ہوتیں تو آج حالات مختلف ہوتے۔ وزیر اعظم اور صدر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے پیٹھ دکھائی، اب 14 سینیٹر دغا دے گئے۔ اپنا گھر سنبھلتا نہیں دوسروں پر پتھرائو کرنے چلے ہیں۔ اپوزیشن میں بھانت بھانت کے لوگ ،سب حالات کے تابع’’ ان بڑے لوگوں میں کردار نہیں ہوتا کیا‘‘ بظاہر حکومت کی مخالفت حکومت گرانے کے دعوے لیکن بیک ڈور رابطے، منافقت، سب سے بڑا ثبوت اجلاس شروع ہوتے ہی تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کے حق میں 64 سینیٹروں نے کھڑے ہو کر تائید کی مگر خفیہ رائے شماری میں دغا دے گئے۔ اس سب کے باوجود حرف تسلی، ریاست مدینہ میں بھی یہی تین گروہ تھے ایک ادھر ایک ادھر ایک بیچ میں معلق، قرآن نے کہا لا الی ھولاء ولا الی ھولاء۔ ادھر نہ ادھر یعنی منافق، ادھر والوں سے ملے تو کہا آپ کے ساتھ ہیں ادھر والوں سے ملے تو انہیں یقین دہانی، ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید کہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ڈالے جائیں گے۔ راجہ ظفر الحق کہتے ہیں کہ انہیں صبح ہی پتا چل گیا تھا کہ 14 سینیٹر دغا بازی کریں گے۔ شکست کا یقین تھا تو خفیہ رائے شماری کیوں کرائی۔ ہاتھ اٹھا لیتے، عزت بچ جاتی مگر ہونی کو کون روک سکتا ہے۔ ن لیگ کے پکے سینیٹر مصدق ملک کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو تمام ہائوسز سے اخلاقا مستعفی ہو جانا چاہیے نا ممکن، اخلاقیات کا سیاست سے کیا تعلق، مادر پدر آزاد سیاست اکثریت کو شکست اقلیت کو فتح، جمہوریت ماضی کی طرح اپنے کرشمے دکھا رہی ہے۔ اخلاقیات کا پاس ہوتا تو چیئرمین دس دن پہلے استعفیٰ دے دیتے لیکن وہ ڈٹ گئے اور دس دن بعد فتح و کامرانی کے شادیانے بجاتے وزیر اعظم ہائوس پہنچ کر مبارکباد وصول کرتے رہے۔ وہی پرانا سوال کہ اپوزیشن استعفیٰ کیوں دے۔ لگی نوکریاں کیوں چھوڑے، اے پی سی بلا کر مولانا فضل الرحمان سے نیا طریقہ کیوں نہ پوچھ لیا جائے۔ حرف آخر، ضمیر فروشوں کی تلاش اور حکومت پر الزام تراشی کی بجائے اپوزیشن اپنے گریبان میں جھانک لے بقول شخصے

پڑی اپنے گناہوں پہ اپنی نظر

تو جہان میں کوئی برا نہ رہا


ای پیپر