سنجرانی جیت گئے… جمہوریت ہار گئی
04 اگست 2019 2019-08-04

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی عدم اعتماد ناکام ہو گئی ۔ ایوان بالا میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود حزب مخالف چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے میں ناکام رہی۔ سیاسی طور پر بلاشبہ یہ حزب مخالف کے لیے ایک بڑا دھچکا اور شکست ہے۔ حزب مخالف کا یہ خیال غلط ثابت ہو گیا کہ صادق سنجرانی ان کے لیے تر نوالا ثابت ہوں گے۔ اپوزیشن شاید یہ بھول گئی تھی کہ جن قوتوں کے سنجرانی نمائندہ ہیں وہ اتنی کمزور نہیں کہ ان کی آشیر باد کے باوجود ان کو نگلا جا سکے۔ مسلم لیگ (ن) سے زیادہ کون بہتر جانتا ہے جب وہ قوتیں آپ کے ساتھ ہوں اور آپ کی مدد کر رہی ہوں تو پھر آپ خود کو کتنے طاقتور محسوس کرتے ہیں اور آپ کے مخالف آپ کو کتنے کمزور نظر آتے ہیں۔ طاقت کے یہ انجکشن اور تعویذ جب آپ کے پاس ہوں تو آپ خود کو ہر کولیس سمجھناشروع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو آپ کو بھی یقین نہیں آتا کہ آپ نے یہ سب کچھ کر لیا۔ کیسے کیسے کارنامے سر انجام دے دیئے۔

اس وقت تحریک انصاف کچھ اسی قسم کی کیفیت سے دو چار ہے۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد وہ ایسے خوش ہو رہے ہیں جیسے ان کی سیاسی چالوں اور بہترین حکمت عملی نے اپوزیشن کو چاروں شانے چت کر دیا ہو۔ حقیقت سب کو معلوم ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی ناکامی میں اپوزیشن کے ان 14 سینیٹرز نے اہم کردار ادا کیا جن کا ضمیر اچانک جاگ گیا۔ چند منٹ کے اندر ان کے قلب کی ماہیت تبدیل ہو گئی ۔ ان کو اچانک احساس ہو اکہ اگر سنجرانی ہار گئے اور اپوزیشن جیت گئی تو اس سے وفات کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ جمہوریت دفن ہو جائے گی۔ سینیٹ کا وقار اور عزت خاک میں مل جائے گی۔ اس لیے انہوں نے جمہوریت ، وفاق اور سینیٹ کی عزت کو بچانے کے لیے قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی جماعتوں سے بغاوت کر کے اپنے اچانک جاگ جانے والے ضمیر کی آواز کو سنتے ہوئے سنجرانی کو ووٹ دے دیا یا اپنا ووٹ خراب کر کے عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنا دیا۔

یہ ضمیر بھی عجیب چیز ہے یہ ہمیشہ اپوزیشن کے ارکان کا ہی جاگتا ہے اور وہ بھی خاص مواقعوں پر۔ ان زندہ ضمیر سینیٹرز کو مبارکباد ہو ان کے ضمیر جاگنے سے سنجرانی جیت گئے اور جمہوریت ہار گئی ۔

ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اگر ان سینیٹرز کو اپنی جماعتوں کی سیاست اور پالیسیوں سے اختلاف تھا تو انہوں نے کسی بھی اجلاس میں اس کا کھل کر اظہار کیوں نہ کیا۔ وہ اجلاسوں میں بھی شریک رہے کھانے بھی کھاتے رہے اور قیادت کو یقین بھی دلاتے رہے کہ وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ مگر وہ ضمیر کے سامنے بے بس ہو گئے۔ ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کی خرید و فروخت جسے ہاؤس ٹریڈنگ بھی کہتے ہیں اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ پاکستان میں پارلیمانی تاریخ۔ البتہ چند برسوں سے یہ عمل تعطل کا شکار تھا اور نئی نسل جو کہ 2002ء کے بعد سیاسی طور پر بالغ ہوئی اس کے حافظے کا حصہ نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ چھانگا مانگا کو اپنے جنگل سے زیادہ شہرت ارکان اسمبلی کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ اگر ہارس ٹریڈنگ نہ ہوتی۔ سیاسی وفاداریاں بدلنے کی روایت نہ ہوتی اور ضمیروں کو جگانے کی کوشش نہ ہوتیں تو چھانگا مانگا اور مری کے ریسٹ ہاؤسوں سے لگنے والی رونقیں کیسے یاد رہتیں۔ چھانگا مانگا کیسے ہماری سیاسی لغت میں شامل ہوتا۔

جب عمران خان وزیراعظم نہیں بنے تھے تو وہ چھانگا مانگا اور مری کے ریسٹ ہاؤس بھرنے کی وارداتوں کی بہت مذمت کرتے تھے۔ وہ ہارس ٹریڈنگ اور ارکان کی منڈی لگانے کی مذمت کرتے تھے۔ وہ اسے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی سیاست کی روایت قرار دیتے تھے۔

مجھے پتا نہیں کیوں یہ امید تھی کہ وزیراعظم عمران خان وفاداریاں بدلنے والے 14 ارکان سینیٹ کی مذمت کریں گے اور ہارس ٹریڈنگ کے عمل کو جمہوریت کی نفی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیں گے مگر ایسا ہوا۔ انہوں نے صادق سنجرانی کو مبارکباد دی اور یقینا تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کو بھی شاباش دی ہو گی جنہوں نے ہارس ٹریڈنگ کو ضمیر کی آواز قرار دیا۔ انہوں نے ذاتی مفادات کے لیے سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کو اپنی کرپٹ سیاسی قیادتوں سے بغاوت کرنے والے قرار دیا جو تحریک انصاف کل تک ہارس ٹریڈنگ کی مذمت کرتی تھی اور اسے جمہوریت کے لیے زہر قاتل اور سیاسی دھبہ قرار دیتی تھی وہی تحریک انصاف اب ہارس ٹریڈنگ کا دفاع کر رہی ہے۔ ووٹ بیچنے والوں کو ضمیر کا قیدی قرار دے رہی ہے۔ جمہوری اور سیاسی عمل کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کو ہیرو قرار دے رہی ہے۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو شاید یہ یاد نہیں رہا کہ جب ان کے ارکان اسمبلی نے سینیٹ کے انتخابات میں اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے پارٹی کے امیدواروں کی بجائے دوسرے امیدواروں کو ووٹ دیئے تھے تو ان کو شوکاز نوٹس کیوں دیتے تھے۔ ان کے اس عمل کو ہارس ٹریڈنگ، سینیٹ میں جو کچھ ہوا ہو جمہوریت کی اعلیٰ اقدار اور روایات کے منافی ہے۔ اس سے جمہوریت مزید کمزور ہو گی اور سیاسی عمل پر شکوک و شبہات بڑھیں گے۔ یہ سب کچھ درست ہے مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں کب اپنی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کو فروغ دیں گے۔ کیوں وفادار اور قربانیاں دینے والے سیاسی ارکان کو محض سرمائے کی کمی کی وجہ سے انتخابی عمل سے باہر کر دیتے ہیں۔ ٹکٹ دیتے وقت وفاداری اور قربانی سے زیادہ اہمیت امیدوار کے تعلقات، ووٹ بینک اور سرمائے کو حاصل ہوتی ہے۔ سالہا سال سے پارٹی کے ساتھ وفاداریاں نبھانے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور دوسری جماعتوں سے آنے والے با اثر اور طاقتور امیدوار ٹکٹ کے حق دار قرار پاتے ہیں۔ سیاسی قیادت یہ بھول جاتی ہے کہ طاقت اور سرمائے کی سیاست کو اپنی اخلاقیات ہوتی ہے جبکہ حقیقی جمہوری عمل اور نظریاتی سیاست کی اپنی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ طاقت اور سرمائے کی سیاست میں جیت ہمیشہ طاقت اور سرمائے کی ہوتی ہے جبکہ نظریات ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔ جس نظریاتی سیاست اور سیاسی کارکنوں سے سیاسی جماعتوں نے بڑی کوشش کے بعد پیچھا چھڑایا ہے ان کے بغیر جمہوری و سیاسی عمل طاقت اور سرمائے کا غلام ہوتا ہے۔ اندرونی جمہوریت اور احتساب کے عمل کو مضبوط کیے بغیر سیاسی جماعتیں مضبوط نہیں ہوں گی ۔ سیاسی و جمہوری عمل اور روایات کمزور ہوں گی۔ سیاست جب دولت کمانے اور جلد سے جلد امیر ہونے کا ذریعہ بنے گی تو پھر اسی قسم کی روایات جنم لیں گی جس کا اظہار سینیٹ میں ہوا ہے۔

سیاسی قیادت کو اپنی روش بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ مقتدر قوتوں سے قریبی تعلقات مقتدر قوتوں کا ساتھ دیتے ہیں تو انہیں برا بھلا کہتی ہے۔ نظریاتی سیاسی کارکنوں کو عزت دیں وہ جمہوریت کے سچے سپاہیوں کی طرح اس کی حفاظت کریں گے۔ اسے مضبوط بنائیں گے۔


ای پیپر