وفاداری
04 اگست 2019 2019-08-04

ارض پاک میں دستیاب جمہوریت کی کوکھ سے ایوان بالامیں نئے انتخابات نے جنم لیا ہے ہماری سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتما د، ان جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی جنکی حمایت ہی سے وہ چیئرمین بنے، جنہیں تحریک کی کامیابی کی صور ت میں منصب سے الگ ہو نا تھا ۔ چند ماہ کے بعد ہی ان جماعتوں کے نجانے کس اعتما د کو ٹھیس پہنچی کہ ’’تبدیلی ‘‘کو ضرور ی سمجھا جانے لگا ، چیئر مین کو ہٹائے جانے کی وجہ اگر قانون ساز ی میں کوئی رخنہ ہو تا تو بات سمجھ میں آتی لیکن ان کے عہدکے دوران تو خاص قانون سازی کا عمل دیکھنے کو ملا ہی نہیں، پھر اس کے پیچھے کیا خفت تھی؟ یہ تو اپوزیشن جماعتوں کی قیادت ہی بتا سکتی ہے ، چھوٹے صوبہ سے تعلق رکھنے والے چیئر مین کو ہٹا کر اسی خطہ سے نیا لانے ہیں کونسی’’ راکٹ سائنس‘‘ نے کام کرنا تھا اور اگر تحریک کامیاب ہو جاتی تو ہماری پارلیمانی تاریخ کون سے سنہری حروف سے لکھی جاتی۔ اس سے کس کی انا کو تسکین حاصل ہو تی اور در پر دہ کیا حقائق تھے اس بارے میں راوی تاحال خاموش ہے ۔

البتہ تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں بڑے دلچسپ واقعات رو نما ہوئے، بالخصوص یوم انتخاب اپوزیشن کا’’ یوم حساب ‘‘بن کے رہ گیا۔ اپوزیشن کے اکثریت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ ممبران جنہوں نے کھڑے ہو کر قرار داد کی حمایت میں صدا بلند کی تھی ان میں سے چودہ ممبران ووٹنگ کے دوران اپنی اپنی پارٹیوں سے ہاتھ کر گئے اور نتائج نے موجودہ چیئر مین کے حق میں فیصلہ دے دیا ، ممبران کی ’’کارستانی‘‘ نے باہمی اعتماد کو بڑی حد تک ٹھیس پہنچائی۔

اب عالم یہ ہے کہ اک طرف جماعتیں تو دوسری طرف ممبران ایوان بالا اک دو سرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ، دلچسپ واقعہ یہ بھی پیش آ یا کہ کھانے کی میز پر ممبران کی تعداد دوبارہ پوری ہو گئی جو تحریک کی کا میابی کیلئے درکار تھی ، گو یا مشکوک ممبرا ن ہاتھی کے دانت کے ثابت ہوئے ،آنے والے عہد ہی میں یہ عقدہ کھلے گا کہ آخر ا نکی کیا مجبوری تھی کہ وہ عہد و پیمان کے بعد اپنے موقف سے ہٹ گئے ، انھوں نے مصلحت کی راہ ہی کیوں اختیار کی، اگر ان پے کوئی دبائوتھا تو انھوں نے قبل از وقت اسکا اظہار کیوں نہ کیا ، کونسی مجبور ی ان کے آڑے آگئی ، ووٹنگ کے مقام پے کسی نے تعویز تو نہیں باندھ رکھے تھے جو کالے جادو کی مانند جلد اثر انداز ہو گئے یاکسی عامل بابا کے دست شفقت نے تو کمال نہیں دکھایا ، اس بابت بھی وا قفان حال چپ ہیں ۔اس سے بھی زیادہ حیران کن واقعہ پانچ ووٹوں کا مسترد ہو نا ہے ، ایوان بالا ہماری ریاست کا مقدم ادارہ ہے ، اسکی ممبر شپ کیلئے جو اہلیت درکار ہے اسکی روشنی میں ووٹوں کا درست کاسٹ نہ ہونا بھی، باعث تعجب ہے اگر ممبران نے کسی کی ہدایت پرایسا کیا ہے تو بھی قابل حیرت ہے اور اگریہ فعل دانستہ انجام پایا ہے تو بھی قابل توجہ ہے۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ ایک ایک ووٹ اپنی خاص اہمیت رکھتا ہو، اتنے ووٹوں کا مسترد ہو جانا کسی نئی بات کا پتہ دیتا ہے۔ اخلاقی طور پر ان ممبران کے اسما ء گرامی سے قوم کو ضرور آگاہ کیا جانا چاہیے کہ جو ووٹ بھی ٹھیک سے ڈالنے کی اہلیت نہیں رکھتے ان سے قانون سازی کی توقع کیونکر لگا ئی جاسکتی ہے ۔

فی زمانہ سوشل میڈیا طاقتور اپوزیشن کا کردار اداکر رہاہے سارا سماج ہی اسکا ممبرہے ۔اس کی فراہم کر دہ معلومات کے مطابق وہ ممبران جو عدد ی اعتبار سے اپوزیشن کی گنتی میں تھے وہ بھاری بھر سرمایہ کا بوجھ برداشت کر کے ضمیرکے ہاتھوں مجبور ہو کر قوم کے وسیع ترمفاد میں اپنے ووٹ کا وزن سر کار کے پلڑے میںڈالنے پے مجبور ہو گئے، کیا ا نکی خواہش تھی کہ حالات جوں کے توں رہیں ، موجود ہ چیئر مین ہی فرائض انجام دیتے رہیں ۔بظاہر انکی بات میں خاصا وزن دکھا ئی دیتا ہے کہ ایوان بالا وفاقی اکائیوں کا نمائندہ ادارہ ہے اور چھوٹے صوبہ سے متعلقہ چیئر مین تو پہلے ہی کرسی صدارت پر براجمان ہے اور جس کے حق میں ووٹ کا استعمال کر ناتھا وہ بھی اس خطہ سے تعلق رکھتے ہیں پھر یہ تبدیلی تو محض ایک سردار سے دوسرے سردار کی ہو نا تھی اس لیے ان منحرف اور مشکوک ممبران نے’’ کار ثواب‘‘ سمجھ کر وفاداری بدلنے کا سوچا ہو گا، اپنے موقف سے بعد میں اپنی اپنی پارٹیوں کو آگاہ کر دیا جائے گا ،فی الوقت جو مراعات مل رہی ہیں ان سے منہ موڑنا ’’کفر ان نعمت‘‘ ہو گا، پھراگریہ فریضہ قومی جذبے کے تحت خاص ہدایات پر دیا جارہا ہو تو اس کی روحانیت ہی الگ ہوتی ہے اس کا’ ٹیسٹ ‘‘ لینا ہر کسی کا مقدرنہیں ہو تا۔

نہیں معلوم میڈ یا کے ان شیدائیوں نے کہاں سے بھاری بھر رقوم کے اعدا دو شمار لیے ہیں کہ بات اب کروڑوں سے پیچھے نہیں آرہی، کئی ارب کی ترسیل کا سن کر ہم بھی ورطہ حیرت میں گم ہیں ،کہ ایک طرف قومی خزانہ کے خالی ہونے کارونا رویا جارہا ہے،تو دوسری طرف چیئرمین کے حق میں قرار داد کو کامیاب بنانے کیلئے "ہم خیال ـ"کو’’ جیب خرچ ‘‘دے کر اس عوام کے زخموں پے نمک چھڑکنے کی دانستہ کاوش کی ہے جو اس گرانی میںز ندگی کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے، اگر اس خبر میں صداقت ہے تو اس پر نیب کا متحرک ہو نا ہی لازم بنتاہے اگریہ بے بنیاد ہے تو پھر "خفیہ "والوں‘‘کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکا کھو ج لگائیں کہ خزانے کی کنجی کس ناقابل اعتما د فرد کے ہاتھ میں ہے جو’’ حاتم طائی ‘‘کی سی روایات قائم کر رہا ہے

ہمارا شمار ان بد قسمت جہوری ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر انتخاب کا آغاز اورانجام دھا ندلی سے ہو تاہے۔ گذشتہ قومی انتخابات سے پہلے جب موجودہ سرکار کنٹینر پرحکو مت کے لتے لے رہی تھی تو بھی موضوع گفتگو دھاندلی تھا، اب جب سابقہ اپوزیشن’’ ڈی چوک‘‘ سے اترکر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہے توانکی اپوزیشن’’ دھاندلی‘‘ کا ر اگ الاپ رہی ہے ، بیچار ی قوم پریشان ہے کہ وہ کس کے مو قف کو درست قرار دے، اک طرف گرانی کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف اپوزیشن اورسرکارکو ایک دوسرے سے الجھنے سے فرصت نہیں۔

ان حالات میں بے روز گاروں کی پریشا نی میںاور اضافہ ہو جاتا ہے، مزدور کو اپنی مزدوری کی فکررہتی ہے ، قومی اداروں کی ان بن میں غیر ضروری اضافہ ہو جاتا ہے، جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی مل جاتی ہے، قومی امن تہہ و بالا کر نے والے بھی متحرک ہوجاتے ہیں، مگر میڈیاپر ہر کوئی جمہو ریت کا بھاشن دیتا دکھائی دیتا ہے، اپنی اپنی جماعت کے مو قف کو درست ثابت کر کے ملبہ مخالفین پرڈال دیتا ہے۔

فی زمانہ یہ سہولت بھی میسر ہے کہ وزراء بھی دوسری پارٹی سے مستعارلیے جاسکتے ہیں جوسابقہ حکو متوں کا کچھا چٹھا کھول کر جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں، مہنگائی سے ریلیف عوامی مطالبہ ہے انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون برسر اقتدارہے، انھوں نے تووہی جمہو ریت دیکھی ہے جو عوام کی بجائے چند معدوے خاندانوں میںپائی جاتی ہے، چیئرمین کوئی بھی ہو اس سے انہیں کو ئی سرو کارنہیں ،یہ درد سرتو صرف ان کا ہے جو ’’وفارداریوں ‘‘کی تبدیلی پرایمان رکھتے ہیں۔


ای پیپر