وہ اقتدار میں ہیں مگر بے وقار ہیں
04 اگست 2019 2019-08-04

دیکھیں جی کم عقلوں کا علم تو ہمیشہ سے ہی محدود ہوتا ہے جو معاملات کو قانون کی کسوٹی پر تولنے کی کی کوشش کرتے ہیں لیکن روحانیت کی باتیں کہاں ہر کس و ناکس کی سمجھ میں آتی ہیں ۔ کیا معلوم ضمیر کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں ؟۔ کھٹی میٹھی ٗ نمکین ٗ اچھی بری ٗ کم بری ٗ زیادہ بری ٗ سنگین یا سنگین تر۔مفادات کے کھوکھے پر پکنے والے ضمیر میں کب جاگ اٹھے اور مجبور کرے کہ چاہے ابھی ایک منٹ پہلے تم کسی اور کیساتھ وفاداری کا ثبوت دے رہے مگر اب چند لمحوں کیلئے میری بھی سن لو۔

رنگ و نور کی بارشیں ہیں کہ آسمان سے اترنا بند ہی نہیں ہو رہیں۔ اسلامی ریاست کے خدمت گار سخت بارشوں میں عوام کے دکھ درد دور کرنے اپنی بڑی بڑی کشتیوں میں غریب عوام کو گھروں تک پہنچا کر پھر اپنی کٹیا میں جا کر سکون کی نیند سوجاتے ہیں ۔ تقویٰ اور راست بازی میں جو سکون ہے وہ سب کا نصیب کہاں ؟۔اسلامی ریاست کا ایک ایسا خلیفہ ثانی جو روحانیت کا چولہ پہن کر کفار کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے ٗکافروں کی کچھاروں میں تسبیح اور منکوں کے ساتھ جلوہ افروز ہورہا ہے تو اس کے اپنے ملک میں کرامات نہ ہوں یہ تو ممکن ہی نہیں۔اہل وطن کا مقدرواقعی کھل اٹھا ہے ٗ لوگ چہک رہے ہیں ٗ رقصاںہیں ٗ نعمتیں ہیں کہ قطار اندر قطار غریب عوام کیلئے موجود ہیں اور وعدے ہیں کہ ہر روز اپنی منزل کے قدم چوم رہے ہیں ۔صوبوں پر اتنی نوازشات ہوں تو کیسے وفاق ان کرامات سے محروم رہ سکتا ہے ؟ یہ تو انصاف کا تقاضا ہی نہیں۔ بلکہ اجازت مرحمت ہو تو اسے کرامت بھی نہیں بلکہ معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریاست کے خلیفوں پر کوئی خاص رحمت سایہ فگن ہو چکی ہے ۔ جادو کا لفظ اس کیلئے بالکل مناسب نہیں ورنہ وہ جملہ ضرور صادق آتا کہ

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

سینٹ میں کئی دہائیوں تک ملک کولوٹنے والے کرپٹ سیاستدان اس بار ایسے بے نقاب ہوں گے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ سینٹ میں 64کی تعداد رکھنے والی اپوزیشن جماعت اگر چیئر مین سینٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائے گی تو وہ ناکام ہوجائے گی۔ کیسے صرف 36ووٹوں والی حکمران جماعت اس کا مقابلہ کر پائے گی مگر روحانیت اور برکات کہ ٗ ممولہ شہباز سے لڑ گیا اور شہباز کیسے چت ہوا اس پر وہ خود تاحال حیران و پریشان ہے ۔سینٹ میں خفیہ رائے شماری سے پہلے 64اراکین جوش و جذبے سے لیس ہو کر کھڑے ہو گئے کہ آج وہ صادق سنجرانی کو ہٹانا چاہتے ہیں لیکن ان کے دل باضمیر تھے ٗ ان کے سینوں میں ابھی ایمان کی رمق باقی تھی۔ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی لیکن کمزور ایمان کے مالک نکلے۔ یہ صورتحال دیکھ کر جھٹ پیشکش کر ڈالی کہ وہ رائے شماری سے پہلے ہی استعفیٰ دینے پر تیار ہیں ٗ وہ تو بھلا ہو ریاست مدینہ کے ایک فرشتے کا جس نے خصوصی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے صادق سنجرانی کو نیک ہستیوں کا پیغام دیا کہ وہ اچھے وقت کا انتظار کریں اور مدینے کی ریاست میں کرامات سے قطعاً مایوس نہ ہوں۔

صادق سنجرانی کو کرامات پر یقین تو تھا لیکن ان کے خیال میں یہ شاید کچھ مشکل کرامت ہو سکتی ہے یہاں پنکچرز کی بجائے پوری سٹپنی ہی غائب ہوتی تو عزت بچتی ۔کہاں 64اور کہاں 36اور ان کی سبکدوشی کیلئے صرف 53ووٹ چاہئیں۔ چاہے دس بھی بیمار ٗ پریشان ٗ نادار ہو جائیں پھر بھی 54لوگ تو موجود ہی رہیں گے ۔ آخر کون سی زمین پھٹے کہ اپوزیشن 53ووٹ نہ ڈال سکے۔ کیسے 64میں سے 14بندے ایک دم سے ہی صفحہ ہستی سے غائب ہو جائیں ٗ عدم سینٹ ہو کر ماضی کے اوراق میں گم ہو جائیں؟۔ مگر پھر چشم زدن نے دیکھا ٗ تاریخ رقم ہوئی کہ وہ 64 افراد جو ہاتھ کھڑا کر کے اپنے ووٹ کی طاقت کا اظہار کر رہے تھے جب خفیہ رائے شماری کیلئے پہنچے تو ان کے ووٹ روحانی طاقتوں سے اپنے اپنے مقام پر پہنچ گئے۔ اپوزیشن کے 36ووٹ بڑھ کر 45ہوگئے اور اپوزیشن کے 64ووٹ کم ہو کر 50رہ گئے۔پانچ اراکین پارلیمنٹ کی مت ایسی ماری گئی کہ وہ دو دو ٹھپے لگا کر ووٹ کو درست طریقے سے تہہ بھی نہ کر سکے۔

فاختہ بھی کتنی پاگل تھی

موسموں کی سازش سے پھر فریب کھا بیٹھی

توپ کے دہانے میںگھونسلہ بنا بیٹھی

اکثر خیال آتا ہے کہ یہ پاکستانی سیاستدان ہی ہے جو تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں ۔ملک پر بے انتہا قرضے ٗ غریبوں کی حالت ٗ بدامنی ٗ کرپشن غرض آج ملک میں جو برائیاں ہیں ان سب کے ذمہ دار سیاستدان ہی تو ہیں ۔ ان کمزور ایمان والے سیاستدانوں کو لگتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہی کرپشن کی دولت کے سہارے عوام کی شریانوں سے جونکوں کی طرح چمٹے رہنا ہے۔ اسی لئے جب ان پر روحانیت کا حملہ ہوا تو انہوں نے لایعنی بیانات جڑنے شروع کر دئیے لیکن تمام عملیات سے بالاتر ہو کر سوچا جائے تو پاکستان میں جمہوری روایات کی حالت بہت خستہ نظر آتی ہے ۔آپ کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہے ٗ وہ سیاسی جماعت جس کو عوام کے ووٹوں سے حکومتی ایوانوں میں نمائندگی ملی ہے تو آپ اس ایوان میں عوامی ووٹوں کی نمائندگی ہی کر رہے ہیں ۔ اگر آپ کو اپنی سیاسی جماعت کے منشور سے کوئی اختلاف ہے ٗ آپ کو لگتا ہے آپ غلط لوگوں میں ہیں ٗ آپ کا کوئی نظریاتی اختلاف ہے تو آپ اس سیاسی جماعت اور اس کی دی ہوئی سینٹ کی نشست کو چھوڑ سکتے تھے۔ لیکن اگر سینٹ میں 64اراکین کھڑے ہوتے ہیں اور پھر ان میں سے 9دوسری جماعت کے حق میں ووٹ ڈال دیتے ہیں اور 5افراد جان بوجھ کر ڈبل سٹیمپ کر کے اپنا ووٹ ضائع کردیتے ہیں تو یہ جمہوری قدروں کی توہین ہے ٗ یہ جمہوری نظام سے بغاوت ہے اور یہ چھپ کر وار ہے۔ لیکن ان کرامات کے سائے میں اپوزیشن کے سیاستدانوں کا کردار بہت مضبوط نظر آیا ٗ انہیں مضمحل پایا لیکن وہ اب بھی امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں ۔ ان کی نظر تنویر سپرا کا ایک شعر

ہم حزب اختلاب میں بھی محترم ہوئے

وہ اقتدار میں ہیں مگر بے وقار ہیں


ای پیپر