تاریخ یاد رکھے گی!
04 اگست 2019 2019-08-04

اپوزیشن کے دل پر مرہم رکھنے کے لیے یہ کہنا ہی کافی رہے گا کہ دلوں کے چیئرمین میر حاصل بزنجو ہیں اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی۔ کیوں کہ دلوں کے وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اگر ہوسکتے ہیں تو ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ حکومت کا اعتماد ٹھیک تھا مگر سب کیسے ممکن ہوا؟ 64 کیسے ہوئے 50؟ اپوزیشن صدمے میں بھی ہے اور ششدر بھی۔ ناشتے تک میں اعتماد اتنا عروج پر تھا کہ سکتہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ یہ 14 سینیٹرز نے ووٹ نہیں دینا تھا تو ساتھ کھڑے کیوں ہوئے؟ اتنا کھلا تضاد۔ قانون بنانے والوں کے ووٹ مسترد ہونا وہ بھی پانچ پانچ بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ناکام ہونا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا اَپ سیٹ ہے۔ یوں کہیے کہ تضادات سے بھری پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ایک اور باب کا اضافہ ہے۔ کوئی شک نہیں فیصلہ ووٹ نے کیا لیکن آدھے گھنٹے میں 64 کا 50 ہونا چمتکار سے کم نہیں لگا اور وہ بھی اسلام آباد میں جو ہے ہی چمتکاریوں کا شہر۔ لیکن دل کو تسلی اس بات کی ہے یہ کچھ نیا بھی نہیں ہوا۔ چھانگا مانگا کے گھنے جنگلات کے گیسٹ ہاو¿سز ہوں یا مری کے آرام دہ ہوٹل، پارٹیوں میں فارورڈ بلاک ہوں یا پارٹیوں میں چسکیاں یہ سب ہوتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول ہوں یا شہباز شریف حیران کم اور ششدر زیادہ نظر آئے۔ شاید گمان ہو ہماری تاریخ ہم پر ہی عیاں ہوگئی۔ خیر اب ضمیر بکے یا ضمیر کی آواز پر لبیک کہا گیا ہم چیلنج کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ اپوزیشن جانے اور ان کے 14 سینیٹرز۔ سینیٹ الیکشن پر عمران خان سمیت سب سیاستدان سوال اٹھاتے رہے۔ پیسے استعمال کی بات کرتے رہے، الزام لگاتے رہے کہ سینیٹ میں پیسہ چلتا ہے۔ لیکن یہ پیپلزپارٹی کے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی ہی تھے جنہوں نے سینیٹ میں سیکرٹ بیلیٹنگ ختم کرنے کی قرارداد 18ویں ترمیم میں شامل نہیں ہونے دی۔ یوں کہیے کہ یہ پیپلزپارٹی کی ہی چھوڑی ہوئی جڑ ہے جو منہ زور درخت بن کر پوری اپوزیشن کی راہ میں حائل ہوگیا۔ حالانکہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے حکومت اور اپوزیشن نے جو دعوے کیے تھے یہ سب آپ نے سن لیے۔ دونوں اپنی جیت کے یقین کے ساتھ ہر ٹاک شو میں رونمائی دے رہے تھے۔ یہاں تک کہ حکومت کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ایک ٹی وی پروگرام میں لکھ کر دے دیا تھا کہ صادق سنجرانی ہی چیئرمین سینیٹ ہوں گے اور تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی۔ خیر میڈیا کو منہ دینے کے لیے اپوزیشن نے اگلے ہفتے اے پی سی کا اجلاس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ جن اراکین نے آدھے گھنٹے کے اندر ضمیر بیچا تمام سیاسی جماعتیں ان کی نشاندہی کریں گی ۔ شاید ضمیروں کے حال جاننے والے شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہم قوم کو بتائیں گے وہ 14 لوگ کون تھے جنہوں نے ضمیر فروشی کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ پی ٹی آئی سے پیسے لینے کی اجازت دینے والے بلاوال بھٹو اب کہتے ہیں کہ پتہ لگائیں گے کہ پارٹی میں کون تھا جو دباو¿ میں آیا اور جس نے اپنا ضمیر بیچا۔ وہ کہتے ہیں کہ 14 سینیٹرز نے اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ اپنے رضا ربانی کو کوسنے کی بجائے بلاول صاحب کا فرمانا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اپوزیشن سینیٹ میں صاف اور شفاف انتخابات کروانے کی اصلاحات لے کر آئے گی ۔ لیکن سوشل میڈیا بھی کیا میڈیا ہے جو دل میں آئے بول دیتا ہے۔ اور کچھ باتیں تو اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ یقین کرنے کو تھوڑا تھوڑا دل بھی کرتا ہے۔ جیسے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو بلوچستان حکومت میں شامل کروانے کا معاملہ کہ مولانا صاحب جلد بلوچستان حکومت کا حصہ بننے والے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ زرداری صاحب جیل میں بیٹھ کر کوئی کارڈ کھیل گئے ہیں۔ خیر جتنے منہ اتنی باتیں۔ اگر ان خبروں میں کوئی صداقت ہے کہ سیاسی پارٹیاں سینیٹ کی ٹکٹ کے لیے کروڑوں کی بولیاں لگواتی ہیں تو میرا خیال ہے کہ ان 14 'باضمیر' سینیٹرز نے ووٹ ڈالنے سے پہلے سوچا ہوگا کہ ہمارا ووٹ پارٹی کی امانت نہیں بلکہ کروڑوں کی انوسٹمنٹ کے بعد ہماری ذہانت کا متقاضی ہے۔ تو کیوں نہ ڈیڑھ سال بعد کے مستقبل کی پلاننگ ابھی سے کرلی جائے۔ اور تو اور ایوان بالا میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد بھی ناکام رہی۔ کیونکہ اس کی حمایت میں صرف 32 ووٹ آئے۔ یوں پی ٹی آئی اور اسے کے اتحادیوں کے 4 ووٹ بھی ضمیر کی آواز پر اپنی ذہانت کے متقاضی نکلے۔

مولانا صاحب جو کل تک این آر او دینے سے انکاری تھے ان کے لیے تو صرف اتنا ہی کہوں گا جا جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا۔ ہاں اداروں کومضبوط کرنے کے حامی اور دعوے دار عمران خان صاحب سے یہ گزارش ضرور ہے کہ یہ یک مشت وفاداریاں بیچنے والے 20 ایم پی اے فارغ کرنے کا عظیم اعزاز آپ رکھتے ہیں۔ سیکرٹ بیلیٹنگ کی اور ہارس ٹریڈنگ کے خلاف سب سے توانا آواز ماضی میں آپ ہی کی رہی ہے۔ تو کیوں نہ ون تھرڈ کامیابی کے یقین کے ساتھ لگے ہاتھوں قانون سازی کرلی جائے۔ اور مستقبل کے لیے وفاداریوں کی خرید و فروخت کا بدنما داغ جو ماضی کی حکومتیں اس جمہوریت پر لگاتی آئی ہیں اس کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے۔ یہ نادر موقع ہے تاریخ میں اپنا نام رقم کروانے کے لیے۔ ورنہ لوگ سمجھیں گے کہ شاید آپ کو بھی روایتی سیاست آ ہی گئی ہے۔


ای پیپر