شکریہ عُثمان بُزدار
04 اگست 2019 2019-08-04

جب ’ نئی بات میڈیا گروپ‘ کے اشتہارات پنجاب حکومت کی طرف سے بندہوں تواس عنوان کے ساتھ اشاعت کے لئے بھیجے گئے کالم کے کئی مطلب لئے جا سکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ آپ اپنی ’آزادی صحافت‘ کو چیک کر رہے ہوں کہ جس حکومت کی ناانصافی کی وجہ سے ادارہ اور کارکن مالی بحران کا شکار ہو رہے ہوں، جب عید سر پر ہو، ادارے کے کارکن ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی بھی اس پر احتجاج کر رہی ہو اور اس سے پہلے اداروں کی عمومی پریکٹس یہی ہو کہ جس حکومت سے تنازع اور جھگڑا ہو اس کی صرف برائیاں ڈھونڈ کرسامنے لائی جائیں تو کیا اس حکومت کے سربراہ کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے، اس کا شکریہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ روایتی بدگمان سوچ کے مالک ہیں تواس کا مطلب یہ بھی نکال سکتے ہیں کہ ہم پنجاب حکومت کو خوش کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ ادارے کے اشتہارات کھول دے جو کہ آئین ، قانون اور اخلاقیات کے تمام اصولوں کے تحت اس کا حق ہیں مگر مان لیجئے کہ اس کا ایک تیسرا مطلب بھی ہے، اس کی ایک تشریح اور بھی ہے۔

یہ ہمارا اپنے رب اوراپنے ضمیر کے ساتھ عہد ہے کہ درست بات کو درست کہیں گے اور غلط کو غلط اوراس کمٹ منٹ پر کبھی اپنے ذاتی مفادات کو حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ مجھے اس شہر میں صحافت کرتے ہوئے عشرے گزر گئے، کتنی ہی حکومتیں میرے سامنے قائم ہوئیں اور ختم ہو گئیں۔ ہم پروفیشنل صحافی جانتے ہیں کہ سیاستدانوں کی دوستیاں اور دشمنیاں مفادات کے تابع ہوتی ہیں اور یہ صحافیوں کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ کسی پر بھی تنقید کرکے اسے اپنا دشمن بنا لیں بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ ایک ایسی’ تھینک لیس جاب‘ ہے کہ آپ برس ہا برس کسی شخصیت کو کوریج دیتے رہیں مگر کسی ایک موقعے پر کمی کوتاہی رہ جائے یا آپ کسی شخصیت کی درجنوں اداریوں، کالموں اور مضمونوں میں تعریفیں کرتے رہیں مگر کسی ایک موقعے پر مخالفت یا تنقید کردیں تو آپ فوری طورپر برے بلکہ لفافہ اور بلیک میلر بن جاتے ہیں لہٰذا اچھے برے موسم گزار لینے والے صحافی کبھی تعریف پر خوش نہیں ہوتے اور کبھی تنقید پر دل برا نہیں کرتے۔ اہل سیاست اپنی خُو نہیں چھوڑتے توہم اہل صحافت اپنی وضع کیوں بدلیں؟

بات بیچ میں رہ گئی، بات وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار کا شکریہ ادا کرنے کی ہے کہ انہوں نے لاہور پریس کلب کی سالانہ گرانٹ پچاس لاکھ سے بڑھا کردو کروڑ روپے کر دی ہے۔ لاہور کا پریس کلب صرف اسی لئے اہم نہیں کہ یہ صوبائی دارالحکومت کے صحافیوں کا کلب ہے بلکہ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ اپنی منفرد روایات رکھنے والے تاریخ، سیاست اور صحافت کے مرکزشہر کے صحافیوں کا مسکن ہے جس کی اپنی اقدار بھی ہیں اور ضروریات بھی۔ لاہور کے صحافی اس سے پہلے دو وزرائے اعلیٰ کو اپنا محسن مانتے ہیں، ان میں پہلے غلام حیدر وائیں مرحوم ہیں جنہوں نے پریس کلب کے لئے شملہ پہاڑی جیسی خوبصورت اور شہر کے مرکزی مقام پر جگہ دی۔ لاہور پریس کلب اس سے پہلے مال روڈ کے دیال سنگھ مینشن کی دوسری منزل کے چند کمروں میں تھا ، دلچسپ امر یہ ہے کہ جناب غلام حیدر وائیں نے خود اس جگہ کی نشاندہی کی اور دوسرے چودھری پرویز الٰہی ہیں جنہوں نے ہمیں رہائشی کالونی کا تحفہ دیا۔ چودھری پرویز الٰہی سے پہلے صحافیوں کو پلاٹ دینے کے لئے ’ پِک اینڈ چُوز‘ کا اصول رائج رہا مگر چودھری صاحب نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران لاہور پریس کلب کے رکن تمام صحافیوں کو کسی پسند ناپسند کے بغیراپنی چھت دی، جس میںپریس کلب کے موجودہ صدر ارشد انصاری اور فوٹوجرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اقبال کی بڑی کنٹری بیوشن ہے، چودھری اقبال، چودھری پرویز الٰہی کے میڈیا سیل کے انچارج بھی ہیں۔

لاہور پریس کلب،ان ہزاروں کی تعداد میں پہنچنے والے کارکن صحافیوں کا کلب ہے جن کی اکثریت اپنی تنخواہوں کے انتظار میں رہتی ہے۔ میڈیا کے سامنے جن چند اینکروں یا مشہور ناموں کا بار بار تذکرہ ہوتا ہے، جن کے ٹوئیٹر اکاونٹس پر’پراپیگنڈہ وار ز‘لڑی جا رہی ہوتی ہے وہ ہماری صحافتی برادری کا دو، چار فیصد بھی نہیں ہیں ، باقی پچانوے ، ستانوے فیصد صحافی قلم کے مزدور ہیں۔ میں لاہور پریس کلب کا لائف ممبر ہونے کی حیثیت سے جانتا ہوں کہ ہمارا کلب گزشتہ کئی برسوں سے شدید مالی بحران کا شکار ہے اور یہ بھی ہوا ہے کہ عمارت کی مرمت ، کھانے کے مینیواورملازمین کی تنخواہیں بھی متاثر ہوتی رہی ہیں ۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور میں لاہورپریس کلب اور لاہور پریس کلب ہاوسنگ سوسائٹی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا رہا۔ ان سے جب بھی ان معاملات میں تعاون اور سرپرستی کی گزارش کی گئی انہوں نے کبھی ایک نام اور کبھی دوسرے نام کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی اور پھر وہ کمیٹی کبھی نہیں نکلی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ان سے درخواست کی کہ آپ پنجاب بھر میں لاکھوں طالب علموں میں لیپ ٹاپ بانٹ رہے ہیں تو کیا آپ صحافیوں کو بھی یہ سہولت دے سکتے ہیں تو ان کا جواب نفی میں تھا۔آج مسلم لیگ نون ڈھونڈتی ہے کہ لاہور کے صحافی اس کی آواز بنیں تو میں سوچتا ہوں کہ لاہور کے صحافیوں کے ساتھ نواز لیگ کا اپنے اقتدار میں رویہ کیا تھا؟

یہ میرے رب کی قدرت ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ جب پرویز مشرف کا مارشل لا لگا تو اس وقت سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ شریف خاندان دوبارہ اقتدار میں آئے گا اور اسی طرح جب نواز لیگ کا طوطی پنجاب اور مرکز میں بولنے لگا تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ چودھری برادران اب ماضی کا قصہ بن گئے۔ حکمران مختلف طبقات کے ساتھ اپنے رویوں ، اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو دی گئی رعایتوں اور معافیوں سے ہی بڑے بنتے ہیں۔میں آج جب عثمان بُزدار کے لئے تعریف اور شکریے کا کالم لکھ رہا ہوں تو مجھے ایک اور بات کا بھی ذکر کرنا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے حکم آنے کے باوجود صوبائی حکومت کے ذمہ داران نے سٹینڈ لیا اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے جیل میں ائیرکنڈیشنر اور ٹی وی کی سہولت واپس نہیں لی۔ اس اقدام کی اہمیت کا اندازہ سیاسی شعور اور بڑا ظرف رکھنے والے ہی لگا سکتے ہیں۔مجھے اس پر پرویز مشرف کا دور پھر یاد آگیا جب شریف خاندان جلاوطن ہو چکا تھا اور حمزہ شہباز شریف نامی نوجوان یہاں اکیلا فوجی حکومت کا سامنا کر رہا تھا تو اس موقعے پر بھی چودھری برادران ہی تھے جنہوں نے حمزہ شہباز کو بہت ساری مشکلات سے بچایا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مجھے اس وقت حیرت ہوئی تھی جب حمزہ شہباز شریف کا بطور لیڈر آف دی اپوزیشن، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ایک بڑا جھگڑا ہو گیا تھا مگر اس موقعے پر بھی بالآخر حکمت اور دانش نے ہی غلبہ حاصل کیا تھا۔

کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ نے کسی سیانے سے کہا، مجھے وہ بات بتاو ¿جو میں خوشی میں سنوں تو اُداس ہوجاو¿ں اور اُداسی میں سنوں تو خوش ہوجاو¿ں۔ سیانے نے جواب دیا، وقت خوشی کا ہو یا غمی کا، بس ایک فقرہ دہرا لیجئے گا کہ یہ وقت ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے اور میرے دوستوں کو عثمان بزدار اور چودھری پرویز الٰہی سے سیاسی معاملات پر اختلاف ہوں اور یقینی طور پر ان کے اظہار سے رُک جانے کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا مگر دنیا کے ایک بہت ہی سیانے شخص کا کہنا ہے کہ وہ بندہ کبھی خدا کا شکرگزار بندہ نہیں بن سکتا جو اس کے بندوں کی مہربانیوں پر ان کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔یہ اُن کا حق ہے جس کا ادا کرنا فرض ہے۔


ای پیپر