Source : Yahoo

کالا باغ ڈیم پاکستان کےلئے نا گزیر ، ضرور بنا ئیں گے‘ چیف جسٹس آف پاکستان
04 اگست 2018 (20:02) 2018-08-04

ملتان:چیف جسٹس پاکستان آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے کہا ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے پاکستان کے عوام محافظ ہیں‘آپ نے ہر ڈیم پر پہرہ دینا ہے،تاکہ کوئی اسے کیخلاف نہ سوچ سکے،کالاباغ ڈیم تمام صوبوں کی مشاورت سے بنایا جائے گا ‘میری قوم نے میرا ساتھ دیا تو ہم کالا باغ ڈیم ضرور بنا کر رہےں گے.

تین ماہ میں انکم ٹیکس ٹریبونل فعال ہوجائےگا،بدقسمتی سے قائداورلیاقت علی کے جانے کے بعد صرف کرپشن رائج رہی‘ملک میں صرف ایک چیزنے راج کیا وہ ہے کرپشن کرپشن اور کرپشن ہے،کرپشن اوراقربا پروری معاشرے کے ناسورہیں،ہمیں اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہیے، کرپشن اور پسندیدگی ہمارے ملک میں رچ بس گئی ہے۔ وہ ہفتہ کو ہائی کورٹ بارمیں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تین ماہ میں انکم ٹیکس ٹریبونل فعال ہوجائےگا،بدقسمتی سے قائداورلیاقت علی خان کے جانے کے بعد صرف کرپشن رائج رہی،ملک میں صرف ایک چیزنے راج کیا وہ ہے کرپشن کرپشن اور کرپشن ہے،کرپشن اوراقربا پروری معاشرے کے ناسورہیں،ہمیں اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہیے، کرپشن اور پسندیدگی ہمارے ملک میں رچ بس گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم سے متعلق میں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا، سب کو پتہ ہے کہ پاکستان کے لئے ڈیم کیو ں ضروری ہے ہم نے ڈیم بنانا ہے اور اس کے لئے ہمیں انتھک محنت کرنا پڑے گی ، ڈیم کی تعمیر کے پاکستان کے عوام محافظ ہیں،آپ نے ہر ڈیم پر پہرہ دینا ہے،تاکہ کوئی اسے کیخلاف نہ سوچ سکے،کالاباغ ڈیم تمام صوبوں کی مشاورت سے بنایا جائے گا اگر میری قوم نے میرا ساتھ دیا تو ہم کالا باغ ڈیم ضرور بنا کر رہےں گے ، کالا باغ ڈیم پاکستان کیلئے ناگزیر ہے،چالیس سال تک اسی ڈیم کو نہیں بننے دیاگیا، ڈیم بننے سے روکا جارہا ہے،کسی پر الزام نہیں لگارہااور نہ ہی کوئی اس سے یہ بات لے کہ میں نے کسی کو نشانہ بنایا ہے ،انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹینکرز مافیا کا راج ہے ہم نے کئی کیس سنے لیکن بدقسمتی سے اس مافیا کا راج اسلام آباد تک بھی پہنچ چکا ہے یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ ہم نے ڈیم نہیں بنائے۔

انہوں نے کہا کہ میری بیٹی لندن سے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ آئی تھی تو اس کی آٹھ سالہ بچی میرے پاس آئی کہ نانا میں آپ کو کچھ دینا چاہتی ہوں میں نے کہا کہ بیٹا کیا دینا چاہتی ہو تو اس نے لفافہ پکڑایا جس میں سات ہزار تیس روپے تھے اس نے کہا کہ یہ میں آپ کو ڈیم کے لئے دے کر جا رہی ہیں دو مہینے کے لئے رکی تھی لیکن اس کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ پاکستان کو ڈیم کی کتنی ضرورت ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کرپشن ختم کیے بغیرہمارے بچے اورقوم آگے نہیں بڑھ سکتے،ہم تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیں گے،تعلیم اورصحت کے مسائل حل کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا،حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ تعلیم پر توجہ دے،آج کل سکولوں میں 35ہزار روپے فیس ہے،ہم ایسے نہیں چلنے دیں گے،تعلیم ایک بنیادی حق ہے،آنےوالی حکومت تعلیم کے حوالے سے بنیادی حقوق فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحفے میں نہیں ملا،قائداعظم کی کوششوں کا نتیجہ ہے،کیا ہم نے پاکستان بننے کے بعد اس کی قدرکی؟پاکستان بنانے کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دی گئیں ہیں، کرپشن کیخلاف جہاد کرنا ہے،پاکستان سے زیادہ عزیز میرا کوئی مفاد نہیں،ہم بچوں کو تعلیم دے نہیں بیچ رہے ہیں،سرکاری تعلیم نہ ہونے کے برابرہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ فجرکی نماز پڑھنے کے بعد ایک باریہ ضرور کہتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں،میں پاکستانی ہوں،میں پاکستانی ہوں تاکہ مجھے یہ احساس ہو کہ میں نے پاکستان کے لئے کچھ کرناہے،یہ پاکستانیت اگرآپ کی رگوں میں سراہیت کر گئی تو کوئی غلط کام آپ کی سوچ میں بھی نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق ہفتے اوراتوارکوبھی کیسزسنتا ہوں،بنیادی حقوق کی فراہمی لوگوں کا حق ہے،عدلیہ کااحسان نہیں،بنیادی حقوق انتہائی مقدس ہیں،انہوں نے کہا کہ میرے لیے بار کے وکلا میری فیملی ہیں، مجھے وکلا سے بہت ذیادہ پیار ہے۔


ای پیپر