Source : Yahoo

امریکہ ہماری نہیں اپنے چینی قرضوں کی فکر کرے،اسد عمر
04 اگست 2018 (16:37) 2018-08-04

اسلام آباد:تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے امریکہ کودو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ہماری فکر کم، خود چین سے لئے گئے قرضوں کی فکر کرے، چین کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں کو منظر عام پر لایا جائے گا،پاکستان کو فوری طور پر 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، رقم کا بندوبست آئندہ 6 ہفتوں میں کرنا ہوگا،دوسرے ممالک کیساتھ مقابلے کیلئے کارخانوں ،زرعی شعبے کو توانائی کی فراہمی پرٹیکس کی شرح کم کرینگے۔

ان خیالات کااظہار انہوںن ے غیر ملکی جریدے بلومبرگ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا ۔انہوں نے کہاکہ اعداد شمار کے مطابق اس وقت امریکا، چین کا لگ بھگ 1200 ارب ڈالر کا مقروض ہے جبکہ امریکا نے چاپان سے بھی 1000 ارب ڈالر قرض لیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا گذشتہ 13 ماہ میں چین نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے برابر قرض دیا۔اسد عمر کا کہنا تھا پاکستان کو فوری طور پر 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، رقم کا بندوبست آئندہ 6 ہفتوں میں کرنا ہوگا، پاکستان آئی ایم ایف، دوست ممالک اور بانڈز جاری کرسکتا ہے، خراب معاشی صورتحال عمران خان کے لئے چیلنج ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے میں شفافیت لائیں گے اور چین کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ اسدعمرنے کہا کہ نئی حکومت نے کارخانوں اورزرعی شعبے کو توانائی کی فراہمی پرٹیکس کی شرح کم کرنے کامنصوبہ بنایا ہے تاکہ کاروباری شعبے کی خطے کے دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلے کی صلاحیت بڑھائی جاسکے،اپنے پہلے سودن کے اندر سنگاپور کی طرح سرکاری سرپرستی میں چلنے والی کمپنیوں کوویلتھ فنڈ میں تبدیل کریں گے تاکہ ان میں سیاسی مداخلت ختم کی جاسکے۔ کارخانوں اور زرعی شعبے کیلئے توانائی پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کے اس اقدام کے بعد محصولات کی کمی پوری کرنے کیلئے ویلتھ ٹیکس متعارف کرایاجائے گا۔

اسدعمرنے کہاکہ پاکستان زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کو بڑھانے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ سمیت دوست ممالک کے پاس جاسکتاہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے بانڈزبھی جاری کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے کسی بھی ملک یاعالمی ادارے سے ابھی بات نہیں کی کیونکہ حکومت کی تشکیل تک کوئی باضابطہ کام شروع نہیں کیاجاسکتا۔اسد عمر نے کہاکہ نئی حکومت پاکستان میں ایک خطہ ایک شاہراہ راہداری کے 60ارب ڈالر سے زائدمالیت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مزید شفافیت لائے گی۔


ای پیپر