04 اگست 2018 2018-08-04

اپوزیشن جماعتیں پولنگ بیگز سے بَلے نکلنے پر بَل کھا رہی ہیں اور دوسری طرف الیکشن کمیشن 24 اور پھر 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود حتمی طور پر نتائج کا اعلان نہیں کر پایا اور یوں لگا جیسے 'بَرق رفتار' آر ٹی ایس سسٹم ریس کا وہ خرگوش ہے جو کچھوے سے پھر بازی ہار گیا۔

افغانستان، ایران، مالدیپ، سعودی عرب، چین، ترکی، امریکا اور بھارت سمیت کئی ممالک سے کپتان کو مبارکبادیں مل رہی ہیں۔ پہلے پہل تو بھارتی میڈیا نے جہاں عمران خان کی جیت پر صبح و شام صفِ ماتم بچھائے رکھی وہیں اب ستائش کے کلمات دے رہا ہے۔

لیکن اندرونی صورتحال یہ ہے کہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری آل پارٹیز کانفرنس ہوگئی۔ الیکشن کے تمام نتائج کو مسترد کرنے کے باوجود ملک کی دو بڑی اور سابق حکمران جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنا جمہوری کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے حالیہ رابطوں سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کی صورت میں دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گی۔ مولانا فضل الرحمان صاحب جو ابتدا میں دونوں بڑی جماعتوں کے برعکس فرما رہے تھے کہ نو منتخب اراکین حلف برداری کے عمل میں شرکت نہ کرکے انتخابی عمل کو ناقابل قبول قرار دے دیں مجبوراً انہیں بھی یو ٹرن کے اندر ہی اپنی عافیت نظر آئی۔ اور اندر کی کہانی یہ ہے کہ ایم ایم اے میں شامل بڑی جماعت جماعتِ اسلامی نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز کو ہی رد کردیا تھا جبکہ حالیہ شہادت کا بوجھ اٹھائے کے پی کے اور بلوچستان میں چند نشستوں کی مالک اے این پی نے بھی مولانا فضل الرحمان کے موقف سے راہیں جدا کرلی تھیں۔

میری نظر میں پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کی تجویز کو مسترد کرنے والی جماعتیں تاریخ کی اس بات سے بخوبی آگاہ تھیں کہ 1977 کے انتخابات کے بعد پاکستان قومی اتحاد میں شامل جماعتوں نے حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا اور فیصلے کا نتیجہ جنرل ضیا الحق کے مارشل لاءکے نفاذ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

یہی وجہ ہے مسلم لیگ (ن) اپنی 64 اور پاکستان پیپلز پارٹی مرکز میں اپنی 43 نشستوں سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتی۔ اور تو اور مرکز نہ سہی صوبوں میں حکومت بنانے کا موقع تو ہے۔ اسی لیے ماضی کے تمام اختلافات بھلا کر یہ جماعتیں اپنے اعلامیے میں ایک تھالی میں کھانے پر راضی دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ نواز شریف اور مریم نواز اپنی تمام تر تقاریر میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو ایک ہی نظریے کی جماعتیں بتاتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک بھی کہنے میں کبھی کوئی عار نہیں سمجھی کہ اگر پی ٹی آئی کو ووٹ دو گے تو وہ پیپلز پارٹی کو جائے گا اور پیپلز پارٹی کو دیا گیا ووٹ پی ٹی آئی کی طاقت میں اضافہ کرے گا مگر واہ رے سیاست آج یہ دونوں ہی جماعتیں سر ہی

نہیں گھٹنے بھی جوڑ کر بیٹھی ہیں۔ پھر سوال پوچھنا حق ہے کہ اندر سے کون ایک ہے۔ حالانکہ 2013 کے انتخابی نتائج کو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے ریٹرننگ افسران کے انتخابات قرار دیا تھا۔ ا±س وقت بھی چھوٹی جماعتوں نے دھاندلی کا شور مچایا تھا تاہم تحقیقات کے مطالبے کو سرگرمی سے بلند نہیں کیا گیا۔ صرف تحریک انصاف نے دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے مسترد کردیا۔ پھر کیا تھا پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کے 126 دن ہم نے دیکھے۔ لیکن اس دھرنے کے نتیجے میں موجودہ نگران وزیراعظم اور اس وقت کے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں عدالتی کمیشن نے تحقیقات کیں۔ کمیشن نے انتخابی عمل کو دھاندلی کے بجائے بد انتظامی قرار دیا تھا۔ اور تو اور تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں آکر اپنا موقف پیش کرنے کا کہا گیا۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی نے انتخابی اصلاحات پر کام کیا۔

سابق حکومت نے تین سال کے غور و فکر کے بعد انتخابی اصلاحات 2017 کا قانون منظور کیا۔ اگر مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت تمام جماعتوں نے اس وقت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو آج نظر آنے والی کئی بدانتظامیوں کو ختم کیا جاسکتا تھا۔ اب اگر انتخابات میں آر ٹی ایس نظام کے جام ہونے، فارم 45 کی تاخیر سے فراہمی جیسے معاملات پر اعتراض کیا جارہا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج تبدیل ہوگئے۔

حالانکہ انتظامی خرابیوں کا تذکرہ فافن اور یورپی یونین کے مبصرین نے بڑے موثر انداز میں کردیا ہے لیکن دھاندلی کی مکمل نفی کی ہے۔ بدترین جمہوریت کو آمریت پر فضیلت دینے والوں کو شاید یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ جمہوریت ایک تسلسل کا نام ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی اور انتظامی نوعیت کی خرابیاں ہوتی ہیں۔ لیکن درست نیت اور بلند عزم ہو تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ خرابیاں دور ہوجاتی ہیں۔

کیا یہ بات خوشگوار حیرت کا باعث نہیں کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے موروثی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ آنکھیں بند کریں اور سوچیں کیا ایسا گمان بھی تھا کہ خاندان حکمرانی کا تسلط ختم ہوپائے گا نہیں مجھے تو نظر نہیں آیا۔ اگر قدرت نے یہ موقع پاکستان تحریک انصاف کو عمران خان کی قیادت میں عطا کیا ہے تو ڈلیورنس کے لیے ہمیں سیاسی جماعتوں سے تعلق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ موقع تحریک انصاف کو دینا چاہیے۔

امید ہے جے یو آئی (ف) اور دوسری جماعتیں پاکستان کو لاحق مسائل کا خیال کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں گی اور ان لوگوں کی آرزوو¿ں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گی جنہوں نے انہیں پارلیمنٹ میں جاکر کردار ادا کرنے کے لیے ووٹ دیا۔

لیکن مجھ سمیت پورے پاکستان کو بہت سی توقعات کے ساتھ اس بات کا اندازہ بھی ہے کہ عمران خان صاحب آج وہاں کھڑے ہیں جہاں پہلے کبھی بھی نہیں کھڑے تھے۔ ہاں پاکستان بھی آج وہاں کھڑا ہے جہاں پہلے کبھی نہیں کھڑا تھا۔


ای پیپر