سیاسی کورونے!
04 اپریل 2020 2020-04-04

پاکستان میں اِس وقت کورونا کی آزمائش، وباءیاعذاب ، کوئی اسے کچھ بھی کہہ لے، کے متاثرین خصوصاً مالی متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، میں تڑپ اُٹھتا ہوں جب ایسے لوگ میرے نوٹس میں آتے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک خود دینے والوں میں تھے ، اب مانگنے والوں میں ہیں، ابھی زخم ہرے ہیں، جب زخم ہرے ہوتے ہیں اُن کی شدت اور تکلیف کا اتنا احساس نہیں ہوتا جتنا بعد میں ہوتا ہے، نامور شاعر منیر نیازی نے اِس صورت حال یا حقیقت کو اپنی پنجابی غزل کے ایک شعر میں اِس طرح بیان کیا ہے ”بدل اُڈھے تے گم اسمان دسیا....پانی لتھے تے اپنا مکان دسیا“ ....سو ابھی بادل چڑھے ہوئے ہیں، ابھی آسمان گُم ہے، ابھی ہرطرف پانی ہی پانی ہے، جب بادل ختم ہوں گے، پانی اُترجائے گا، تب جاکر اصل حقیقت ہمارے سامنے آئے گی کتنا نقصان ہوچکا ہے؟....اصل بات نقصان کی نہیں، نقصان پورا کرنے کی ہے؟ ظاہر ہے ہماری حکومت اِس قابل نہیں، وہ کسی قابل نہیں، سوائے باتیں اور تقریریںوغیرہ کرنے کے ، لہٰذا اِس حکومت سے توقعات وابستہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ”شیطان “ سے توقع وابستہ کرلی جائے کہ وہ ہدایت یا نیکی کا کوئی راستہ دکھلائے گا .... میں نے اپنے گزشتہ کالم میں جس کا ذکر میرے بہت ہی محترم بھائی رو¿ف کلاسرا نے اگلے روز اپنے ایک ویڈیو بلاک میں بھی کیا، وزیراعظم کو ایک تجویز اس مکمل یقین کے ساتھ دی تھی وہ اِس پر ہرگز عمل نہیں کریں گے، کیونکہ اس سے ان کی ذاتی جیب ہلکی ہوجانی تھی، جس کا زندگی میں اُنہیں زیادہ تجربہ نہیں ہے، جہاں تک مجھے یقین ہے، بلکہ کسی حدتک میرے نوٹس میں بھی ہے اُن کی طرف سے ان کا صدقہ بھی اُن کے بجائے کوئی اور ہی دیتا ہے اور وہ یقیناً اس اطمینان میں مبتلا ہوں گے ”اپنا صدقہ بھی کسی اور کا دیا ہوا ہی کام آتا ہے“ .... پلے سے اُنہوں نے زیادہ تر لوگوں کو صرف دُکھ دیئے ہیں .... میں نے اُنہیں مشورہ دیا تھا جب تک کورونا وائرس کے متاثرین اپنی سابقہ پوزیشن پر بحال نہیں ہو جاتے وہ پہل کریں اپنی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ، وزراءاور مشیروں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی پابند کریں کہ وہ اپنی تنخواہیں مستحقین کی مدد کے لیے وقف کردیں گے .... ان کے اس عمل سے اُن کے بارے میں موجود یہ تاثر بھی کسی حدتک ختم ہوجائے گا ” وہ ہمیشہ دوسروں سے ہی مانگتے ہیں“۔یا اُنہیں مانگنے کی عادت پڑی ہوئی ہے، جس کا ایک ثبوت اُنہوں نے یہ دیا ابھی کورونا وائرس پاکستان میں پوری طرح داخل بھی نہیں ہوا تھا اُنہوں نے دنیا سے اپیل کردی ”ہمارے قرضے معاف کردیئے جائیں“ ازرہ مذاق سوشل میڈیا پریہاں تک پراپیگنڈہ ہورہا ہے”ہمارے وزیراعظم نے آکسفورڈ سے مانگنے کی ڈگری لی ہوئی ہے“ .... ظاہر ہے وزیراعظم اپنی ذات کے لیے نہیں مانگتے۔ اپنی ذات کے لیے مانگنے کی اُنہیں ضرورت بھی نہیں۔ اُنہیں مانگے بغیر دینے والوں کی تعداد شاید ہزاروں میں ہوگی۔ یہ اُن پر اللہ کا خاص کرم ہے، مگر جب ملک کسی عذاب، چاہے وہ زلزلے یا سیلاب کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، یا اب کورونا وائرس کی شکل میں نازل ہوا ہے، یا کسی فلاحی منصوبے کے لیے وہ دوسروں سے مانگتے ہیں تو ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے وہ خود بھی صاحب حیثیت ہیں، اُن کے اردگرد سارے ہی مالدار ہیں، کم از کم میں نے تو اُن کے قریبی دوستوں میں کوئی ایک غریب شخص آج تک نہیں دیکھا، غریبوں کو ہمارے اکثر حکمرانوں نے صرف ان کا ذکر وغیرہ کرنے کے لیے رکھا ہوتا ہے، وہ اکثر فرماتے ہیں ”غریبوں کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں “ ....شاید اِسی لیے وہ غربت ختم کرنے میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوئے کہ غریب ختم ہوگئے اُن کے لیے دعائیں کون کرے گا؟....ارکان اسمبلی اوروزیروں مشیروں میں شاید ایک آدھ ہی ایسا ہوگا جس کے پاس اس کی ضرورت سے بڑھ کر مال وزر نہ ہو، زمینیں جائیدادیں وملیں وغیرہ نہ ہوں، تو یہ دوسروں سے مانگنے سے پہلے خود کوئی مثال قائم کیوں نہیں کرتے؟ ظاہر ہے اُن کے اِس عمل سے بے شمار لوگ Motivateہوں گے اور ان میں اپنی توفیق سے بڑھ کر مستحقین کی مدد کا جذبہ پیدا ہوگا،....وزیراعظم عمران خان کے ساتھ دیرینہ تعلق اور خصوصی محبت کے باعث میں چاہتا تھا وہ اس ضمن میں پہل کرکے ایک مثال بنیں جس کے بعد پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو بھی شرم آئے اور وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے دیکھا دیکھی ، بادل نخواستہ ہی وہ بھی یہ فیصلہ کرلیں جب تک

کورونامتاثرین کی ہرلحاظ سے مکمل طورپر بحالی ممکن نہیں ہو جاتی وہ اپنی تنخواہیں ان کے لیے وقف کردیں گے، ....یہ وہ ”کلاس“ ہے جس نے ساری زندگی سیاست اور حکومت سے جائز ناجائز طریقوں سے اتنا کمایا ہوا ہے ان کی کم ازکم سات پشتیں گھر میں بیٹھ کر کھاسکتی ہیں، اِس کمائی کو اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اسے” پاک“ کرنے کا موقع ایک بار پھر اُنہیں ملا ہے، اُن کی بڑی بدقسمتی ہوگی یہ موقع اگرضائع کردیں گے، .... میرا خیال تھا مصیبت یا قیامت کی اس گھڑی میں شہباز شریف ڈرامے وغیرہ کرنے پاکستان نہیں آرہے، میرا خیال تھا اُن کے بڑے بھائی (اللہ اُنہیں زندگی اور صحت دے) جو آدھے سے زیادہ قبر میں ہیں وہ شاید اپنے چھوٹے بھائی کو یہ نصیحت یا وصیت کرکے پاکستان بھجوارہے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ، سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں تین بار اقتدار دیا ہے جس کے بعد ہماری جائیدادوں میں شاید تین سو گنا اضافہ ہوگیا ہے، اب اس ملک کو ہماری طرف سے کچھ دینے کا وقت آہی گیا ہے تو ہمیں اس ضمن میں اس لیے بھی کنجوسی نہیں کرنی چاہیے کہ دوبار قبر آپ کو پکار چکی ہے، اور مجھے مسلسل آوازیں دے رہی ہے، قبر میں ساتھ کچھ نہیں جانا، لہٰذا آپ پاکستان واپس جاکر جتنی ہمارے پاس جائیدادیں ومال وزر ہے، جو مختلف جائز ناجائز طریقوں سے ”انھے وا“ ہم نے بنایا ہے اُس کا کم ازکم پچاس فی صد حصہ کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے وقف کردیں، تاکہ اللہ میری اگلی منزلیں آسان کرے اور اسی بہانے آپ کا اگلا اقتدار بھی آسان کردے، .... یہی توقع مجھے زرداری سے بھی تھی، میں سوچ رہا تھا ان کی ٹانگیں بھی تقریباً قبر میں ہی ہیں وہ بلاول بھٹو زرداری کو پاس بلائیں، اُسے یہ نصیحت یا وصیت کریں جتنا مال وزر، جتنی جائیدادیں جائز ناجائز طریقے سے کما کر یا بناکر اندرون وبیرون ملک ہم نے رکھی ہوئی ہیں وہ ساری کورونا متاثرین کے لیے وقف کرکے حقیقی معنوں میں ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کردیں، ایسی صورت میں جس طرح بھٹو آج تک نہیں مرا اُسی طرح زرداری بھی نہیں مرے گا ،....پر مجھے یقین ہے ہوس، حرص ، طمع اور لالچ کے مارے ہوئے یہ لوگ اس بارے سوچنا بھی گوارا نہیں کریں گے، مرتے وقت ان کی زبانوں پر کلمہ نہیں ہوگا، اس وقت بھی شاید اپنے ورثاءکو وہ یہ نصیحتیں اور وصیتیں کررہے ہوں ” جوکچھ جائز ناجائز طریقوں سے ہم نے بنایا اور کمایا ہے اسے سنبھال کر رکھنا اور آتے ہوئے ساتھ لے آنا !!


ای پیپر