پولیس سٹیٹ اور بائیس اے ،بائیس بی
04 اپریل 2019 2019-04-04

انصاف کی فراہمی میں ماتحت عدلیہ کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کی بے حسی کا شکار عوام اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے انھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ ان عدالتوں میں دائر ہونے والے زیادہ تر مقدمات فوجداری ہونے کے باعث محکمہ پولیس سے متعلق ہوتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق عدالتوں میں ساٹھ فیصد مقدمہ بازی کا تعلق محکمہ پولیس سے ہے۔ ان حالات میں گیارہ مارچ کو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں ہونے والے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں پولیس کے خلاف شکایات کی دادرسی کے لیے بنائے گئے فورم جسٹس آف پیس سے رجوع کرنے کے طریقہ کار میں ایک قدم کا اضافہ کر دیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے میٹنگ میں کہا کہ ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت سیشن عدالتوں میں اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی بھرمار ہے جبکہ عدلیہ کا بائیس اے بائیس بی کے تحت اختیار نہ صرف انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے بلکہ اختیارات کی تقسیم کے اصول کے بھی منافی ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ملک بھر کی سیشن عدالتیں بائیس اے بائیس بی کی درخواستوں پر اس وقت تک کارروائی نہ کریں جب تک متعلقہ ایس پی کمپلینٹ کا فیصلہ ساتھ لف نہ ہو۔یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ بائیس اے ، بائیس بی کے تحت درخواست اس وقت دائر کی جاتی ہے جب پولیس کسی شہری کو ناجائز ہراساں کرے، قابل دست اندازی جرم سرزد ہونے کے باوجود مقدمہ درج نہ کرے یا تفتیش درست طریقے سے نہ کرے۔ پہلے شہری متعلقہ تھانے میں درخواست دینے کے بعد دادرسی نہ ہونے پر فوری عدالت سے رجوع کر سکتا تھا لیکن حالیہ فیصلے کے بعد اب اسے تھانے درخواست دینے کے بعد متعلقہ ایس پی کمپلینٹ کو بھی درخواست دینا ہو گی جو سات روز میں اس پر فیصلہ کرے گا، جس کے بعد متاثرہ شہری جسٹس آف پیس سے رجوع کر سکے گا۔ فوجداری معاملات میں یہ وہی بنیادی تقاضے ہیں جو قیام پاکستان سے آج تک کسی دور حکومت میں پورے نہیں ہو سکے اور آج بھی پاکستان کو پولیس سٹیٹ کہا جاتا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یکم جنوری 2017 سے 28 فروری 2019 تک دو سال میں ملک بھر کی ماتحت عدالتوں میں چھ لاکھ چودہ ہزار تین سو سات درخواستیں بائیس اے بائیس بی کے تحت دائر کی گئیں جبکہ لاہورہائیکورٹ میں اسی نوعیت کی دائر ہونے والی درخواستوں کی تعداد سینتالیس ہزار انتیس تھی۔ ان چھبیس ماہ میں صرف سیشن عدالتوں میں دائر ہونے والی ان درخواستوں کی شرح نکالی جائے تو یہ تقریباً 23627 درخواستیں ماہانہ بنتی ہیں اور اگر اسے روزانہ کی بنیاد پر دیکھیں تو تقریباً 790 روز میں 777 درخواستیں روزانہ دائر گئیں۔ اتنی بڑی تعداد میں عوام کا عدالتوں سے رجوع کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کے خلاف عوامی شکایات میں کمی نہیں آ سکی اور شہری اب بھی قانونی دادرسی کے لیے جسٹس آف پیس کے نیم عدالتی نظام سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ قارئین کی آسانی کے لئے یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پولیس کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے 1982 میں ضابطہ فوجداری میں ترمیم کے ذریعے جسٹس آف پیس کا عہدہ قائم کیاگیا تھا اور پھر 2002 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کی گئی ترامیم میں ان کے اختیارات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن ججز کواس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔جسٹس آف پیس کے اختیارات وقتافوقتا اعتراضات بھی اٹھتے رہے لیکن ان اختیارات سے متعلق آخری فیصلہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجربینچ نے 2016 میں کیا تھا۔ اس فیصلے میں واضح طور پر یہ قرار دیا گیا تھا کہ بائیس اے بائیس بی کے تحت جسٹس آف پیس کے اختیارات نیم عدالتی ہیں اور انھیں انتظامی نہیں کہا جا سکتا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بائیس اے آئین اور اعلی عدلیہ کے فیصلوں سے متصادم نہیں ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق پانچ رکنی لارجر بنچ کے فیصلے کی موجودگی میں کمیٹی یا کوئی بھی صاحب اختیار خود سے اس فیصلے کی نفی نہیں کر سکتا۔ اگر چیف جسٹس پاکستان کے نزدیک جسٹس آف پیس کے اختیارات عدلیہ کی انتظامیہ میں مداخلت ہے تو انھیں اس سے بڑا بینچ تشکیل دینا چاہیے تھا جو دوبارہ اس پر نظر ثانی کرتا اور پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر یہ طے کرتا کہ یہ اختیارات انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت ہے۔ وکلائ کا کہنا ہے کہ عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے یہ فیصلہ عجلت میں مناسب غور و فکر کے بغیر ہی کر لیا وگرنہ لارجر بنچ کا فیصلہ ایک قانونی قدغن تھا۔عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اس فیصلے پر وکلاءکا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس نظام کا بڑا سٹیک ہولڈر ہونے کے باوجود انھیں مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا اور جن سے شکایت ہو، دادرسی کے لیے بھی انھیں کے پاس بھیج دیا جائے، یہ عوام کے ساتھ ایک مذاق ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے فیصلے کو ملک بھر کی وکلاءتنظیموں نے یکسر مسترد کر دیا اور اس فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ اس روز سے اب تک اس مسئلے پر وکلاءبرادری نے ملک بھر میں دو روزہ ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کے علاوہ آل پاکستان وکلاءکنونشن بھی منعقد کیا۔ معاشرتی ناانصافیاں اور بالخصوص پولیس کے روایتی رویے سے دلبرداشتہ عوام کے لئے مکمل عدالتی اختیارات نہ رکھنے کے باوجود جسٹس آف پیس کو امید کی آخری کرن سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے اب ضرورت اس بات کی تھی کہ اسی ضلعی کمپلینٹ آفیسر کو جسٹس آف پیس کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے مقرر کر دیا جاتا جو چوبیس گھنٹے میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بناتا اور عوامی دادرسی کا عمل تیز ہو جاتا۔ اسی طرح سابق چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کے حوالے سے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جسٹس آف پیس کے اختیارات پر لارجر بنچ کے فیصلے کے بعد انھی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے 2016 میں وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی سربراہی میں کریمنل جسٹس کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دیں تھیں، ان صوبائی کمیٹیوں کو یہ مینڈیٹ بھی دیا گیا تھا کہ وہ پولیس آرڈر کے تحت ضلعی سطح پر سیشن ججوں کی سربراہی میں قائم کریمنل جسٹس کوآرڈینیشن کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور انھیں گائیڈ لائنز جاری کریں۔لیکن ان صوبائی کمیٹیوں کے ایک یا دو سے زائد اجلاس منعقد نہیں ہو سکے اور سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اعلی عدلیہ کی عدم دلچسپی کے باعث یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ اگر سابق چیف جسٹس کے اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں صوبائی کریمنل جسٹس کوآرڈینیشن کمیٹیاں فعال کردی جاتیں تب بھی صورتحال میں بہتری آ سکتی تھی۔ اس لئے اگر عوامی مشکلات میں اضافے اور اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اب بھی وکلاءکو مشاورتی عمل میں شامل کر کے اس فیصلے پر نظرثانی کر کے بہتر راستہ نکالا جائے تو پولیس سٹیٹ میں بسنے والی عوام کی مشکلات میں کمی آ سکتی ہے۔


ای پیپر