شہیدوں کا دُکھ!
04 اپریل 2019 2019-04-04

نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہمدردی کے جوانداز اپنائے اُن سے میں اتنا متاثر ہوا یا اُنہوں نے میرے دِل ودماغ پر اتنا اثر کیا اِس موضوع پر لکھے جانے والے کالموں کی یہ پانچویں اور آخری قسط ہے جس میں، میں مسلسل گوری دنیا اور گورے معاشرے کی خوبیاں ہی خوبیاں لکھتا چلے جارہا ہوں اور ظاہر ہے میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کررہا، اُن میں بے شمار خرابیاں بھی ہیں مگر اُن کی خوبیاں خصوصاً انسانیت کے حوالے سے جو درد اُن میں ہے وہ اُن کی خامیوں پر بھاری ہے، ہم میں بھی بے شمار خوبیاں ہیں مگر مسلم معاشروں میں انسانیت کے درد کو اُس طرح پیش نظر نہیں رکھا جاتا، یا انسانوں کی تکالیف اور مشکلات کو اُس طرح حل نہیں کیا جاتا جیسے اکثر گورے ممالک یا گورے معاشروں میں کیا جاتا ہے اور یہی ہماری ایک خامی ہے جو ہماری بے شمار خوبیوں کو کھاجاتی ہے، ....خیر نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی پر آج یہ پانچواں کالم لکھتے ہوئے شاید غیر ضروری طورپر میں اس احساس ندامت میں مبتلاہوں مجھے اِن کالموں میں اِس سانحے کے شہداءپر بھی بات کرنی چاہیے تھی، اِن شہداءکے اُن لواحقین کا تذکرہ بھی کرنا چاہیے تھا جنہوں نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اِس صدمے کو برداشت کیا، کسی خونی رشتہ دار یا عزیز کا پردیس میں ہونا، چاہے وہ وہاں کتنی اچھی زندگی ہی کیوں نہ بسر کررہا ہو بذات خود ایک صدمے کا باعث ہی ہوتا ہے، اور اُس پر اگر وہ پردیس میں کسی تکلیف یا اذیت میں مبتلا ہو جائے، یا کسی وجہ سے اُس کی جان چلی جائے، جیسے نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی میں بے شمار لوگوں کی چلی گئی، یا وہ زخمی ہوگئے تو یہ صدمہ اُن کے عزیزوں یا خونی رشتہ داروں کے لیے بھی جان لیوا ہی ہوتا ہے، .... میں نے کئی بار لکھا مرنے والے بلکہ انتقال کرنے والے تو اپنے اُس رب کے پاس چلے جاتے ہیں جو خود یہ فرماتا ہے ”وہ اپنے بندوں سے ستر ماﺅں سے بڑھ کر پیارکرتا ہے“۔ اصل موت پیچھے رہ جانے والوں کی ہوتی ہے۔ ....ویسے میں اکثر یہ سوچتا ہوں ”موت“ مناسب لفظ نہیں ہے۔ اصل لفظ ”انتقال“ ہے ، انتقال کا مطلب ”منتقلی “ ہے، انسان مرتا نہیں، منتقل ہوتا ہے، احمد ندیم قاسمی مرحوم کا اس حوالے سے بڑا خوبصورت شعر ہے ۔”کون کہتا ہے موت آئی مرجاﺅں گا ....میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاﺅں گا“ ....یعنی دریا مرے گا نہیں سمندر میں منتقل ہوگا، قاسمی صاحب کی اجازت کے ساتھ ایک بار میں نے یہ شعر یوں کہا تھا ”کون کہتا ہے موت آتی ہے مرجاتے ہیں ....ہم تو بھٹکے ہوئے ہیں لوٹ کر گھر جاتے ہیں “ ....ہمارا اصل اور مستقل گھر ”آخرت“ ہے، بس یہ ہے کہ دنیا میں اگر کسی نے ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہونا ہے اُس کے لیے وہ کئی طرح کی تیاریاں کرتا ہے۔ حالانکہ اُسے پتہ ہوتا ہے یہ عارضی منتقلی ہے، اور جو مستقل منتقلی ہے، جو اگلے جہان کی منتقلی ہے اُس کے لیے کسی تیاری کا تصور وہ شاید اِس لیے نہیں کرتا وہ بدقسمتی سے اِس یقین میں مبتلا ہوچکا ہوتا ہے دنیا ایک ”مستقل قیام گاہ “ ہے۔ بس اِسی یقین کی وجہ سے اکثر اوقات وہ گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلے جاتا ہے .... میری دعا ہے اللہ ہم سب کو اِس یقین سے محروم کردے، ہم یہ سوچنے لگیں ہم نے ایک شہر سے یا ایک علاقے سے دوسرے میں سفر کرنا ہو یا منتقل ہونا ہو اُس کے لیے کتنی تیاری کرتے ہیں۔ بار بار چیک کرتے ہیں بار بار سوچتے ہیں کون کون سی چیز کون کون سا سامان ہم نے ساتھ لے کر جانا ہے۔ بعض اوقات ہم اضافی سامان ساتھ رکھ لیتے ہیں کہ شاید چند دن وہاں مزید قیام نہ کرنا پڑ جائے ۔ دوسری طرف سفر آخرت جہاں سے واپسی ناممکن ہے اُس کے لیے کسی سامان کی کسی تیاری کا ہم نے کبھی تصور تک نہیں کیا۔ یہ ”سامان “ صِرف اور صِرف”اعمال“ کی صورت میں ہی ساتھ جاسکتا ہے، اعمال اچھے ہوں گے تو یہ سامان ہمارے لیے راحت اور آسانیوں کا ہوگا۔ اعمال بُرے ہوں گے تو یقیناً یہ سامان ہمارے لیے اذیتوں اور تکلیفوں کا باعث ہی بنے گا۔ بُرے اعمال کی

حیثیت ایسی ہی ہوگی جیسے کپڑے ساتھ رکھنے کے بجائے ہم کنگھی ساتھ رکھ لیں جو ظاہر ہے پہنی نہیں جاسکتی۔ یا جوتے ساتھ رکھنے کے بجائے ہم منجن وغیرہ ساتھ رکھ لیں،.... جہاں تک نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں بے گناہ مسلمانوں یا انسانوں کی شہادت کا تعلق ہے اِس دُکھ کو پوری دنیا میں محسوس کیا گیا ہے۔ خصوصاً نیوزی لینڈ نے اِس حوالے سے کوئی فرق روا نہیں رکھا کہ شہیدہونے والوں کا تعلق کِس مذہب اور کِس معاشرے یا کِس ملک سے تھا۔ نیوزی لینڈ کی سوگواری نے اُلٹا ہمیں شرمندہ کردیا کہ اِس سانحے پر ہمارا کردار یا سارا غم وغصہ سوشل میڈیا تک محدود رہا۔ میں نے تو نہیں دیکھا کہ پاکستان میں اِس حوالے سے ریلیاں نکالی گئی ہوں، پاکستان میں مختلف حوالوں سے یا انسانیت کی خدمت کے نام پہ کروڑوں اربوں روپے یا ڈالرز کے فنڈز ہڑپ کرنے والی این جی اوز نے دہشت گردکی مذمت کی ہو یا اِس دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کی یاد میں کہیں دیئے روشن کیے ہوں دنیا کو ہم ایک بار پھر یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوگئے مسلمان کسی معاملے میں متحد نہیں ہوسکتے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کیا شاندار کردار کا مظاہرہ کیا جب اِس سانحے کے بعد امریکی صدر نے فون پر اظہارِ افسوس کیا تو اُس نے اُن سے کہا ”اگر آپ صحیح معنوں میں ہمارے ہمدرد ہیں تو دوبول اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بول دیں“ .... البتہ میں یہ بات نہیں بھُول سکتا اِس سانحے میں شہید ہونے والے پاکستانی میاں نعیم رشید نے دہشت گرد کے راستے میں اپنی جان کی دیوار کھڑی کرکے بے شمار جانوں کو بچانے کی جو کوشش کی اُس سے ہم جیسے بزدل اور کئی نام نہاد مسلمان بھی سرخروہوگئے ، وزیراعظم عمران خان نے شہید میاں نعیم رشید کے لیے قومی ایوارڈ کا اعلان کیا ہے، بڑے سے بڑا ایوارڈ بھی اُن کے جذبے اور قربانی سے بڑا نہیں ہوسکتا۔ میں تو یہ توقع کررہا تھا اِس بار یوم پاکستان کی اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں شہید میاں نعیم رشید کے کسی بھائی کسی بیٹے کسی خونی رشتہ دار کو اُس سٹیج پر ساتھ بٹھایا جائے گا جس پر صدر مملکت ، وزیراعظم، آرمی چیف اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد بیٹھے تھے، ایسا کرنے سے ہم دنیا کو یہ پیغام دیتے ہم اپنے ہیروز کی قدرکرتے ہیں۔ اور ”تبدیلی“ اب اِس حوالے سے بھی آگئی ہے ۔!!


ای پیپر