امید ہے کہ عدلیہ ماضی سے سبق حاصل کرے گی:وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی
04 اپریل 2018 (21:40) 2018-04-04

اسلام آباد ::وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سے مزید ملاقاتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ انصاف میں تاخیر ہو تو وہ انصاف نہیں کہلایا جاتا۔ امید ہے کہ عدلیہ ماضی سے سبق حاصل کرے گی ۔ وقت بتائے گا کہ کیا عدالت کو اختیار ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے قانون کو کالعدم قرار دے۔ قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے ۔ جس ووٹ کی خریدوفروخت ہوئی ہے ، وہ عزت کے قابل نہیں۔ اس بار ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی، پورا اصطبل ہی بک گیا ہے ۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد ان لوگوں کے نام بھی لے لوں گا جو فروخت ہوئے ہیں۔ سینیٹ انتخابات پر ڈرافٹ کے لیے وزیر قانون کو کہہ دیا ہے ۔ میں برملا کہتا ہوں کہ مجھے کوئی توقع نہیں کہ اس نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملے گا۔ پرویز مشرف تاریخ کا ”فٹ نوٹ“ ہیں۔ برملا کہتا ہوں کہ مجھے کوئی امید نہیں کہ نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملے گا۔

امریکی سفیر کا فیصلہ مجھ پر چھوڑا جائے، ہر فیصلے پر تنقید مناسب نہیں۔ نیو نیوز کے پروگرام ”نیوز ٹاک یشفین جمال کے ساتھ“ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات پر چہ میگوئیوں کی ضرورت نہیں۔ میں نے اسمبلی تقریر میں کہا تھا کہ کچھ مشکلات ہیں، اگر یہ مسائل رہیں گے تو پاکستان کے حالات خراب ہوں گے۔ اسی تناظر میں چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی۔ وہ ایک ادارے کے سربراہ ہیں، ان سے کھل کر بات کی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس سے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے ۔ مزید ملاقاتوں کی بھی ضرورت ہوئی تو ہوسکتی ہیں۔ ملاقات کے بعد مجھے بھی چیف جسٹس کی مشکلات کا اندازہ ہوا۔ انصاف میں تاخیر ہو تو وہ انصاف نہیں کہلایا جاتا۔ ماضی میں عدلیہ سے غلطیاں ہوئی ہیں، جن سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ، اُمید ہے ماضی سے سبق حاصل کیا جائے گا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اداروں کے درمیان تناﺅ پوری دنیا میں رہتا ہے ، لیکن وہاں یہ بریکنگ نیوز نہیں رہتا۔ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، اس لیے میں تناﺅ کا شکار نہیں ہوا۔

سینیٹ الیکشن اور چیئرمین سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جس ووٹ کی خریدوفروخت ہوئی ہے ، وہ عزت کے قابل نہیں۔ جو لوگ اس کے نتیجے میں ایوانوں کے اندر پہنچے ہیں، ان کا مقابلہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ جب لینے اور دینے والا راضی ہو تو اس کے ثبوت نہیں چھوڑے جاتے۔ کئی جماعتوں نے خود کہا کہ ہمارے ارکان خریدے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے اسفندیار ولی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی، پورا اصطبل ہی بک گیا ہے ۔ وزیراعظم نے واضح کہا کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد ان لوگوں کے نام بھی لے لوں گا جو فروخت ہوئے ہیں۔ ”اس عدم اعتماد کا حل کیا ہے ؟“ اس سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کا طریق کار طے کیا جاسکتا ہے کہ جن پارٹیوں کے جتنے ارکان ہیں، ان کی بنیاد پر ہی سینیٹ کی نشستیں رکھی جائیں، خریدوفروخت کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ میں نے وزیر قانون کو کہہ دیا ہے کہ اس پر کام کریں اور قانون سازی کے لیے پیش کریں۔

پیپلز پارٹی کے احتجاج سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس دن آصف علی زرداری اور عمران خان پریس کانفرنس کریں اور یہ حلفیہ بیان دیں کہ ہم نے ووٹ خریدا ہے نہ بیچا ہے ، میں چیئرمین سینیٹ اور الیکشن سے متعلق اپنا بیان واپس لے لوں گا۔ نگران سیٹ اپ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ غیرمتنازع شخص کو آنا چاہیے۔ پچھلے نگران وزیراعظم پر بھی درست فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔ ہماری خواہش ہے کہ سیاسی شخص ہی آئے، جس کا ماضی صاف شفاف ہو، میں اس کے لیے پرامید ہوں۔ خورشید شاہ تک کا معاملہ ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ حکومت کے خاتمے پر ن لیگ میں تقسیم درتقسیم سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے مخالفین پچھلے تین سالوں سے یہی کہتے نظر آرہے ہیں، لیکن ہم اب تک متحد ہیں۔ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ ن چھوڑجائیںگے، اس سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار علی خان اور میں پارٹی چھوڑکر کہاں جائیں گے؟ شکوے اپنوں سے ہوتے ہیں، امید ہے دور ہوجائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیب کا کوئی کیس ایسا نہیں ہے جس میں مہینے کے اندر پیشی ہوتی ہو، یہاں روز پیشیاں ہورہی ہیں۔کوئی شہادت ایسی نہیں جس پر اسے حقیقت مان لیا جائے۔ میں برملا کہتا ہوں کہ مجھے کوئی توقع نہیں کہ اس نیب عدالت سے نواز شریف کو انصاف ملے گا۔ پرویز مشرف تاریخ کا ایک ”فٹ نوٹ“ ہیں، ان کی کوئی حیثیت پہلے تھی نہ اب ہے ۔ پرویز مشرف میں ہمت ہے تو وہاں یہاں آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ کشمیر میں ہونے والے ظلم کی تازہ لہر پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی شکایات دور کریں گے، ہم نے ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی سطح پر انہیں سپورٹ کیا ہے ، اس پر ہمارا اصولی موقف ہے اور اسی پر قائم ہیں۔ امریکا میں سفیر کی نامزدگی اور تعیناتی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ مجھ پر چھوڑدیا جائے اور مجھ سے نتائج لیے جائیں۔ یہ کون سا شخص فائدہ مند ہوسکتا ہے ، یہ میرا کام ہے ۔ ہر فیصلے پر تنقید کرنا مناسب نہیں، اگر اپنے ملک میں ہی فیصلوں کو متنازع بنادیں گے تو باہر بھی عزت کم ہوتی ہے ۔


ای پیپر