میاں محمود الرشید نے غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھ دیا

04 اپریل 2018 (20:22)

لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید نے حکومتی دعوﺅں کے برعکس ملک بھر میں جاری اعلانیہ اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھ دیا، خط کے پہلے حصے میں لوڈشیڈنگ کے حکومتی دعوﺅں سے متعلق لکھا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے انتخابی منشور اور عوامی اجتماعات میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا، بعد ازاں کبھی6 مہینے پھر سال اور بالآخر دسمبر2017ءمیں ملک کو لوڈشیڈنگ فری قرار دیدیا ۔ حکومتی اعلان میں کہا گیا تھا کہ پنجاب میں لوڈ شیڈنگ مکمل ختم جبکہ باقی ماندہ3 صوبوں کے زیادہ ترعلاقوں میں لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی، حکومت نے ملک کے مزید 4ہزار 971فیڈزر کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ کیا دستاویزات کے مطابق ان میں 83.4 فیصد فیڈرز صرف پنجاب کے ہیں۔ دستاویز کے مطابق باقی ماندہ پورے ملک کے صرف 16.6فیصد فیڈرز کو شامل کیا گیا ہے سندھ 4.1فیصد،کے پی 5فیصداور کوئٹہ کے 1.22فیصد فیڈرز کا اضافہ کیا گیا۔ پنجاب کے مزید 4ہزار 128فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے مکمل مستثنیٰ قراردیا گیا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی بڑے شہروں کے علاوہ جنوبی پنجاب کے متعدد شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ قابو سے باہر ہو رہی ہے، کئی علاقوں کے عوام کو 16 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے جبکہ شہر لاہور میں اورنج ٹرین منصوبے کا عذر بتا کر ہر ہفتے ایک دن کیلئے صبح9بجے سے سہ پہر تین بجے تک شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا ہے، لوڈشیڈنگ جہاں آپ کے دعوﺅں کی نفی کرتی ہے وہیں کاروباری زندگی اور گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں.

گرمی کے موسم میں طلبہ کے جب مختلف درجوں کے امتحانات جاری ہیں ایسے میں قوم کے معمار بھی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ مہنگے ٹیرف اور بلوں میں اضافی ٹیکسوں سے شہری دہری اذیت سے گزر رہے ہیں، ایسے میں لوگ نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہو رہے ہیں اور کئی شہروں میں عوام نے احتجاج کا بھی سلسلہ شروع کر رکھا ہے، ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں نمایاں فرق ہے، معاملے کو حل نہ کیا گیا تو شہر میں امن و امان کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ خط کے دوسرے حصے میں وزیراعلیٰ پنجاب سے سوال کیا گیا ہے کہ اگر آپ نے بجلی کے چھوٹے کارخانے یا پاور پلانٹس لگائے ہیں اور وہ مکمل فعال ہیں تو بجلی کی طلب اور رسد میں اتنا فرق کیوں ہے اور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ کیوں جاری ہے۔ خط کے تیسرے مرحلے میں حکومت پنجاب کی جانب سے جاری اور مکمل بجلی منصوبوں کی تفصیلات پبلک کرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عوام کو درست اعداد و شمار بتائے جائیں گمراہ نہ کیا جائے اور برائے کرم ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے اعلان پر قوم سے معافی مانگیں اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ انرجی منصوبوں میں ہونیوالی مالی بے ضابطگیوں پر عدالتی کمیشن تشکیل دیکر تحقیقات کرائی جائیں۔

مزیدخبریں