پاکستان کیخلاف محدود جنگ / بھارت کے نزدیک واحد آپشن
04 اپریل 2018

بھارت کے پاس مقبوضہ کشمیر میں وہاں کے عوام کے اندر سے جنم لینے والی اور اس وقت نقطۂ عروج کو پہنچی ہوئی تحریک آزادی سے نبرد آزما ہونے کے لیے فوجی طاقت کے اندھا دھند اور انتہائی ظالمانہ استعمال کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رہی۔۔۔ سیاسی نہ عوامی۔۔۔ یہ امر دنیا کی ہر استعماری اور قابض قوت کی شکست کی سب سے بڑی دلیل بن جاتا ہے۔۔۔ بھارت نے بار بار اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے اور دنیا کو باور کرانے کے لیے کہ یہ خالصتاً جمہوری اور لوگوں کی خواہشات یا مرضی کا آئینہ دار عمل ہے انتخابات کرائے کسی نے انہیں آزادانہ رائے شماری کے نعم البدل کے طو رپر قبول نہیں کیا۔۔۔ جس سیاسی اور نام نہاد جمہوری عمل کو بھارت مقبوضہ وادی کے اندر 1953ء سے لے کر آج تک رائج کرتا چلا آ رہا ہے اسے ہمیشہ وہاں کے عوام کی بھاری اکثریت نے یہ واضح مؤقف اختیار کر کے مسترد کر دیا کہ بھارت کی اصل ذمہ داری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت رائے شماری کا انعقاد ہے جن پر ایک فریق کی حیثیت سے بھارت کے دستخط ہیں اور جن قرار دادوں پر من و عن عمل پیرا ہونے کی یقین دہانی پنڈت نہرو سلامتی کونسل کے اجلاس میں باقاعدہ اور قطعی الفاظ میں کرا کر نئی دہلی واپس لوٹے تھے ۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اپنے حق خود ارادی کی ضامن ان قرار دادوں کو حرز جاں بنائے ہوئے ہیں اور پے در پے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر رہے ہیں۔۔۔ برہان الدین وانی جو خالصتاً فرزند زمین تھا۔۔۔ کسی معنی میں دہشت گرد نہیں تھا۔۔۔ اپنے وطن کی آزادی کے جائز ترین حق کے حصول کے لیے برسر پیکار تھا۔۔۔ نوجوانوں میں مقبول تھا۔۔۔ وادی سے باہر کسی تنظیم سے اس کا تعلق نہیں تھا۔۔۔ 2016ء میں بھارتی فوج کی بے تحاشا گولیوں کا نشانہ بن کر اس نے جام شہادت نوش کیا تو مقبوضہ علاقے کا بچہ بچہ برہان الدین وانی بن گیا۔۔۔ استبدادی قوت کو تقریباً چھ ماہ تک کرفیو نافذ کرنا پڑا۔۔۔ لیکن وہاں کے جوانوں کیا بچوں اور بوڑھوں، عورتوں یہاں تک کہ مریضوں نے بھی پورے عزم و ارادے اور استقامت کے ساتھ کرفیو کی غیر انسانی پابندیوں اور غیر انسانی ریاستی جبر کا مقابلہ کیا۔۔۔ جھکے نہیں کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی۔۔۔ ان واقعات نے ثابت کر دیا وادی میں جاری تحریکِ آزادی کے جائز ترین حق کے حصول کے لیے خارج سے نہیں بلکہ مسلسل اپنے نہتے عوام کے اندر سے طاقت اور قوت حاصل کر رہی ہے۔۔۔ یہ قوت جائز ترین مزاحمت کی ہے۔۔۔ اصولی اور اخلاقی بھی۔۔۔اقوام متحدہ کا منشور بھی اس کی توثیق کرتا ہے۔ لیکن بھارت کا المیہ یہ ہے بدلے میں وہاں کے عوام کو کونسا متبادل نظام پیش کرے۔۔۔ جو اس کے پاس نہیں ہے۔۔۔ 1953ء سے لے کر آج فوجی طاقت کے بے محابا استعمال نے بھارت کے ناجائز قبضے کو تو جاری رکھا ہے لیکن تحریک مزاحمت بھی اس تناسب کے ساتھ کہیں زیادہ فروغ پا چکی ہے۔۔۔ جو سیاسی اور انتخابی ہتھکنڈے بھارت کی مختلف سرکاروں نے اب تک آزمائے ہیں سب کے سب عوام اور ان کی حقیقی سیاسی و عوامی قیادت کے اندر اپنی قدر و قیمت یا وقعت کھو بیٹھے ہیں۔۔۔ طاقت کا استعمال ایک استبدادی اور قابض طاقت کے لیے جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں آسان ترین کام ہے۔۔۔ لیکن کب تلک! یہ وہ سوال ہے جو نہ صرف اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور او آئی سی سمیت عالمی سطح پر اٹھنا شروع ہو گیا ہے بلکہ بھارت کے اندر آزاد خیال سیاستدانوں، دانشوروں کے ایک طبقے یہاں تک میڈیا کے اندر بھی کھل کر اظہار رائے کرنے والوں کے درمیان زیر بحث ہے۔۔۔
گزشتہ روز بھارتی فوج کی گولیوں کی بوچھاڑ نے شوپیاں اور اننت ناگ جیسے آزادی کے داخلی مراکز کے اندر بیس کے قریب فرزندان کشمیر کو تہ تیغ کر دیا۔۔۔ یہ آن واحد میں عالمی سطح پر بڑی خبر بن گئی۔۔۔ اگرچہ امریکہ اور یورپ کی طاقتور حکومتیں اپنے اپنے وقتی مفادات کے تحت آج بھی بھارتی مظالم پر خاموش ہیں۔۔۔ مودی سرکار کو تھپکی بھی دی جا رہی ہے۔۔۔ لیکن اگر بھارتی فوج اور ریاست اس واحد آپشن کا مسلسل استعمال کرتی رہی۔۔۔ بے گناہ لوگ مرتے رہے، لاشیں گرتی اور تڑپتی رہیں۔۔۔ خون کی ندیاں بہتی رہیں تو عالمی ضمیر کب تک سویا رہے گا۔۔۔ عالمی ضمیر تو بعد کی بات ہے گزشتہ برس بھارت کی سب سے بڑی اور بھارتی دانش کا سب سے بڑا اور مؤثر مرکز سمجھے جانے والی جواہر لال یونیورسٹی (JENU) کے سیمینار میں وہاں کی منتخب طلبہ یونین کے عہدیداروں کی سرپرستی میں کشمیر کی آزادی کے حق میں جس طرح نعرے بلند کیے گئے
اور اس کے ساتھ ہی وہاں سے اٹھنے والی لہر نے جنوب میں حیدر آباد دکن اور دیگر کئی یونیورسٹیوں کے غیر مسلم طلبہ کے جذبات کو بھی انگیخت دے دی۔ یہ امر بھارتی حکمرانوں اور ان کے ناجائز فوجی قبضہ کی حمایت میں صبح و شام دلائل دینے والوں کے لیے بھی حیرت اور تعجب کا باعث تھا۔۔۔ اس لہر کو اکھاڑ پھینکے کے لیے مودی سرکار کو جو پاپڑ بیلنا پڑے ان سے بھارت کا ہر صاحب نظر واقف ہے۔۔۔ بھار ت کا ایک اور المیہ بھی ہے اس وقت اس کی فوج کی سات لاکھ پر مشتمل افسروں اور جوانوں کی افرادی قوت بھی مقبوضہ کشمیر کے اندر تحریک آزادی کو کچل کر رکھ دینے کے لیے متعین اور برسر عمل ہے۔۔۔ لیکن امن قائم نہیں ہو رہا ۔۔۔ آزادی کے شعلے بجھ نہیں پا رہے ان کی حدت اور شدت میں کہیں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔ بھارت مزید فوجی طاقت کہاں سے لائے۔۔۔ اگر دوسرے مقامات سے ہٹا کر دو تین یا چار مزید بریگیڈ بھی وادی کے اندر متعین کر دیئے جائیں تو ملک کی داخلی سلامتی کا نظام متاثر ہوتا ہے۔۔۔ شمال مشرقی ریاستوں میں جاری آزادی کی تحریکوں سے نمٹنا ہے۔۔۔ چین کے ساتھ ملحق سرحد پر ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔۔۔ پاکستان کے ساتھ جو لمبا بارڈر ہے اس پر صبح شام چوکسی ہوتی ہے اور وسطی و شمالی اور جنوبی بھارت کے وسیع و عریض اور گنجان آبادی والے علاقوں میں چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینا ہوتی ہے۔۔۔ دوسرے الفاظ میں بھارت کی پوری کی پوری فوج داخلی اور چاروں طرف وسیع و عریض سرحدوں کے انتظام و انصرام میں کھپی ہوئی ہے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج کی تعیناتی کسی بھی علاقے سے زیادہ ہے اگر مزید فوجی قوت وہاں لائی جاتی ہے تولامحالہ دوسرے علاقوں کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔۔۔ بھارتی معیشت بہت بڑی اور بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود زیادہ فوج بھرتی کرنے اور اس میں غیرمعمولی اضافہ کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی جبکہ حالات مسلسل گواہی دے رہے ہیں کہ سات لاکھ فوج سے کشمیر کی تحریک آزادی سنبھالی نہیں جا رہی۔
دریں حالات بھارت کی مودی سرکار کے پاس صرف ایک آپشن باقی رہ گیا ہے ، وہ ہے پاکستان کے ساتھ محدود جنگ جس کے ذریعے وہاں خیال کیا جا رہا ہے مقبوضہ وادی کے عوام کو بھی پیغام دیا جا سکتا ہے کہ خطہ ارض پر اگر تمہارا ایک حامی باقی رہ گیا ہے اس پر بھی ہم جنگ مسلط کر کے دبا سکتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہیں رہے گی نہ کوئی اخلاقی طور پر مونس و مددگار رہے گا۔۔۔ دوسری جانب بھارتی حکمرانوں کی سوچ کے مطابق پاکستان کو یہ بتانا مقصود ہے کشمیر پر ہمارے قبضے کو تسلیم کر لو بصورت دیگر ہر دم جنگ کی آزمائش میں پڑے رہنے کے لیے تیار رہو، تیسری جانب 2019ء کے عام بھارتی انتخابات قریب آن پہنچے ہیں۔۔۔ برسراقتدار جماعت بی جے پی کی مودی حکومت نے 2014ء سے لے کر اب تک جتنے مرکزی اور ریاستی چناؤ میں کامیابی حاصل کی ہے اسے پاکستان دشمنی کی فضا کو مزید گرم کر کے اور خاص طور پر شمالی بھارت میں جسے گائے کی پٹی بھی کہا جاتا ہے ہندو اکثریت کو اشتعال دلا کر یہاں تک ہندو مسلم فسادات برپا کر کے ممکن بنایا گیا ہے۔۔۔ 2002ء میں ریاست گجرات کے اندر جس وقت مودی صاحب وزیراعلیٰ تھے خون مسلم کے ساتھ ہولی کھیل کر اور وہاں کی کلمہ گو آبادی کے دو ہزار سے زائد بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار کر قصاب لیڈر کی سی عالمی شہرت حاصل کی تھی۔۔۔ تب امریکہ نے انہیں ویزہ دینے سے بھی انکار کر دیالیکن انہی فسادات کی بدولت نریندر جی کو ملک کی ہندو اکثریتی آبادی میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ انہیں 2014ء کے انتخابات میں بھارت گیر کامیابی دلا کر وزارت عظمیٰ کے منصب تک لے گئی۔۔۔ 2016ء میں یو پی کی سب سے بڑی ریاست کے چناؤ میں ان کی جماعت کی غیرمعمولی کامیابی کی ایک وجہ مظفر نگر کے فسادات اور دوسرا سبب لائن آف کنٹرول پر نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا ڈھونگ بتایا جاتا ہے جس کا بھارت کے اندر خوب خوب پراپیگنڈا کیا گیا حالانکہ یہ صحیح معنوں میں سرجیکل سٹرائیک نہ تھی بلکہ سرحدی جھڑپ تھی جس میں بھارتی فوجی بھی برابر کی تعداد میں ہلاک ہوئے۔۔۔ اب جو 2019ء کے عام بھارتی انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں تو مودی صاحب اور ان کی بی جے پی سرکار کے پاس بھارتی عوام کے پاس لے کر جانے کے لئے اس کے علاوہ کوئی نعرہ نہیں کہ ہم نے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی ہے۔۔۔ اسی لیے کشمیر کے اندر ظلم وسفاکیت کا محاذ گرم کیا جا رہا ہے تاکہ اسے بہانہ بنا کر جارحانہ قومی اقدام کیا جا سکے۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی قوم اس کی سیاسی و عسکری قیادت بھارتی عزائم سے پوری طرح باخبر ہے وہ اس کے منفی اور جنگی ارادوں کا کماحقہ‘ ادراک رکھتی ہے اور ہر لمحہ ہر چیلنج کا پوری طرح سامنا کرنے کے لیے تیار اور ہماری مسلح افواج پوری طرح چوکس ہیں۔۔۔ بھارت ہم پر محدود پیمانے کی جنگ جسے سرجیکل سٹرائیک بھی کہا جاتا ہے مسلط کرنے کا کافی عرصے سے خواب دیکھ رہا ہے۔۔۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت بھی بلاشبہ اس کی ہر ہر چال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔۔۔ پاکستان کے نزدیک مار کرنے والے النصر میزائل بھی اس کے فوجی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ بھارت کے لیے ایسی کوئی حرکت کرنا آسان نہیں ہو گا۔۔۔ اس کے باوجود ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو دبانے اور داخلی انتخابی سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھارت کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی راہ عمل بھی نہیں خواہ محدود درجے کی ہو۔۔۔ ہمیں اس کے بارے میں ہر وقت چوکس اور چوکنا رہنا ہو گا۔۔۔ بھارت نے نہتے کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اس محاذ کو اس لیے بھی گرم کیا ہے کہ پاکستان ایک داخلی جمہوری بحران سے دوچار ہے، ہماری سول اور منتخب حکومت پہلے کے مقابلے میں کمزور ہے اور 2018ء کے عام انتخابات بھی سر پر کھڑے ہیں۔۔۔ لوگوں کی توجہات اس جانب مبذول ہیں۔۔۔ لیکن بھارتی حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سب کے باوجود پاکستان کے بہادر اور حوصلہ مند عوام ،اس کی جملہ سیاسی قیادت اور ہر قسم کے چیلنج کا سامنا کرنے والی فوج اس کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔۔۔ اسے کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔۔۔ اس سب کے باوجود ہم پر بھی فرض ہے کہ وقت کی نزاکت کا پوری طرح ادراک و احساس کریں۔۔۔ دشمن کی حرکات سے کسی طور بے خبر نہ رہیں۔۔۔ پوری عالمی برادری کو اس کے مذموم ارادوں اور جنگی تیاریوں سے آگاہ رکھیں۔۔۔ تاکہ بھارتیوں کو بھی پیغام مل جائے کہ پاکستان کے ساتھ چھیڑخانی الٹے نتائج (Counter Productive) کی حامل بھی ہو سکتی ہے۔ کل بروز بدھ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں سینئر وفاقی وزراء اور مسلح افواج کے سربراہوں نے شرکت کی۔ امیدواثق ہے کہ اس اہم اجلاس میں بھارتی حکمرانوں کی جارحانہ سوچ اور پالیسیوں کے تمام پہلو زیربحث آئے ہوں گے اور اس سلسلے میں تمام ترجیحات پر غور ہوا ہو گا۔


ای پیپر