سچ بیانی
04 اپریل 2018 2018-04-04

وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک حقیقت پسند عملی دنیا میں رہنے والے سیاستدان ہیں۔اگرایسا نہ ہوتا تو وہ بتدریج زینہ بہ زینہ ایوان اقتدار کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے صوبے کے اعلیٰ ترین منصب تک نہ پہنچ پاتے۔ خیبر پختونخوا کے آزمودہ سیاستدان بھی دیگر صوبوں کی طرح ہواؤں کا رخ پہچانتے ہیں۔وہ انقلاب کی باتیں ضرور کرتے ہیں۔لیکن صرف اس وقت جب آئندہ عام الیکشن میں ٹکٹ درکار ہوتا ہے۔پرویز خٹک بھی تبدیلی کے بہت بڑے حمایتی ہیں۔اور سٹیٹس کو کے سخت مخالف۔ان کی سیاسی زندگی تو یہی ثابت کرتی ہے ضلع کونسل کی سیٹ جیتنے سے لے کر وزارت اعلیٰ تک ساری سیاسی زندگی گواہ ہے کہ انہوں نے تبدیلی کیلئے ہر بار پارٹی تبدیل کی ہے اور سٹیٹس کو کا بت توڑنے کیلئے ہر مرتبہ اپنے حجرے پر نیا پرچم لہرا یا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سٹیٹس کو بہت چالاک اور زمانہ شناس ہے۔ ان سے پہلے ہی وہ اپنی پارٹی بدل چکا ہوتا ہے۔خیر بندہ بشرسے غلطی ہو جاتی ہے۔بندے کا کام کوشش کرنا ہے۔سوموار کے روز تبدیلی کے بیس کیمپ خیبر پختونخوا صوبہ کے چیف منسٹر جناب پرویز خٹک کا انٹر ویو شائع ہوا۔صفحہ اول پر مختصر چنیدہ اقتباسات کی شکل میں لیکن اخبارکے فیصلہ سازوں نے کمال کیا۔ اس انٹر ویو کو اشاعت خاص کا درجہ دے کر اسے خصوصی رنگین ایڈیشن میں شائع کیا۔پروفیشنل ازم اسی کو کہتے ہیں۔کمال جرأت کا مظاہرہ تو چیف منسٹر نے بھی کیا۔ ایسے گروپ کے اخبار کو تفصیلی انٹر ویو دیا جس کو قائد تبدیلی ملک دشمن قرار دے چکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اسی گروپ کا بائیکاٹ ہے۔بائیکاٹ بھی ایسا کہ قائد محتر م کی پیشانی پر نا م سن کر ہی شکنیں پڑ جاتی ہیں۔اب یہ معلوم نہیں کہ قائد تبدیلی نے اپنے چیف منسٹر کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کوئی سزا کی تجویز پیش کی ہے یا نہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے اس اکلوتے چیف منسٹر کو خصوصی رعایت دیتے ہوئے عارضی طور پر پابندی اٹھا لی ہو۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قائد کو ڈسپلن کی اتنی شدید خلاف ورزی کا علم ہی نہ ہو۔ایک پہلو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پابندی صرف کارکنوں کیلئے ہو۔چیف منسٹر ارکان قومی اسمبلی وسینیٹرز کیلئے خصوصی استثنیٰ ہو۔ایک تجربہ تو اس خاکسار کو بھی ہے۔ایک نجی چینل کیلئے کام کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایم این اے کو شو میں بلایا۔ تھوڑی دیر بعد مرکزی سیکرٹریٹ سے تحکمانہ لہجے میں براستہ فون انکو ائری شروع ہو گئی آپ نے ایم این اے کو کیسے بلا لیا۔عرض کیا کہ یہ بات اپنے نمائندے سے پوچھئے! بتایا گیا کہ ہماری نامزدگی کے بغیر کوئی بندہ پروگرام میں نہیں جا سکتا۔پھر حکم ملا کہ اس
بندے کو واپس بھیجیں نیا بندہ ہم بھیجیں گے۔تب تک تحمل کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔صحافیانہ لب و لہجے میں جواب دیا تو نا معلوم موصوف فون بند کر گئے۔سو اب دیکھتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر کی میزبانی پر مامور صوبے کے چیف منسٹر کو عام معافی ملتی ہے یا نہیں، تادیبی کارروائی ہوتی ہے کہ نہیں۔ ورنہ بد خواہ سمجھیں گے کہ اتوں رولا پائی جا،و چوں چوری کھائی جا والا معاملہ ہے۔ایسا ہی معاملہ اس سے پہلے بھی پیش آیا۔مذکورہ سب سے بڑے گروپ کو ملنے والے اشتہارات کا معاملہ اعلیٰ عدالتی فورم پر اٹھایا گیا۔الزام تھا کہ مسلم لیگ (ن) سب سے زیادہ بزنس اسی گروپ کو دیتی ہے۔ پی ٹی آئی نے بھی اس معاملہ کو خوب ہوا دی۔قائد تبدیلی نے بھی اس مہم میں حصہ بقدر جثہ ڈالا۔جلسوں میں فدا ئین کو بتایا جاتا کہ گروپ کی ہمدردیاں پیسے کے زور پر خرید لی گئی ہیں۔ایک روز گروپ کا مالک عدالت میں پیش ہوا۔اعدادوشمار کا گوشوارہ پیش کیا۔عقدہ کھلا کہ سب سے زیادہ بزنس کے پی کے حکومت نے گروپ مذکورہ کو دیا۔تب سے اس مقدمہ کے باب میں مکمل خاموشی ہے۔خیر بات کسی اور جانب نکل گئی۔پرویز خٹک کا تجزیہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جڑیں پنجاب میں بہت گہری ہیں۔ان کو پنجاب میں ہرانا بہت مشکل ہے۔ایسی ہی بات پرویز خٹک نے کچھ عرصہ پہلے پارٹی کے تنظیمی اجلاس میں بھی کی تھی۔ان کا مؤقف تھا کہ عمران خان کے ارد گرد عناصر کو سیاست کی الف ب کا بھی نہیں پتا۔ان کو عملی سیاست کے تقاضوں سے ناآشنائی ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ وہ قائد کا نام استعمال کر کے کس کو سنا رہے تھے۔پنجابی کا محاورہ ہے کہ کہنی بیٹی کو اور سنانی بہو کو۔کیا معلوم مخاطب براہ راست خود قائد کی ذات ہو۔پرویز خٹک سیاست میں نوارد ہیں نہ سپنوں کی دنیا میں رہنے والے کوئی مثالیت پسند۔وہ انتہائی دولت مند خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود عوامی آدمی ہیں۔جس کو معلوم ہے کہ الیکشن لڑنے اور اس کو جیتنے کیلئے گلیوں میں اڑتی دھول پھانکنی پڑتی ہے۔وہ بھی بغیر پانی کے۔پیدل چل کر ووٹر کے دروازے پر ووٹ کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔اور اگر ووٹ مانگنے والے صاحب اقتدار ہو ں تو اس کوعرصہ اقتدار کے شب و روز کا حساب دینا پڑتا ہے۔ووٹر جو بظاہر سادہ اطوار، بھولا بھالا، نیم ان پڑھ، لا تعلق نظر آتا ہے۔لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوتا، اس کی خاموشی ہی سب سے بڑا رد عمل ہوا کرتی ہے۔اگرچہ قائد محترم کی تبدیلی کی نقیب جماعت تو سمجھتی ہے کہ ووٹر بریانی کی پلیٹ پر فیصلہ کرتا ہے۔قیمہ والے نان اس کے من کو بھاتے ہیں۔لیکن ایسا ہر گز نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو پھر اسمبلیوں میں سیاسی کارکنوں کی بجائے سیٹھوں کی بھر مار ہوتی۔ووٹر جلسوں میں بھی حاضر ہوتا ہے۔کرسیاں بھی لگاتا ہے۔ٹینٹ نصب کرنے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔تالیاں بجاتا،نعرے لگاتا ہے۔جلسوں میں دھمال ڈالتا ہے۔لیکن وہ سرکس میں جادو کا مظاہرہ کرنے والے شعبدہ باز کی مانند ہوتا ہے۔وہ کہتا کچھ ہے کرتا کچھ اور ہے۔وہ میوزک،ترانوں،ناچ گانے سے دل بہلاتا ہے۔لیکن فیصلہ اس بنیاد پر نہیں کرتا۔وہ بس خاموش رہتا ہے۔وقت کا انتظار کرتا ہے پانچ سال بعد آئینی مدت کے خاتمے کا۔جب دوبارہ سیاسی جماعتیں اپنا نمائندہ اس کے پاس بھیجتی ہیں اپنا انتخابی نشان دے کر۔پھر وہ پورا پورا حساب لیتا ہے۔ایک سخت گیرممتحن کی مانند۔کیونکہ نصاب تو ایک ہی تھا۔اب پرفارمنس کی رپورٹ کا وقت آتا ہے۔پانچ سالوں میں کیا کارکردگی دکھائی۔پرویز خٹک کی سچ بیانی الارم کی گھنٹی ہے۔سینیٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی آصف زرداری کے ہاتھوں بولڈ ہو چکی۔اب عام انتخابات آنے والے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ نتیجہ توقعات کے بر عکس نکلے۔اور کسی کو نہیں تو اپنے چیف منسٹر کو سن لی جائے تو افاقہ ہو گا۔


ای پیپر