کشمیر میں قتل عام بند کرو
04 اپریل 2018

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی حکمران نوجوانوں کی بغاوت کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہے ہیں۔ بھارتی قابض افواج نے مودی سرکار کی پالیسی کے تحت وادئ کشمیر کو نوجوانوں کی قتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے۔ گزشتہ دودنوں میں 20سے زائد نوجوانوں کو اننت ناگ اور شوپیاں کے اضلاع میں شہید کیا جاچکا ہے۔ بھارتی قابض افواج یہ سب کچھ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد کارروائی کے نام پر کررہی ہیں۔
اسی دوران چار نوجوانوں کو پولیس نے فائرنگ کرکے شہید کردیا جب وہ سڑکوں پر اس قتل عام کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔وحشیانہ ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف ہزاروں افراد نے سڑکوں پر احتجاج کیا اور بھارتی قبضے کے خلاف نعرے لگائے۔ پولیس اور دیگر مسلح دستے احتجاج کو روکنے کے لیے گولیوں، لاٹھیوں، پیلٹ گن اور آنسوگیس کا اندھا دھند استعمال کررہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد اور خاص طورپر نوجوان زخمی ہوچکے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے طلباء کے سری نگر میں احتجاج کے بعد تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔ کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے بھی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے سڑکوں پر ہرطرف پولیس، بارڈر سکیورٹی فورس اور فوج کے مسلح دستے احتجاج کوروکنے کیلیے موجود ہیں مگر اس کے باوجود احتجاج جاری ہے۔ 2017ء میں 200سے زائد نوجوانوں کو عسکریت پسند اور دہشت گرد قرار دے کر شہید کردیا گیا۔ جبکہ 2018ء کے ابتدائی تین ماہ میں اب تک 51نوجوانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔
مغربی طاقتیں اور نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی بن کر اس قتل عام کو دیکھ رہی ہیں۔ بھارتی قابض افواج کی جانب سے مسلسل وسیع پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ مذمت کے روایتی بیانات بھی سامنے نہیں آرہے۔ اس خاموشی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی حقوق، جمہوریت، انصاف ، برابری اور انسانی عظمت کے گن گانے والی فوجی طاقتیں بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کو انسانی حقوق سے زیادہ اپنے کاروباری اور تجارتی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ وہ بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور مالیاتی تعلقات کو بڑھانا چاہتے ہیں اس لیے وہ خاموش ہیں۔ ان کی بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو بھارتی منڈی تک رسائی چاہیے۔ ان کو اپنے منافعوں سے غرض ہے اس لیے انہیں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور قتل عام نظر نہیں ائے گا۔
اقوام متحدہ یورپی یونین اور مغربی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ریاستی جبر ، ظلم اور طاقت کے استعمال کو نظرانداز کررہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسرائیل اور بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ریاستی دہشت گردی کا حق حاصل ہے۔ ان کے پاس لوگوں کو مارنے کا لائسنس موجود ہے کہ وہ جب چاہیں نہتے اور بے گناہ لوگوں پر اپنی طاقت آزمائیں۔
بھارتی فوج کو افسپا (Afspa)آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت لامحدود اختیارات اور استثنا ء حاصل ہے۔ ان لامحدود اختیارات اورکسی قسم کے احتساب اور جواب دہی سے آزادی نے بھارتی فوجیوں اور پولیس کو ریاستی طاقت اور جبر کے استعمال کی کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔ ان کو تشدد، ظلم وجبر اور ریاستی طاقت کے استعمال کی مکمل آزادی ہے۔ اس مکمل آزادی اور کھلی چھٹی کی بدولت کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے اور اس ظلم وجبر کے خلاف غصہ اور نفرت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بھارتی حکمران اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کشمیری عوام آزادی، عزت، جمہوری اور انسانی حقوق اور انصاف چاہتے ہیں۔ وہ بھارتی غلامی اور قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ آزادی کی فضاء میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی تقدیر اور قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی منزل اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق مانگ رہے ہیں۔ وہ قومی آزادی کے اس حق اور اصول کی مانگ کررہے ہیں جس کے تحت بھارت اور پاکستان کو گوروں سے آزادی ملی۔ امریکہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ اسی اصول کے تحت لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کی محکوم اور غلام قوموں نے سامراجی قبضے اور تسلط سے نجات حاصل کی۔ کشمیری دہشت گرد نہیں ہیں جیسا کہ بھارتی حکومت پروپیگنڈا کررہی ہے بلکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قانونی حق کے لیے لڑرہے ہیں۔
بھارتی حکمران طاقت اور برتری کے نشے میں دھت ہوکر مسلسل ناانصافی ، ظلم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی فصل بورہے ہیں۔ اگر کوئی قانونی اور جائز حکمران بھی محض طاقت کے زورپر ظلم وناانصافی اور سفاکیت کے زور پر اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف بھی نفرت غصہ اور مزاحمت جنم لے گی۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے۔ بھارت کو کشمیری ایک غاصب طاقت سمجھتے ہیں جس نے زبردستی 70سالوں سے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے اور دوسری طرف یہ قابض طاقت لوگوں پر جبر، سفاکیت اور انسانیت سوز سلوک کے ذریعے مسلط رہنا چاہتی ہے اور یہ توقع کرتی ہے کہ لوگ اس کے ظلم وستم ، سفاکیت اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔ اس ظلم وناانصافی کے خلاف مزاحمت نہ کریں۔ اپنی آزادی اور مستقبل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔ بھارتی غلامی کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کرلیں۔ ایسا تو ممکن نہیں ہے۔ جبر اور ظلم کی حکمرانی کے خلاف ردعمل اور مزاحمت فطری عمل ہے اور جب تک بھارت کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا اس وقت تک یہ ردعمل اور مزاحمت کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتارہے گا۔ اس مزاحمت اور ردعمل کا ذمہ دار کشمیریوں کو قرار دینے کی بجائے بھارت کو اپنی پالیسیوں اور طریقوں پر غور کرنا چاہیے۔ بھارتی قابض افواج سنگینوں کے سائے میں وقتی طورپر تو آزادی کی تحریک کو دباسکتی ہیں مگر اس کے ذریعے محبت کی فصل تو نہیں بوسکتے۔ گولیوں اور بارود سے تو نفرت کی فصل ہی بوئی جاسکتی ہے اور یہی بھارت کشمیر میں 70سالوں سے کررہا ہے۔
بھارتی قابض افواج کے ظلم وستم، وحشیانہ طاقت کے استعمال اور سفاکیت کی اصل داستان اور حقیقت تو اسی وقت سامنے آئے گی جب بھارتی افواج کشمیر سے نکلیں گی۔ آنکھیں پھوڑنے ، جسم کے اعضاء کو کاٹنے، عقوبت خانوں میں تشدد اور سفاکیت کے نت نئے طورطریقے اپنانے اور کشمیریوں کو مسلسل دبا کر رکھنے کے لیے روزانہ استعمال ہونے والے طریقوں نے عام کشمیریوں کی زندگی کو مسلسل اذیت اور ذلت میں تبدیل کردیا ہے۔ بھارتی قابض افواج روزانہ کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ ریپ، مظاہرین کو زندہ جلانے، گھروں اور کھیتوں کو فصلوں سمیت جلانے، ان کے کاروبار اور رہائشی زندگی کو تباہ کرنے کے سفاکیت اور وحشت پر مبنی اقدامات کرتی ہیں۔ وہ ایسا اقدام اٹھانے کے لیے تیار رہتی ہیں جس کے ذریعے کشمیریوں کو خوف میں مبتلا کیا جاسکے۔ ان کو نشان عبرت بنایا جاسکے اور ان کی زندگی کو جہنم میں تبدیل کیا جاسکے۔ 1989ء سے مسلسل کشمیری ایک ہی بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ بھارتی غلامی اور جبر سے تنگ آچکے ہیں۔ وہ آزادی چاہتے ہیں بھارتی حکمران ریاستی طاقت کے ذریعے مسلسل انہیں دبارہے ہیں۔ ریاستی جبر اور سفاکیت کی وجہ سے نوجوانوں میں نفرت اور غصہ کئی سال اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور پھر کسی بھی واقعہ کی بنیاد پر لاوا بن کر پھٹ پڑتا ہے ۔ تحریکیں کبھی بھی سیدھی لکیر کی طرح نہیں چلتیں۔ ان میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ کبھی شدت آجاتی ہے اور کبھی ٹھہراؤ مگر مسئلہ
اپنی جگہ موجود رہنے کی وجہ سے مسلسل سماجی دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ جب تحریکوں میں ٹھہراؤ آتا ہے اور ان کی شدت کم ہوجاتی ہے تو حکمران اسے اپنی فتح اور کامیابی گردانتے ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ تو عوامی مسئلہ نہیں ہے بلکہ چند شرارتی اور تخریب کار لوگوں کی کارستانی ہے۔ یہ عوامی مزاحمت اور وسیع البنیاد تحریک نہیں ہے بلکہ چند دہشت گردوں کی عسکریت پسندی کا اظہار ہے جسے طاقت سے کچلنا ضروری ہے۔ بھارت اس وقت یہی کچھ کررہا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی مزاحمت اور تحریک آزادی کو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے ساتھ جوڑ کر یہ کوشش کی ہے کہ دنیا اسے انسانی مسئلہ اور المیہ سمجھنے کی بجائے دہشت گردی کے تناظر میں دیکھے۔ ہمیں جذباتی بیانات اور تقریروں کی بجائے ایسی ٹھوس حکمت عملی اور لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب دیا جاسکے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی سفاکیت کو بے نقاب کیا جائے۔ اس مسئلے کو مذہبی بیانیے کی بجائے انسانی اور قومی آزادی کے بیانیے اور تناظر میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی رائے عامہ اور عوام کی حمایت حاصل کی جائے۔


ای پیپر