نئے دور کے مخمصے اور نئی نسل ۔۔۔؟
04 اپریل 2018 2018-04-04

’’اُس کا فون آنا تھا‘‘ میں انتظار میں تھا مگر انتظار طویل ہوتا چلا گیا۔ فون پر میرا دھیان تھا کہ SMS کی ٹون سنائی دی۔ یہ ایک نہایت بے ہودہ سا SMS تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے ایسا نہایت بے ہودہ SMS پڑھتے ہوئے ’’قے‘‘ آنے لگتی ہے، دل ’’خراب‘‘ ہوتا ہے۔ یہ ایک خاصے معزز دوست نے بھیجا تھا۔ ویسے وہ اب معزز نہیں رہا کیونکہ پچھلے مہینے کی پندرہ تاریخ کو اُس کی شادی سلونی صا برؔ سے ہو چکی ہے۔ سلونی صابرؔ مجھ سے شادی کی خواہش مند تھی۔ میں نے بتایا کہ میں شادی شدہ ہوں تو اُس نے موبائل فون کے گولڈن نمبر فروخت کرنے والوں کی طرح کہا ۔۔۔ ’’ایک اور کر لیں‘‘ ۔۔۔ وہ بھی کر چکا ہوں۔ میں نے جواب دیا تو بولی ۔۔۔ پھر کسی اچھے سے لڑکے کا نمبر دے دیں۔ میں خود ہی ٹرائی کر لوں گی۔ آپ کا ذکر تک نہیں ہو گا۔ بس خفیہ طور پر آپ میری مدد کرتے رہیے گا۔ کامیابی دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے (میں نے سلونی صابرؔ کو پاؤں سے سر تک دیکھا اور گھبرا سا گیا) ۔۔۔ پھر میں نے پسینہ میں شرابور اپنے گریبان میں جھانکا اور دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔ ’’آج کی لڑکیاں کتنی چالاک ہیں‘‘ ؟ ۔۔۔
میں نے نمبر کیا دیا، اُس نے ٹرائی کیا کرنی تھی۔ تین مرحلے خاصے مشکل ایک ہی جست میں طے کیے اور سلونی صابرؔ شادی شدہ لڑکیوں کی قطار میں کھڑی ہو گئی۔ ’’جھٹ منگنی پٹ بیاہ‘‘ سے بھی کہیں تیز رفتاری کے ساتھ یہ شادی طے پائی۔ ویسے سنا ہے جو جتنی رفتار سے جائے اُس سے کہیں تیزی سے واپس بھی آ جاتا ہے ۔۔۔؟! لیکن آج ’’دنیا داری‘‘ میں سائنسی قوانین نہیں چلتے ۔۔۔
مجھے تو اُس کے فون کا انتظار تھا۔ بیچ میں یہ بے ہودہ سا SMS آ گیا۔ میں چاہتا ہوں ایسے SMS مجھے کوئی نہ بھیجے مگر جب ایک دو دن ایسے میسج نہ آئیں تو میں اُداس ہو جاتا ہوں۔ عجیب طرح کی نفسیات ہے ہم موبائل فون رکھنے والوں کی۔ میری مراد اس قوم کی ہے اب تو ہر ہاتھ میں موبائل فون اور ہر زبان پر واپڈا والوں کے لیے گالیاں ہیں۔ قصور حالانکہ واپڈا والوں کا نہیں کسی اور کا ہے ۔۔۔ ’’ہم کسی اور ‘‘ کو کچھ دراصل کہہ نہیں سکتے کیونکہ اُن تک ہماری پکار نہیں پہنچ پاتی اور رسائی بھی نہیں ہے کسی کی اُن تک ۔۔۔ آپ نے کیا فرمایا ۔۔۔ جی نہیں زبان کا مسئلہ ہر گز نہیں ہے۔ اُن کو اردو، انگریزی، پنجابی اور سندھی زبان سب پر عبور ہے لیکن وہ عوام کی سننا نہیں چاہتے۔سننے سے پہلے ہی اُن کی ہنسی نکل جاتی ہے۔ اور ہنسی نکلنے سے پہلے ہی اُن کا دھیان نواز شہباز کی طرف چلا جاتا ہے کہ کیا ہوا جو ملک میں پھر سے اس سال گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ شروع ہو چکی ہے ۔۔۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے بعد دل ہی دل میں لوگ سوچ رہے ہیں کہ آنے والی گرمی زیادہ سختی کا باعث ہوں گی حالانکہ سوات کے جلسے میں عوام کا جم غفیر دیکھ کر کافی لوگوں کا ’’فیوز اُڑ چکا ہے‘‘ ۔۔۔
’’اُس کا فون آنا تھا‘‘ ۔۔۔ ارے ۔۔۔ یہ ایک SMS آیا ہوا ہے ۔۔۔’’میں خود کشی کرنے جا رہی ہوں‘‘ ۔۔۔ میں نے ایس ایم ایس پڑھا تو دل باغ باغ ہو گیا ۔۔۔ یہ تقریب کب، کہاں اور کتنے بجے بپا ہو گی؟! میں نے فون کر کے
سیدھا سوال کیا تو سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ ’’کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔؟ کونسی تقریب ۔۔۔؟!‘‘ ۔۔۔ ’’یہی خود کشی کی تقریب‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔ (مگر تھوڑی گھبراہٹ کے ساتھ!) ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ تو آپ اس انتظار میں ہیں کہ یہ خود کشی والا کام ہو ہی جائے۔ وہ کون سی ویب ہے جس پر خود کشی
کے آسان طریقے بتائے جاتے ہیں؟! ۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔ اور ہاں ۔۔۔ سنو اپنی لکھی کسی کتاب کا نام مت بتا دینا، میں جدید دور کی ماڈرن لڑکی ہوں۔ مزید بولی ۔۔۔ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔۔۔ محبت ڈاٹ کام یا پھر یہ ٹرائی کر لیں ۔۔۔ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔۔۔ ڈاٹ آزادی ڈاٹ کام ۔۔۔ میں کمپیوٹر پر ہی بیٹھی ہوں دوسرے والی پہلے ٹرائی کرتی ہوں۔ فون بند ہو گیا شاید غصے میں تھی ۔۔۔ یا پھر بہت جلدی تھی اُسے خود کشی کرنے کی ۔۔۔
بہت بد تمیز ہو تم ۔۔۔! اُسی کا تین منٹ بعد فون آ گیا۔ یہ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔۔۔ ڈاٹ آزادی ڈاٹ کام ۔۔۔ بہت آزاد قسم کی ویب سائٹ ہے۔ بچوں والے گھر میں یہ ویب سائٹ نہیں کھلنی چاہیے (ایسی بہت سی ویب سائٹس پر جلی حروف میں لکھا جانا ضروری ہے ’’صرف بالغوں کے لیے‘‘)۔ آپ نے شہباز شریف سے دو لیپ ٹیپ لیے تھے۔ آپ اب بچے تو نہیں ہو۔ طنزیہ انداز میں میں نے وضاحت کی تو ۔۔۔ ہنسنے لگی ۔۔۔ اچھا میں ڈاکٹر دردانہ سے فون پہ بات کرتی ہوں۔ پچھلے سے پچھلے سال اُس نے بھی خود کشی کی ناکام کوشش کی تھی۔ اُس سے طریقہ پوچھتی ہوں ۔۔۔ اور یہ بھی پتا کرتی ہوں کہ خود کشی کا ڈراوا دینے سے کیا یہ مشکل مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔۔۔؟!
اچھا ۔۔۔ میری تازہ غزل جو میں نے یوم مئی کے لیے لکھی ہے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ۔۔۔ وہ تو سنتی جا ۔۔۔ میں نے کہا تو ہمہ تن ہو گئی ۔۔۔ جلدی سناؤ ۔۔۔ پڑھے لکھے علم دوست لوگوں سے تعلق واسطے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مرتے مرتے بھی نظم سننے سے اکتاتے نہیں (یہ میوزک لورز قسم کے لوگ ہوتے ہیں)
لڑکے بے چارے آج کل لڑکیوں کو مناتے مناتے تھک جاتے ہیں۔ قصور واپڈا والوں کا ہے مگر غصہ لڑکیاں لڑکوں پر نکالتی ہیں۔ میں نے بار بار اس دھمکی کی وجہ پوچھی ۔۔۔ تو ہنسنے لگیں ۔۔۔ اصل میں میں نے بہت سی باتیں کرنا تھیں۔ اگر لائٹ ہو تو گھر والے خاص طور پر دادی جان ٹیلی ویژن پر بھارتی نہایت امیر ترین گھروں پر بنائے ڈرامے دیکھنے میں مگن رہتی ہیں اور بات کرنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آتی۔ جب لائٹ جاتی ہے تو مکمل خاموشی ہو جاتی ہے۔ اور پھر کھسر پھسر بھی صاف سنائی دیتی ہے اور لوگ اس ڈرامے پر توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔ وہ والا ڈرامہ چھوڑ کر ۔۔۔؟!
دو تین دن بعد اُس کا SMS پھر آیا ۔۔۔
’’شہزادے ۔۔۔ میں نے اب واقعی خود کشی کر لینی ہے کیونکہ میرے گھر والے مجھے منگنی کر کے پاکستان سے باہر بھیجنا چاہتے ہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر کیسے جاؤں ۔۔۔؟!‘‘
میں نے یہ SMS بار بار پڑھا اور بڑا دل برداشتہ ہوا۔ اُداسی کے ’’دورے‘‘ پڑنے لگے۔ وہ پاکستان سے باہر جا رہی ہے ۔ اُس کی منگنی بھی ہو رہی ہے۔ ایک اچھا تعلق تھا اگرچہ یہ بذریعہ موبائل فون ہی ہوا تھا مگر ایک دن ہم دونوں نے ملنا بھی تو تھا ۔۔۔ میں نے اُسے فون کیا ۔۔۔ بار بار کیا ۔۔۔ مگر اُس نے فون نہ اُٹھایا ۔۔۔ دل کہتا تھا کہ بے چاری وہ بھی تو اداس ہو گی۔ پریشان ہو گی، اُس کے دل پر بھی تو قینچیاں چل رہی ہوں گی ۔۔۔
میں نے اُسے SMS کیا۔ ’’تم ایک بار مجھے مل لو ۔۔۔ میں ظالم سماج کی یہ دیوار اکیلا ہی گرا ڈالوں گا اور تمہیں ہر گز ’’یہاں سے وہاں‘‘ نہیں جانے دوں گا۔ بس تم ایک بار مجھ سے مل لو‘‘ ۔۔۔ ’’میں مل تو لوں ۔۔۔ مگر تم شاید مجھے دیکھ کر گھبرا جاؤ ۔۔۔ یا شاید ۔۔۔؟‘‘ اس نا مکمل SMS کو میں نے کئی زاویوں سے دیکھا، غور کیا مگر ۔۔۔ میں ۔۔۔ کیا کروں ۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ ’’وہ اس قدر خوبصورت ہو گی ۔۔۔؟! ۔۔۔ کہ میں اُس کے حسن کی تاب نہ لا سکوں گا‘‘ ۔۔۔ میں نے بار ہا ۔۔۔ اس بات پر غور کیا ۔۔۔ سوچا سمجھا ۔۔۔ مگر کچھ پلے نہ پڑا ۔۔۔ یہاں تک کہ اُس رات میں نے اُس پر ایک غزل بھی کہہ دی ۔۔۔ جس میں اُس کے لازوال حسن کے تذکرے تھے۔ اُس کی بے مثال جوانی کی باتیں اور نہایت خوبصورت رومانوی آواز پر گفتگو ۔۔۔اتوار والے دن ہمارے محلے میں تقریباً سامنے سے دو گھر آگے ۔۔۔ مِٹھُو کے گھر میں ایک فنکشن تھا ۔۔۔ بہت سے انواع و اقسام کے کھانے پک رہے تھے ۔۔۔ مِٹھُو لوگ۔۔۔ تھوڑے کنجوس مشہور ہیں۔ محلے میں ایسا کوئی فیملی فنکشن ہو وہ محلے والوں کو اُس میں عام طور پر نہیں بلاتے ۔۔۔ میں نے پتا کیا ۔۔۔ تو دوستوں نے بتایا کہ مِٹھُو ۔۔۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آئر لینڈ جا رہا ہے ۔۔۔ گھر والوں نے سوچا اُس کی منگنی کی رسم بھی اُس کی تایا زاد عروسہ کے ساتھ کر دی جائے ۔۔۔
اتوار والے دن میں نے بہت سے درد ناک ۔۔۔ غصے والے مگر نہایت جذباتی SMS اُس کو بھیجے، کئی بار اُس کا نمبر بھی ملایا مگر وہ بھی اٹینڈ نہیں ہوا ۔۔۔
میرا دل گھبرا رہا تھا، میں بہت پریشان تھا کہ کہیں اُس نے خود کشی نہ کر لی ہو۔ میں نے اُس کے پچھلے سارے SMS بار بار غور سے پڑھے، اُن کے مفہوم پر توجہ دی، اُن کو باریک بینی سے دیکھا ۔۔۔ مگر کچھ بھی سمجھ نہ آیا ۔۔۔ یا اللہ خیر ۔۔۔ کہیں وہ دل برداشتہ ہو کر ۔۔۔؟! میں نے آنکھیں بند کر لیں، میں کیو نکر اُس کے بارے میں ایسی خوفناک منفی بات سوچ سکتا ہوں ؟! ۔۔۔ اس سے پہلے ۔۔۔ کہ وہ ایسا کرے ۔۔۔ میں گھبرا گیا ۔۔۔
شام ساڑھے چھ بجے اُس کا فون آیا نمبر کوئی اور تھا، آواز سے پہلے تو خاصی غمگین لگی ۔۔۔ مگر پھرہنسنے لگی ۔۔۔ محسنؔ خوش رہو ۔۔۔ میں نے گھر والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، میں کزن کے ساتھ منگنی کروا کے آئر لینڈ جا رہا ہوں؟‘‘ ۔۔۔ اس وقت آپ کے گھر کے سامنے ہوں ۔۔۔!
یہ آخری فقرہ مرد کی آواز میں تھا ۔۔۔ میں بھاگم بھاگ گھر سے باہر نکلا ۔۔۔ ہمارے گھر کے سامنے سے ایک بڑی سی گاڑی گزر رہی تھی جس میں مِٹھُو بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا تو ہاتھ ہلایا ۔۔۔ میں بھی آگے بڑھا تو اُس نے ایک سم میرے ہاتھ میں تھما دی۔ میں نے دیکھا تو یہ سم وہی تھی جس پر سے وہ مجھے فون کیا کرتی تھی اور SMS بھی ’’خودکشی‘‘ کی دھمکیوں والے ۔۔۔


ای پیپر