ملالہ ۔۔۔ اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت

04 اپریل 2018

چوہدری فرخ شہزاد

اپریل کا مہینہ ہمارے موسم کے لحاظ سے بڑا بے ایمان سمجھا جاتا ہے جہاں ہرطرف بہاروں کے رنگ اور پھول ہی پھول فضاؤں میں نغمے بکھیرتے نظرآتے ہیں شاید اسی لیے TSEliotنے کہا تھا کہ April is the cruellest Month"یعنی اپریل بڑا ظالم مہینہ ہے لیکن اپریل فول سے وابستہ بہت سے مغربی اعلیٰ ادیبوں کا کہنا ہے کہ اپریل میں بے وقوفیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہم نہ تو اہل مشرق کی طرح اپریل کو بے ایمان کہتے ہیں اور نہ ہی اہل مغرب کے اس عقیدے کے حامی ہیں کہ یہ ایک بے وقوف مہینہ ہے ۔
لیکن جب ہم پاکستان کے سیاسی منظر نامے کا کیلنڈر دیکھتے ہیں تو اس میں گزشتہ چند سالوں میں ہراپریل میں کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے جو مقتدرطبقوں کی مشکلات میں بیش بہا اضافہ کردیتا ہے مثال کے طورپر سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں اپریل 2016ء میں بریک ہونے والا پانامہ سکینڈل جسے شروع میں وہ محض ایک Media Hykeسمجھتے رہے ان کی حکومت کو تنکوں کے ڈھیر میں تبدیل کر گیا۔ اسی طرح گزشتہ سال اپریل میں مریم نواز اور میاں نواز شریف کی مری میں انڈیا کے اربوں پتی سٹیل ٹائی کون سجن جندال سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی جس کو مانے نہ مانے اس ملاقات نے سول ملٹری تعلقات کا حلیہ بگاڑ دیا۔ اس سال بھی اپریل نے اپنا ریکارڈ برقرار رکھا ہے بلکہ مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی ملالہ یوسف زئی پاکستان کے اچانک دورے اور سربراہ مملکت کے برابر پروٹوکول کے مزے اٹھارہی ہیں اور ہر آنکھ حیران ہے کہ اس دورے کا مقصد کیا ہے یہاں تک کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے دورے کے دوران آرمی چیف سے بھی ملاقات کریں گی یہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ ملالہ یوسف زئی کو 16سال کی عمر میں نوبل پرائز دیا گیا تھا جس کے ساتھ ملنے والی رقم کی مالیت ایک ارب روپے تھی (10ملین ڈالر) یہ ایوارڈ عموماً لوگوں کو عمر بھر کی تحقیق وتدریس کے بعد ایسے وقت جاکر ملتا ہے جب انسان کے لیے پیسے کی خواہش ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ زیادہ تر نوبل ایوارڈ حاصل کرنے والے سائنسدان اس کے ساتھ ملنے والی رقم اپنی یونیورسٹی کو عطیہ کردیتے ہیں یا اس سے کوئی نیا ریسرچ سنٹر بنا دیتے ہیں۔ وہ یہ پیسہ اپنے پاس نہیں رکھتے ان کے لیے ایوارڈ سے وابستہ عزت وتکریم ہی سارا کچھ ہوتا ہے لیکن ملالہ کے لالچی باپ ضیاء الدین یوسف زئی نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملالہ نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد لندن میں حامد میر سے انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ میرا چھوٹا بھائی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر تم نے کیا کیا ہے جس پر آپ کو نوبل انعام دیا گیا۔ یہ سوال ملالہ کے بھائی کے علاوہ پوری دنیا نے پوچھا جس کا تسلی بخش جواب موجود نہیں ہے اس ایوارڈ کے بعد دنیا بھر کے بڑے بڑے اداروں نے ملالہ کے لیے اپنے ایوارڈوں اور تجوریوں کے منہ کھول دیئے۔ پاکستان میں صدرپاکستان ممنون حسین سے زیادہ خوش قسمت اگر کوئی ہے تو وہ ملالہ یوسف زئی اور اس کے والد ضیاء الدین ہیں۔ ضیاء الدین نے مینگورہ سوات میں خوشحال سکول کے نام سے ایک سکول بنارکھا تھا اور وہ سخت مالی مشکلات کا شکار رہتا تھا ایک مغربی میڈیا گروپ کے ایک نمائندے کے توسط سے ا س نے اپنے تعلقات Build upکرنا شروع کئے جس کا آغاز گل مکئی کے ایک خیالی کردار سے ہوا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ ملالہ یوسف زئی ہے جوفرضی نام سے ڈائری لکھتی تھی حالانکہ اصل کہیں کہانی یہ تھی کہ گل مکئی کے نام سے لکھی جانے والی ڈائری ضیاء الدین خود لکھتا تھا اس وقت اسے بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن وہ اور اس کی بیٹی اتنے دولت مند ہوجائیں گے جہاں مزید دولت ان کے لیے بے معنی ہوجائے گی اب انہوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ اب ہمیں پیسہ نہیں بلکہ پاکستان کے اقتدار میں حصہ چاہیے اور وہ یہ ہرقیمت پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ہم میں سے سیاست کی اوٹ میں بہت سے لوگ یہ بات بھول بیٹھے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور سی پیک منصوبہ پاکستان کے مخالفین انڈیا، امریکا اور اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے۔ یہ قوتیں ملالہ یوسف زئی کو اگلے دس سال میں اتنا مقتدر بنا کر پیش کردیں گی کہ پوری دنیا میں اس کا نام اعتماد کی علامت سمجھا جانے لگے گا جس کے بعد اس کو پاکستان کی سیاست میں ایک چھاتہ بردار کی طرح اتارا جائے گا اور اگر پاکستانی عوام نہ سمجھ سکے تو ان پر ایک ایسی حکومت مسلط کردی جائے گی جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکہ کے حوالے کردے گی۔ لیبیا میں یہی ہوا تھا مگر اس کے باوجود معمر قذافی کو دنیا بھر میں نشان عبرت بنادیا گیا۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ملالہ یوسف زئی کی پاکستان میں Soft Launching میں سہولت کاری کے فرائض کون سی سیاسی جماعت کے حصے میں آئے ہیں۔ ملالہ پچھلے 6سال سے پاکستان آنے کی سرتوڑ کوشش میں تھی لیکن کوئی حکومت ایسا رسک لینے کے لیے تیار نہیں تھی حتیٰ کہ حکمران ن لیگ بھی 2013ء سے اب تک اس میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی کیونکہ عوامی سطح پر نامقبولیت کا خطرہ تھا۔ اب جبکہ ن لیگ ہرطرف سے خطرات میں گھری ہوئی ہے تو انہیں ملالہ کی شکل میں ایسی پیش کش کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے کہ انہوں نے ملالہ کو آزمانے کا فیصلہ کرلیا جس کے عوض انہیں ریلیف ملنے کے امکانات دکھائے گئے ہیں۔
دوسری طرف یہ بیانیہ بھی زیر گردش ہے کہ وزیراعظم عباسی کی چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات میں بریک تھرو نہ ہونے کے بعد حکمران جماعت نے اشتعال میں آکر ملالہ کوہری جھنڈی دکھا دی اگر یہ بات درست ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ ن لیگ نے ڈان لیکس سے کچھ نہیں سیکھا۔ اگر ملالہ یوسف زئی کی دورے کے دوران آرمی چیف سے ملاقات ہوجاتی ہے تو سمجھ لیں کہ نواز شریف کیلئے بیل آؤٹ پیکج زیرغور ہے اور اگر ملاقات نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس مرحلے پر فوج ابھی رضامند نہیں ہے البتہ ایک بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ملالہ نے پاکستانی سیاست میں خود کو ایک سٹیک ہولڈر کے طورپر اس صف میں شامل کرلیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی یہ پالیسی رہی ہے کہ جس خطے کے مسائل کو اجاگر کرنا مقصود ہو یا ان پر اپنے فیصلے مسلط کرنا ہوں وہاں کسی Dissidentیا منحرف شخصیت کو نوبل انعام دلوایا جاتا ہے جس کے بعد اس سے بیان دلوائے جاتے ہیں جو سارے سکرپٹڈ ہوتے ہیں مشرقی تیمور میں عیسائی اقلیت کے لیے الگ ملک کے قیام سے پہلے یہ کیا جاچکا ہے مگر مجال ہے کہ آج تک کشمیر میں کسی کو نوبل ایوارڈ سے نوازاگیا ہو۔
ہم نے ایک پرائیویٹ چینل پر ایک سینئر تجزیہ نگار جو حکمران لیگ سے وفاداری میں مشہور ہیں کو ملالہ کی شان میں قصیدہ گوئی کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کے اس مشہور شعر کو ملالہ سے منسوب کردیا کہ :
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
ان کا اشارہ وزیراعظم ہاؤس میں ملالہ کی اس تقریر سے تھا جس میں وہ آبدیدہ ہوگئی موصوف تجزیہ نگار نے آنسوؤں کے ان قطروں کی عظمت اتنی بلند کردی کہ جہاں سے آگے کوئی حدباقی نہیں رہتی۔ کاش کہ اس وقت کوئی انہیں روک کریہ کہتا کہ
اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
سوشل میڈیا پر جہاں ملالہ کے نام کے چرچے ہیں وہاں ان کے نام کے ساتھ ان کی سوانح نگار کرسٹینا لیمب کا نام بھی ہے جسے اوبامہ بن لادن کے نام سے جعلی ہوائی ٹکٹ بنوانے پر ملک بدر کردیا گیا تھا وہ جعلی طورپر ثابت کرنا چاہتی تھی کہ اوسامہ نے فلاں تاریخ کو پی آئی اے سے کراچی سے پشاور کا سفر کیا ہے۔ اسی اثناء میں کسی گستاخ ملالہ نے اپنی نوشتۂ دیوار (فیس بک وال ) پر احمد فراز کا مشہور شعر لکھ دیا۔
تہمت رگا کے ماں پہ جودشمن سے دادلے
ایسے سخن فروش کو مرجانا چاہیے

مزیدخبریں