دلیل کی سیاست
04 اپریل 2018 2018-04-04

اگر ڈکشنری میں دیکھا جائے تو سیاست دان کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ یہ حکومتی معاملات کو چلانے کے ماہر ہوتے ہیں اور حکومتی سائنس کا تجربہ ر کھتے ہیں اور سیاست کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں۔ یہ کمال کی بیان بازی بھی کرتے ہیں اور ان میں یہ خصوصیت بھی ہوتی ہیں کہ لوگوں میں اپنی ایک خاص شناخت او ر نام پیدا کرتے ہیں اور اپنے لئے راستے بھی نکالتے ہیں۔ یہ اپنی سیاسی جماعت کو پروان چڑھانے کے بھی استاد ہوتے ہیں اور اپنی پارٹی کی طرف سے جو بھی ٹارگٹ دیا جاتا ہے اس پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں ،، ویسے عام طو ر پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاست عبادت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ لوگ سیاست کاروبار کے لئے کرتے ہیں اور اپنی آمدن بڑھانے کے لئے ہر جائز نا جائز راستہ اختیار کرتے ہیں ۔
وہ سیاسی پارٹیاں بہت خوش قسمت واقع ہوتی ہیں جو ایسے ورکرز یا لیڈرز رکھتی ہیں جو ذاتی مفادات سے بالا ہوکر اپنے ملک ، عوام اور اپنی پارٹی کی عزت اور وقار کے لئے سوچتی ہیں اور کام کرتی ہیں ، سیاست کو عبادت سمجھتے ہوئے اپنے ملک ا ور عوام کی خدمت کرتی ہیں ۔
بحیثیت صحافی مجھے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی پالیسیوں سے اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر میں کسی بھی سیاست دان یا پارٹی میں کوئی مثبت کام دیکھوں تو ضرور اس کو داد دیتا ہوں ۔اگر چہ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کو عوامی حلقوں میں عا م طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ان میں چند ایسی پارٹیاں بھی ہیں جن کے پاس پڑھے لکھے اور کمیٹڈ لوگ موجود ہیں اور یہ لوگ ان جماعتوں کی نیک نامی کا سبب بنتے ہیں ۔ ان خوش قسمت پارٹیوں میں ایک جمعیت علماء اسلام (ف) بھی ہے جن سے خیبرپختونخوا لکی مروت کے سیاسی اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی پڑھی لکھی ممبر قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی منسلک ہے ۔ جنہوں نے سیاست میں آنے سے قبل پشاور یونیورسٹی سے کمیسٹری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اعزازی ڈگری حاصل کی او ر پھر 17سال تک فضائیہ کالج پشاور میں بطور سائنس کی استاد خدمات سر انجام دئے ۔
2002ء میں عملی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد شاہدہ اختر علی نے ہمیشہ منطق کی بات کی اور دلیل کی سیاست کی او ر وہ قومی اسمبلی کا فلور ہو یا قائمہ کمیٹی کی میٹنگز ہو ہر جگہ اپنی قابلیت ، ذہانت اور سچائی کی دھاک بٹھائی ۔ ہمیشہ کھری بات کی اور سیاست کے اصولوں پہ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔شاہدہ اخترعلی نے ہر فورم پر خواتین کی حقوق کی بات کی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کی واحد خاتون ممبر قومی اسمبلی ہے جس کو قومی اسمبلی کے اجلاس کو چیئر کرنے کا اعزاز بھی ملا ہے ۔
چونکہ میں ایک صحافی ہو ں اور فیلڈ میں اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں تو بحیثیت صحافی کئی سیاست دانوں کی جن میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہیں ،، کارکردگی اور ذہانت میرے سامنے ہے ان میں وہ ممبران بھی ہیں جو صرف اسمبلی میں خانہ پوری یا دیہاڑی لگانے آتے ہیں ۔ اور وہ بھی ہیں جو ملک اور قوم کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں اور اسمبلی کا ایک سیشن بھی مس نہیں کرتے اور ان ہی محنت کش اور حقیقی سیاست دانوں میں ایک شاہدہ اخترعلی ہے ۔ شاہدہ اخترعلی کی سیاست کو دیکھ کے مجھے ایک بادشاہ کی کہانی یاد آگئی ، کہانی کچھ یوں ہے ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کے حصوں کے لئے حاضر ہوا ۔
قابلیت پوچھی گئی ، کہا ! سیاسی ہوں ( عربی میں سیاسی ، افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ہیں ) بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی تو اسے خاص گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج بنا لیا ۔ چند دنوں بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا ، اس نے کہا ’’ نسلی نہیں ہے ‘‘۔۔۔بادشاہ کو تعجب ہوا ، اس نے جنگل سے سائیس کو بلا کر دریافت کیا ! ۔۔۔اس نے بتایا گھوڑا نسلی ہے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئی تھی یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ہے ۔۔۔مسؤل کو بلایا گیا ۔۔۔تم کو کیسے معلوم ہوا ، اصیل نہیں ہے ؟؟اس نے کہا ! جب یہ گھاس کھاتا ہے تو گائے کی طرح سر نیچے کرکے کھاتا ہے جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لے کر سر اٹھا لیتا ہے ۔۔۔بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ہوا۔۔۔مسؤل کے گھر اناج ، گھی ، بھنے دنبے اور پرندوں کا اعلیٰ گوشت بطور انعام بھجوایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کردیا ۔
چند دنوں بعد بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے میں رائے مانگی ! اس نے کہا ! طور و اطوار تو ملکہ جیسے ہیں لیکن شہزادی نہیں ہے ، بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے تو ساس کو بلایا اور معاملہ اس کے گوش گذار کیا ، اس نے کہا ! ۔۔۔‘‘ حقیقت یہ ہے تمھارے باپ نے میرے خاوند سے ہماری بیٹی کی پیدائش پر ہی رشتہ مانگ لیا تھا ، لیکن ہماری بیٹی چھ ماہ کی عمر میں فوت ہوگئی تھی ۔ چنانچہ ہم نے تمھاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا ‘‘۔بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا ! تم کو کیسے علم ہوا ؟؟ اس نے کہا اس کا خادموں کے ساتھ سلوک جاہلوں سے بدتر ہے ۔
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ہوا اور بہت سا اناج بھیڑ بکریاں بطو ر انعام دیں ۔ کچھ وقت گذرا ، مصاحب کو بلایا اور اپنے بارے میں دریافت کیا۔ مصاحب نے کہا جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔۔۔ بادشاہ نے وعدہ کیا ، اس نے کہا ! نہ تو تم بادشاہ زادے ہو، نہ تمہارا چال چلن بادشاہوں والا ہے ،بادشاہ کو غصہ آیا مگر جان کی امان دے چکا تھا ، سیدھا والدہ کے محل پہنچا ، والدہ نے کہا ’’یہ سچ ہے ، تم ایک چرواہے کے بیٹے ہو ، ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا‘‘۔ بادشاہ نے مصاحب کو بلایا ، اور پوچھا بتا تجھے کیسے معلوم ہوا ؟۔۔۔ اس نے کہا ! ’’بادشاہ جب کیسی کو انعام و اکرام دیا کرتے ہیں تو ہیرے موتی اور جوہرات کی شکل میں دیتے ہیں لیکن آپ بھیڑ بکریاں اور کھانے پینے کی چیزیں عنایت کرتے ہیں، یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ہوسکتا ہے ‘‘۔
شاہدہ اختر علی نے قومی اسمبلی کے فلور ، قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں سمیناروں اور کانفرنسوں میں ایسی چیزوں اور مسائل کو پوائنٹ آوٹ کیا ہے جو براہ راست عوام سے تعلق رکھتے ہو ۔ ان میں ایک پاکستان حلال فوڈ اتھارٹی کا قیام ہے جو شاہدہ اخترعلی کے ایکشن لینے کے بعد پارلیمنٹ سے اس سلسلے میں قانون سازی کی گئی اور آج پاکستان میں حلال اشیاء خورو نوش کے تعین کے لئے ایک باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ وجود میں آچکا ہے۔۔۔ ویلڈن شاہدہ اخترعلی !!!!!!
میری تجویز ہے کہ اہل قلم ان تمام لوگوں کو پروموٹ کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں جو اس ملک اور اپنی عوام سے مخلص ہوں۔


ای پیپر