ملالہ: باہمت لڑکی
04 اپریل 2018 2018-04-04

تقریباً ساڑھے 16سو سال پہلے الیگزینڈریا میں فلسفی تھیون ،اپنی بیٹی ہائی پیشیا کو انسانیت کی تعلیم دینے میں مصروف تھا۔ وہ یونیورسٹی آف الیگزینڈریا میں فلسفہ پڑھاتا تھا جبکہ ہائی پیشیا اسی یونیورسٹی میں ریاضی اور علم فلکیات کی استاد تھی۔ وہ بھی ایسا ہی کوئی دور تھا جب مذہب کے نام پر قتال جاری تھا ، ایک مذہب والے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو جہنم بھجوانے کیلئے ان کی گردنیں کاٹ کر اپنی غیر انسانی حس کا مزا لے رہے تھے اور جنت میں اپنے لئے گھر بھی بونس کے طور پر محفوظ کر رہے تھے۔ یہودیت کو ماننے والے کمزور پڑ رہے تھے جبکہ عیسائیت کے جیالے خونخوار ہوئے بیٹھے تھے۔ عیسائی مذہبی جنونیوں کا ماننا تھا کہ بائبل ہی خدا کا پیغام ہے اور انہیں اللہ کی تعلیمات ہر قیمت پر بنی نوع انسان کو دینی ہیں۔ جو اس حق کی آواز کو مانے گا وہ فلاح پا لے گا اور جو فلاح نہ پا سکے گا اسے ہم زبردستی حق کے راستے پر چلائیں گے۔ ہائی پیشیا بچپن سے اس جبر کے سائے میں بڑی ہوئی تھی مگر اس کے باپ تھیون نے اسے صرف یہی سمجھایا تھا کہ زندگی میں لوگوں کی ذاتیات سے بالاتر ہو کر کچھ ایسا کرنا ہے جس سے انسانیت کا فائدہ ہو۔ ہائی پیشیا نے اس دور کے ایک اور علمی گہوارے ’’اٹلی‘‘ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے وطن واپس آکر اپنی سائنسی دریافتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ہائی پیشیا انسانی تاریخ کی وہ پہلی سائنس بنیں جنہوں نے فلکیات کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ،اس نے ’’آسٹروایبل‘‘ نام کی ایک ڈیوائس تیار کی جس کی مدد سے ستاروں اور سورج کی پوزیشن کا پتہ لگتا تھا ، وہ دنیا کی پہلی خاتون سائنسدان تھی جس نے ریاضی کے ایڈوانس فارمولے ایجاد کئے ۔ایک طرف ہائی پیشیا اپنی دریافتوں میں مگن تھی دوسری طرف مذہبی جتھے کی نظر اس پر تھی ، اسے مجبور کیا گیا کہ وہ عیسائیت قبول کرے ، مگر اس کا کہنا تھا کہ مجھے میرے مذہب سے کوئی مسئلہ نہیں تو میں جبرا کیوں آپ کا مذہب اختیار کروں ۔واضح انکار پر مشتعل مذہبی جتھے نے ہائی پیشیا کو بغیر کسی ہتھیار کے مار مار کر قتل کر دیا ، اس کے جسم کے ٹکڑے کر دئیے۔ اس کے مردہ لاشے کو شہر کی گلیوں میں گھسیٹا اور آخر میں اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔ یہی نہیں مذہبی جنونیوں نے الیگزینڈریا کی لائبریری کو آگ لگا دی اور اس میں موجود ہائی پیشیا کا 90فیصد کام بھی جلا دیا گیا ، جس کی وجہ سے تاریخ دانوں کے بقول ریاضی کا سفر سینکڑوں سال پیچھے چلا گیا۔
غداراور کافر بنانے والی فیکٹریوں کی پروڈکشن پاکستان میں ایک بار پھر عروج پر ہے۔ کبھی ملالہ کی سلمان رشدی کے ساتھ تصویر پیش کی جاتی ہے ، کبھی اس کے کپڑوں میں ایلومیناٹی کی کانی آنکھ مل جاتی ہے ، کبھی اس کے کانوں کی میل سنبھال کر رکھنے والا ڈاکٹر ، کبھی اس کا پولینڈ کا باپ ، کبھی اس کا اٹالین قاتل ، کبھی بلیک واٹر کی اس کیخلاف سازش۔جبکہ ہمارا یقین تو پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ تاریخ خود کو دہر اتی ہے۔ کسی بھی نظریہ کو جب تلوار کے ذریعے ، گولی بندوق کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جائے گی تو قدرت کا نظام بھی اسی قانون کے تحت حرکت میں آئے گا۔ صرف اس سوال کا جواب دیا جائے کہ سوات میں پیدا ہونے والی ملالہ نے جب ہوش سنبھالا تو اسے اپنا جنت نظیر خطہ کس حال میں لگا۔ کیا اس وقت سوات سمیت شمالی علاقہ جات وغیرہ پر شدت پسندوں کا قبضہ نہیں تھا ، کیا وہ سکولوں کو تباہ نہیں کر رہے تھے ، کیا وہ جبر کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے ، کیا وہ خواتین کو ’’کوڑے‘‘ نہیں مار رہے تھے ، مردوں کو ڈاڑھیاں نہ رکھنے پر قتل نہیں کر رہے تھے اور سب سے بڑاسوال کہ کیا آج کے بڑے بڑے دانشور اس وقت طالبان کے ان اقدامات کی حمایت نہیں کر رہے تھے۔ ایک ایسے منظر نامے میں جب کمسن ملالہ نے آواز بلند کرنی شروع کی تو اس وقت کتنی آوازیں تھیں جو اس ظلم کے خلاف بلند ہو رہی تھیں۔ جناب اس وقت آپ کے بڑے بڑے شہروں میں کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں تھا تو پھر انہی طالبان کے درمیان رہتے ہوئے اس کمسن بچی نے آواز بلند کی تو آپ کو اس واحد آواز کے سنے جانے پر بھی اعتراض کیوں ہے ۔ اس کی آواز اس لئے سنی گئی کہ وہی واحد آواز تھی جو طالبان کی اپنی سلطنت سے ان کیخلاف بلند ہو رہی تھی۔ پھر وہ آواز گونجنا شروع ہوئی ، ہتھوڑا بن کر ظالموں کے سروں پر لگنے لگی ۔ عالمی میڈیا اس آواز تک پہنچ گیا ، ٹی وی پروگرام اور ڈاکومینٹریز بننے لگیں تو کیا یہ سب بے جا تھا۔
خود طالبان کے مطابق انہوں نے اس آواز کو خاموش کروانے کا منصوبہ بنایا ، کمسن ملالہ پر حملہ کیا ، وہ شدید زخمی ہو گئی اور شدت پسندوں کی طرف سے ایک کم سن بچی کی آواز بند کرنے کی کوشش ایک عالمی خبر بن گئی۔ ملالہ ظلم کیخلاف ایک استعارہ بن گئی اور پوری دنیا جو اس وقت دہشت گردی کیخلاف ایک آواز ہو رہی تھی اس نے ملالہ کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔
کیا ہوا اگر اس کی ڈائری اس کا باپ لکھتا تھا یا بی بی سی کا وسعت اللہ خان ، کیا ہوا اگر اس کا باپ انگلی تھام کر اپنی بیٹی کو ترقی کی منازل طے کروا رہا ہے۔ کیا برائی تھی اگر اس کو نوبیل انعام ملا۔ کیا اس سے پاکستان کی بدنامی ہوئی ، کیا اس نے دہشت گردوں کی آلہ کار بن کر دنیا میں بدامنی کی راہ ہموار کی۔ کیا اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس کا قد اتنا بلند ہو گیا کہ بونے جلنا شروع ہو گئی۔ کیا بلاگ لکھنا گناہ تھا ، طالبان کیخلاف آواز بلند کرنا گناہ تھا۔ تقریباً70 سالوں تک گول گول گھومنے کے بعد بھی ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ قوم کی عزت کیسے بحال ہوتی ہے؟ اقوام عالم دنیا میں اپنے ملک کو کیسے بہتر مقام پر فائز کیا جاتا ہے؟۔ کیسے ملک کی خدمت کرنے والے ، سچ بولنے والوں کو عزت دی جاتی ہے؟ ، کیسے اپنے ہیروز کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ’’ہاں ہم آپ سے پیار کرتے ہیں‘‘ اور کیسے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ قوم کی بیٹی کون ہوتی ہے ؟


ای پیپر