بجٹ :کچھ غیر سنجیدہ تجاویز
04 اپریل 2018

پچھلے سال بجٹ کے موقع پر ہم نے حکومت کو کچھ سنجیدہ تجاویز پیش کی تھیں۔ تقریباً ساری تجاویز و مشوروں کو ہی بجٹ کا حصہ بنا لیا گیاتھا۔یہ کوئی حیرت کی بات بھی نہیں ۔سچی بات کا اپنازور ہو تا ہے۔اور سچی بات اُس ہریانوی شاعر کے بعد ،جس نے کہا تھا کہ مچھر کی ناک کے نتھنے میں دو من سو نے کی نتھ، آپ کے اس خادم نے کی تھی۔بھئی ظاہر ہے ، بلکہ اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ جو فرد بیس کروڑ کی کوٹھی خرید رہا ہے ، اُس بیچارے کی جیب پر خاصا بوجھ پڑ چکا ہے۔اسی طرح بغیر این ٹی این کے ستر ، اسی لاکھ کی گاڑی خریدنا کوئی آسان بات نہیں۔این ٹی این نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اس دکھی انسان کی کبھی اتنی آمدنی نہیں ہوئی کہ وہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے قابل ہو سکے۔(خیال رہے پاکستان میں چار لاکھ سالانہ سے زائد آمدنی قابلِ ٹیکس ہوتی ہے)۔چار لاکھ سے کم آمدن پر ستر لاکھ کی گاڑی خریدنا ، جادوگری ہے، عمر بھر کا فاقہ کاٹ کر پیسہ پیسہ جوڑنا ہے یا....۔ہم نے دکھی انسانیت کے حق میں اگر چار لفظ گھسیٹ مارے تو یہ ہمارا فرض تھا۔ستائش، تعریف و تحسین تو حکومت کی بنتی ہے جس نے ان، مسکین ، مستحق غریب غربا کا خیال رکھا ۔اس لحاظ سے یہ سرکار سگ پرست نہیں بلکہ غریب پرست ہے۔
خیر ضروری معاملات تو طے پا چکے ہیں، اب کچھ چھوٹے چھوٹے مسائل رہ گئے ہیں ۔چھوٹے مسائل کا بڑا سکھ ہوتا ہے۔اس سال ، اگلے سال، اس دہائی یا اس صدی میں حل نہ بھی ہو پائیں تو کوئی حرج نہیں۔چھوٹے مسائل اور چھوٹے لوگ انتظار کر سکتے ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس اثنا میں اگر یہ مر بھی جائیں تو ان کی تعداد کم نہیں ہوتی بلکہ اور بڑھ جاتی ہے۔اس تناظر میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان میں ایک کروڑ بیس لاکھ گھر کم ہیں۔اُبلتی ہوئی اس آبادی کا کم از کم بھارت اور پاکستان کی مقتدرہ افسرِ شاہی کے پاس کوئی اندراج نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارت میں فٹ پاتھ پرایک سے زیادہ نسل پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے مراحل سے گزرچکی ہے۔ویسے پاکستان کے بابو بھی مثالی صورتِ حال اسی کیفیت کو سمجھتے ہیں جو بھارت میں ہے۔مہا رشیوں ، جوگیوں ، پیروں اور صوفیوں کے ان عقیدت مندوں کا خیال بمعنی ایمان ہے کہ برِصغیر کے طول و عرض سے جو انسان نما حشرات الارض ممبئی، کلکتہ، دہلی ، کراچی، لاہور اور ڈھاکہ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہر سال مُنہ اُٹھائے چلے آتے ہیں۔وہ اسی طرح ان مہا ساگر نما شہروں میں سما جائیں گے جیسے لبا لب بھرے پانی کے پیالے میں پھول کی پتی جگہ بنا لیتی ہے۔لیکن ہم انتہائی غیر سنجیدگی سے یہ درخواست پیش کرتے ہیں کہ ان خوش نصیب پنچھیوں کے لیے بھی اگر کسی آشیانے کا بندوبست ہو سکے تو غالباً قیامت نہیں آئے گی۔ ( سمجھ دار، سردوگرم چشیدہ ، گرگِ باراں دیدہ قسم کے خواتین و حضرات کا خیال ہے کہ ہر غریب کو اپنا ، اپنا گھر ملنا قیامت نہیں تو اور قیامت کیا ہوتی ہے)!
اس کا حل پُرانے شہروں میں اضافہ نہیں ، بلکہ نئے شہر ہیں۔کم از کم دس نئے شہر۔جن میں سے پانچ پنجاب میں، تین سندھ میں اور ایک ایک کے پی کے اور بلوچستان میں ہو سکتے ہیں۔پانچ لاکھ فی شہر کی منصوبہ بندی والے یہ علاقے ، بیک وقت سپیشل زون ، فنی و صنعتی مہارت کی تخصیص رکھنے والے اور اعلیٰ تعلیمی معیار کے حامل ہو سکتے ہیں۔تاہم یہ سارے کام پلاننگ مانگتے ہیں۔اور ہماری طویل مدت منصوبہ بندی کے انچارج جناب احسن اقبال ہیں۔وہی احسن اقبال ، جو ۲۰۱۱ء سے اپنے علاقے میں گرلز کالج بنوانا چاہ رہے ہیں اور تادمِ تحریر کامیاب نہیں ہوئے۔جو مولوی .... سری کے دھرنے کے دنوں میں بے دست و پابلکہ مجبورِ محض نظر آئے۔جن کے مجوزہ وژن ۲۰۲۵ء میں نئے شہر ہی نہیں ہیں۔اسی غیر سنجیدگی سے ہم نئے شہروں کی تعمیر تجویز کر رہے ہیں۔
ویسے سُنا ہے کہ نئے شہروں کی تعمیر ملکی جی ڈی پی میں ایک مستقل اضافے کی ضمانت ہوتی ہے۔
پاکستان میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے ایک وسیع خلا موجود ہے۔موجودہ وسائل اور ان کے غلط استعما ل کے ہوتے ان شعبوں کے تقاضے پورا کرنا امرِ محال ہے۔لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں ایک جوڑے اور ان کے پہلے دو بچوں کو مکمل طبی و تعلیمی سہولیات مہیا کریں۔ اس سے زیادہ کی ذمہ داری حکومت کو لینی بھی نہیں چاہیے۔تاہم اس کے لیے لازم ہے کہ ہر پاکستانی شہری کے پاس شناختی کارڈ ہو۔نادرا کو کوئی معقول سا وقت دیا جائے کہ ہر پاکستانی کو یہ سہولت مہیا کی جائے۔اس مدت کے بعد جو فرد اس ملک کا شہری ہونے دعویٰ کرے لیکن اس کے پاس شناختی کارڈ نہ ہو ،اُسے جیل بھیج دیا جائے۔رہائش ، تعلیم اور صحت کے ان معمولی مسائل کو حل کرنے کے بعد برآمدات و درآمدات کی جانب توجہ کرتے ہیں۔ ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے برطانوی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گنے کی وجہ سے ہم اپنے ملک کا بایو فیول استعمال کر سکتے ہیں۔لیکن غیر ملکی تسلط کی وجہ سے ہم اپنی مقامی پیداوار کی بجائے پٹرول درآمد کر رہے ہیں۔اس بیان کو معیار بنایا جائے تو دونوں ملک آج بھی ۔۔۔ہیں۔برازیل کی طرح ہم بھی اپنی گاڑیوں میں ستر ، اسی فیصد تک ایتھانول استعمال کر سکتے ہیں اور یہ استعداد کوئی نئی نہیں۔تاہم بین الاقوامی تجارت میں خسارے کی بُنیادی وجہ پٹرول کے ساتھ ساتھ ہماری پیداوارکی اقسام ہیں۔فرض کیا کہ آج ساری دُنیا عہد کر لے کہ ہم پاکستانی مصنوعات کے سوا کچھ استعمال نہیں کریں گے۔ہمارے پاس بیچنے کو ہے کیا؟کپاس، دھاگہ اور کپڑا۔اس خام مال کے علاوہ جن اشیا میں ہم ’ ویلیو ایڈیشن ‘ کرتے ہیں وہ سرجری کے اوزار، فٹ بال ، چمڑے کی جیکٹ ، دستانے اور جوتے ہیں۔(ویسے اس وقت ہماری سب سے بڑی ’ ویلیو ایڈیشن‘ لان کے برانڈڈ سوٹ ہیں۔جن کی مارکیٹ اب تک اندرون ملک ہی ہے)۔ جبکہ ہماری ذہانت اور دیانت کا یہ عالم ہے کہ ہم گندم، چینی اور چاول میں
بھی ذرہ بھر ملاوٹ کرنے کو تیار نہیں۔ہماری جگہ کوئی اورہوتا تو خدا جانے چینی سے مٹھائی ، شربت یا کیا کیا الم غلم برآمد کرتا پایا جاتا۔یہی حال گندم اور چاول میں ہوتا۔لیکن ہمارے کاروباری حضرات اپنی ریاست کے علاوہ اور کسی سے کمانا ، بُرا شگون سمجھتے ہیں۔ہم پوری غیر سنجیدگی سے تجویز پیش کرتے ہیں کہ جنگی ہتھیار ، صنعتی مشینری ، پٹرول اور اس کے متبادل مقامی سطح پر تیار کئے جائیں۔پھر کمپیوٹر سے متعلقہ شعبوں میں اربوں ڈالر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔روپے کی قدر گرا کر یا اپٹما کے مطالبات مان کر نہیں۔تاہم اس وقت سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی اصل قوت اس کا بڑھتا ہوا درمیانی طبقہ ہے۔لہٰذا توجہ بھی اقصادی طور پر اسی میدان میں ہو یہ ضروری ہے۔
یقین ہے کہ ان غیر سنجیدہ تجاویز کا بجٹ ساز اور پلاننگ کرنے والے ادارے وہی حشر کریں گے جو پچھلے ستر سال سے عوام کا کررہے ہیں۔لگے رہومُنا بھائی۔


ای پیپر