سازشی محاذ آرائی میں بقا
04 اپریل 2018

روس کے باغی جاسوس سر گئی سکریپال اور اُس کی بیٹی بولیویا کی برطانیہ میں ہونے والی موت عالمی تنازعے کا باعث بن گئی ہے۔ برطانیہ کا خیال ہے کہ سرگئی اور اُس کی بیٹی کو اعصاب شکن گیس کے ذریعے مارا گیا ہے اور اِن اموات میں روس ذمہ ملوث ہے مگر بات اِتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ امریکہ ہو روس یا برطانیہ وغیرہ سبھی ایک دوسرے ملک میں کئی بار کارروائیاں کر چکے ہیں۔ مذکورہ ممالک کی ایجنسیوں میں ٹکراؤ کی بے شمار مثالیں ہیں لیکن روسی جاسوس اور اُس کی بیٹی کی موت پر برطانیہ اور امریکہ نے جس شدید ردِعمل کا مظاہرہ کیا ہے ایسا روس ٹوٹنے کے بعد کم ہی ہوا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں یورپ اور امریکہ میں روس نے درجنوں بار حریف جاسوسوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جواب میں برطانیہ اور امریکہ نے روسی جاسوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے بے دریغ خون بہایالیکن کچھ عرصہ سے ٹھہراؤ ہے اسی لیے سفارتی روابط میں کمی لانے کا فیصلہ خاصہ حیران کُن ہے امریکی صدر ٹرمپ کی جیت میں روسی کردار کی باتیں ہوتے ہوئے اور دوطرفہ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی پر اتفاق کے باوجود سفارتی بحران خاصہ عجیب لگتا ہے۔
سرگئی سکریپال روس کا جاسوس تھا جو منحرف ہو کر برطانیہ میں رہائش پذیر ہو گیا اور اُسی کے لیے کام کرنے لگا۔ روس کی تقسیم کے بعد ایسی باتوں کی طرف کم ہی دھیان دیا جاتا ہے۔ چوتھی بار صدراتی انتخاب جیتنے والے ولادیمرپیوٹن کا جاسوس نیٹ ورک سے تعلق راز نہیں لیکن ملکی معیشت میں بہتری لانے کے بعد وہ عالمی تنازعات میں الجھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں روسی کردار کو وسعت دینے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے معیشت اور عالمی حیثیت کی بحالی کے لیے پیوٹن کے اقدامات حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں۔ اپنی کوششوں کے مثبت نتائج سے حوصلہ پاکر وہ اپنے ملک کو جنوب اور مشرقی ایشیا میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔ شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے بعد روس میں شرح آبادی بڑھانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں روسیوں کی بھاری سرمایہ کاری عیاں ہے جس کی بنا پر لندن کے کچھ علاقوں کو لینن گراڈکے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سفارتی تنازع اگر مزیدشدت ختیارکرتا ہے تو کیا برطانیہ روسی دولت سے محروم ہونا پسند کرے گا جس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ برطانیہ کی معیشت روسی دولت سے اچانک محروم ہونے کی متحمل نہیں بلکہ لڑ کھڑا سکتی ہے۔ تھریسامے کی کمزور حکومت کے لیے آسانی سے ایسا جھٹکا سہنا ممکن نہیں امریکی الفت میں بریگزٹ کے ذریعے یورپی یونین سے الگ ہو چُکیں اوررشیاکے سفارتکاروں کو ملک سے نکال چُکیں لیکن ادراک نہیں کر پا رہیں کہ روس یورپ میں نفاق کا خواہاں ہے۔ اسی لیے تعلق نہ ہونے کے باوجود بریگزٹ برطانوی فیصلے کوروس سراہتا ہے کیونکہ یورپ کی یکجہتی متاثر ہونے کا واضح امکان ہے۔ حالیہ سفارتی قضیے میں توقعات کے مطابق نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یونان نے سرگئی سکریپال اور اُس کی بیٹی پر حملے کی مزمت تو کی ہے لیکن روسی سفارتکاروں کو بے دخل کرنے سے گریز کیا ہے۔ آسٹریا جسے یورپ کا دل کہا جاتا ہے نے بھی روسی سفارتکاروں کونہیں نکالا جس کا مفہوم یہ ہے کہ روس کی توقع کے مطابق یورپ تقسیم ہو چکا ہے۔ اگر اٹھارہ ممالک نے روس سے سفارتی دوری اختیار کی ہے تو لگ بھگ اِتنے ہی ممالک روس سے تعلقات بہتر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ نیٹو رُکن ترکی اور امریکہ مراسم میں بگاڑ ڈھکی چُھپی حقیقت نہیں روس سے الگ ہونے والی ریاستوں سے امریکہ نے اگرمراسم اُستوار کر کے اثر بڑھایا ہے تو روس نے نیٹو اور یورپ اتحاد میں رخنہ ڈال کر مناسب جواب دیا ہے۔
روس کی معاشی اور فوجی قوت بننے سے امریکہ خائف ہے اسی لیے سفارتی جھگڑے کو کچھ لوگ انہونی نہیں سمجھتے۔ مارگریٹ تھیچر سے لے کر برطانیہ اور امریکہ ہر ایشو پر یکساں مؤقف اپنا رہے ہیں۔ واقفان حلقے برطانوی کارروائی کو امریکی منشا سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ چین کے بعد خطے میں روس کا طاقتور ہونا امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مگر یہ سوال دماغ میں کلبلانے لگا ہے کہ سرد جنگ کی طرح دنیا ایک بار پھر تقسیم ہو نے جا رہی ہے اور امریکہ واحد سُپر طاقت کا نظریہ زوال پذیر ہے۔ عالمگیر جنگ کا خدشہ نہ بھی ہو تب بھی کوئی ہمعصر طاقت ہو واحد عالمی طاقت کو گوارا نہیں۔
شام کی جنگ میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کو روس کرارا جواب دے چکا ہے افغانستان کے معاملے پر بھی روس اور امریکہ متضاد کردار کی بنا پرباہم الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ کہتا ہے روس طالبان کو ہتھیار دے کر عدمِ استحکام بڑھا رہا ہے۔ روس کہتا ہے امریکہ داعش جیسے دہشت گردوں کو مضبوط بنا کر خطے کو انتشارکی نذر کر رہا ہے۔ اِن حالات میں برطانیہ کا کندھا استعمال کرکے امریکہ نے روس کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن شاید مکمل نہیں وہ جزوی طور پر مقصد میں کامیاب ہو۔
پیوٹن نے موجودہ صدارتی الیکشن میں چھہتر فیصد سے زائد ووٹ لیے ہیں جس کا مطلب ہے روسیوں نے اُن کے فیصلوں کی بھاری اکثریت سے توثیق کی ہے۔ ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات کا جواب اسی لیے پیوٹن بھی جارحانہ لب و لہجے سے دے رہے ہیں اور برطانوی سفارتکاروں کو نکالنے کے ساتھ امریکی قونصلیٹ بند کرنے کی تجاویز طلب کر رہے ہیں ایک جاسوس کی ہلاکت کا واقعہ اب روس و امریکہ تنازع کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے آنے سے روس کے بارے معاندانہ رویے میں کمی کی سوچ کب کی ہوا ہو چکی بلکہ سچ یہ ہے کہ سابقہ صدور سے ٹرمپ کا روس بارے رویہ زیادہ جارحانہ ہے ۔ روس یا کوئی اور ملک امریکہ کی مطلق العنانی کو چیلنج کر ے ایسی صورت حال کوئی بھی امریکی صدر گوارا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے جب عالمی حالات سے واقف تجزیہ کار کہتے ہیں کہ برطانیہ نے جاسوس کی موت پر جس شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ امریکی تمناتھی جو مبنی برحقیقت محسوس ہوتا ہے لیکن ایسی حرکتوں سے امریکہ زیادہ عرصے تک واحد سُپر طاقت کا منصب برقرار رکھ پائے گا بہت مشکل ہے۔ روس کے علاوہ بھی اُسے کئی چیلنج کا سامنا ہے۔ شمالی کوریا اور چین کی نئی قربت امریکہ کے لیے خاصی پریشان کن ہے۔ چین بولنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے اقدامات سے امریکہ کو چڑانے میں مصروف ہے نا موافق حالات پر قابو پانا ٹرمپ جیسے جارح مزاج کی صلاحیتوں کا امتحان ہے بصورتِ دیگر امریکی قیادت میں کام کرنے والے نیٹو فوجی اتحاد کے مقابل روس، چین، ترکی کی صورت میں معاشی اتحاد معرضِ وجود میں آسکتا ہے جس کے خدوخال نظر آنے لگے ہیں۔ مضبوط فوج پر مضبوط معیشت کو فوقیت ہوتی ہے۔ داخلی طور پر انتشار کا شکاراور معاشی طور پر دگرگوں امریکہ کیاجوابی حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے اس سے مستقبل میں واحد سُپر طاقت کی بقا وابستہ ہے تنازعات کو ہوا دینے سے اور حریف ممالک کی تعداد بڑھانے سے گریز ہی امریکی معیشت کے لیے سود مندہے۔


ای پیپر